covid-19-pakistan

کورونا وائرس اور پابندیاں

EjazNews

این سی او سی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہوٹلوں کے اندر کھانے پر پابندی ہوگی۔

تمام تجارتی سرگرمیاں رات8بجے تک جاری رہ سکیں گی۔

ہفتے میں د و دن کاروباری سرگرمیاں نہیں ہوں ،دنوں کا انتخاب صوبے خود کریں گے۔

تمام قسم کی کھیلوں، ثقافتی پروگراموں، مذہبی اجتماعات پر بھی پابندی ہوگی۔

سینما ہال اور مزارات کی بندش پر سختی سے عملدرآمد ہوگا۔

پابندیوں کا اطلاق ان علاقوں پر ہوگا جہاں کورونا کی شرح 8فیصد سے زائد ہو گی

این سی او سے کے اعلامیے کے مطابق شادی اور دیگر اجتماعات صرف آوٹ ڈور منعقد کیے جا سکتے ہیں جبکہ ان میں تعداد زیادہ سے زیادہ مہمانوں کی تعداد 300 ہو سکتی ہے۔ ہر طرح کے انڈور اجتماعات پر مکمل پابندی ہو گی۔

پارکس بھی مکمل طور پر بند رہیں گے تاہم واکنگ یا جوگنگ ٹریکس سخت ایس او پیز کے ساتھ بدستور کھلی ہوں گی۔

یہ بھی پڑھیں:  کیا ٹک ٹاک پر پابندی ہماری قومی ایشو ہے؟

تمام سرکاری اور نجی دفاتر اور عدالتوں میں 50 فیصد عملے کی گھروں سے کام کرنے کی پالیسی جاری رہے گی۔

انٹرسٹی ٹرانسپورٹ 50 فیصد تعداد کے ساتھ چلانے کی اجازت ہوگی۔

ریل سروس 70 فیصد تعداد کے ساتھ چلائی جائے گی۔

تمام وفاقی اکائیاں ماسک پہننے کو یقینی بنائیں گی جبکہ عمل درآمد کے لیے اقدامات میں جدت لائی جائے گی۔

عدالتوں (سٹی، ڈسٹرکٹ، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ) میں لوگوں کی تعداد کم ہونی چاہیے۔

گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا، آزاد جموں و کشمیر اور دیگر سیاحتی مقامات میں قواعد پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا اور داخلی مقامات پر ٹیسٹ کی سہولت قائم کی جائے گی۔

میڈیا قابل سزا سرگرمیاں نمایاں کرے۔

اس کے علاوہ این سی او سی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ان پابندیوں پر مکمل عمل درآمد کیا جائے گا اور 11 اپریل 2021 تک یہ نافذ رہیں گی تاہم 7 اپریل کو جائزہ لیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:  مجھے پچھتاوا ہے کہ میں نے ٹی20 اور ون ڈے میچوں کی سیریز کیلئے پاکستان کا دورہ نہیںکیا،لیکن اس وقت یہ فیصلہ کرنا بہت مشکل تھا:سری لنکن کپتان

این سی او سی اجلاس میں چاروں صوبائی سیکرٹریوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔

جبکہ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ ہماری خواہش ہے کہ تعلیمی اداروں کی رونقیں بحال ہوں تاہم لاک ڈاون کے باعث بند کئے جانے والے تعلیمی اداروں کو کھولنے کا فیصلہ 24مارچ کوکیا جائے گا ۔