japanearthquake

جاپان میں زلزلے کے بعدسونامی کی وارننگ

EjazNews

جاپانی میڈیا کے مطابق زلزلے اور سونامی کی وارننگ جاری کیے جانے کے کچھ دیر بعد ساحل سے ایک میٹر بلند لہریں ٹکرائیں۔جاپان کی میٹرولوجیکل ایجنسی کے مطابق میاگی کے علاقے میں شام 6 بجے آنے والے زلزلے کے جھٹکے دارالحکومت ٹوکیو میں بھی محسوس کیے گئے اور اس زلزلے کی گہرائی 60 کلومیٹر تھی۔ابھی تک زلزلے سےکسی قسم کے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

جاپانی میڈیا نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ سونامی میں ایک میٹر سے زائد اونچی لہریں بلند ہو سکتی ہیں اور عوام ساحل یا اس کے قریب جانے سے گریز کریں۔

حکام کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ سمندر یا ساحل کے قریب جانا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، جو لوگ سمندر میں موجود ہیں وہ فوراً واپس آ جائیں اور ساحل سے دور چلے جائیں، لہریں بہت تیز ہوں گی لہٰذا وارننگ واپس لیے جانے تک سمندر میں داخل ہونے کی کوشش نہ کریں۔

یہ بھی پڑھیں:  مقبوضہ کشمیرمیں محرم الحرام کے جلوسوں پر پیلٹس اور آنسو گیس فائرنگ 40سے زائد افراد زخمی

بعدازاں سونامی کی اس وارننگ کی تنزلی کردی گئی جبکہ امریکی سونامی وارننگ سسٹم نے کسی بھی قسم کی سونامی کے خطرے کو رد کردیا ہے۔

سونامی کی وارننگ جاری ہونے کے بعد قریب ہی واقع رہائشی علاقے واٹری سے تقریباً 7ہزار افراد کو احتیاطاً محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک کسی بڑے نقصان کی اطلاع تو موصول نہیں ہوئی البتہ دو بوڑھی خواتین معمولی زخمی ہو گئیں۔

واقعے کے بعد کم از کم 200 گھر اور دکانیں بجلی سے محروم ہو گئیں جبکہ مقامی ریل سروس کو بھی وقتی طور پر بند کردیا گیا۔

آج آنے والے زلزلے کا مرکز 2011 میں آنے والے زلزلے سے بہت قریب تھا جس کی وجہ سے حکومتی اور نجی اداروں نے فوری طور پر ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھانا شروع کردئیے تھے۔

ایک دہائی قبل آنے والے اس زلزلے میں جاپان کو ناصرف بڑا جانی نقصان ہواتھا بلکہ اس زلزلے کے نتیجے میں جاپان کی نیوکلیئر ری ایکٹرز کو بھی بہت نقصان پہنچا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  افغانستان میں سیلاب کی تباہ کاریاں

2011 میں آنے والے زلزلے میں کم از کم 20 افراد ہلاک یا لاپتہ اور اس موقع پر 30 فٹ تک اونچی لہریں بلند ہوئی تھیں۔گزشتہ ماہ بھی جاپان میں ایک طاقتور زلزلہ آیا تھا جسے 2011 کے زلزلے کا آفٹر شاکس قرار دیا گیا تھا۔