women_education-pakistan

انہیں تو پرائے گھر جانا ہے، اُن کی تعلیم پر خرچ کیوں کریں؟

EjazNews

بلاشبہ معاشرے کی تکمیل خاندانوں سے ہوتی ہے اور خاندان کی تکمیل عورت سے ۔اسی لیے معاشرے کی فلاح و بہبود میں عورت کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ آج کے اس پرآشوب اور تیز رفتار دَور میںعورت کے لیے تعلیم کےساتھ تربیت لازم وملزوم ہے، تاکہ وہ شعور کی منزلیں با آسانی طے کر سکے۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خواتین کی تعلیم و تربیت کی اہمیت میں بھی اضافہ ہوتا جا رہاہے کہ ایک پڑھی لکھی ماں ہی نسل نو کو دنیا کے قدم سے قدم ملا کر چلنے کے قابل بنا سکتی ہے۔ مگربدقسمتی سے ہمارےیہاںکئی علاقوں میں آج بھی خواتین کی تعلیم کو اہمیت نہیں دی جاتی، آج بھی کئی بچیوں کے خواب، ان کے پلکوں ہی پر دم توڑ دیتے ہیں،اُڑان بھرنے سے قبل ، اُن کے پَر تراش دئیے جاتے ہیں۔ مُلک کہ بیش تر قبائلی اور دیہی علاقوںمیں لڑکیوں کو کم عُمری ہی میں بیاہ دیا جاتا ہے۔ بہت سے گھرانوںمیں لڑکیوں کی تعلیم ، بے جا آزادی کے مترادف سمجھی جاتی ہے اوراس کی بنیادی وجہ کم علمی، جہالت اور چند مَردوں کی یہ بزدلانہ سوچ ہے کہ ’’پڑھ لکھ کر عورت ہم پر حکمرانی کرنے لگے گی، باغی ہوجائے گی ۔‘‘ لڑکیوں کی تعلیم کی راہ میں حائل دوسرا سب سے بڑا مسئلہ یہ فرسودہ سوچ ہے کہ’’انہیں تو پرائے گھر جانا ہے، اُن کی تعلیم پر خرچ کیوں کریں۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:  جذبات کو نرم اور قابل ستائش بنانے کے اصول

ان حالات میں اس سوچ کو عام کرنے کی شدید ضرورت ہے کہ عورت صرف گھر ہی نہیں سنبھالتی، بلکہ نسلوں کو پروان چڑھاتی ہےکہ اگرمرد کے ذریعے علم، گھر کی دہلیز تک آتا ہے، تو عورت کے ذریعے علم نسلوں تک سفرکرتاہےــ۔ اگرعورت ہی تعلیم وشعور سے عاری ہوگی، تو ایک مکان، گھر کیسے بن پائے گا۔بظاہر کمزور نظر آنےوالی ایک عورت کی زندگی ماں، بہن، بیٹی، بہو، بیوی جیسے مختلف کرداروں میں ڈھلی ہوتی ہےاورہر کردار مشکلات سے بھرپورہے۔ہر روز نت نئے چیلنجز اس کے منتظر ہوتے ہیں، جن سے کامیابی سے نمٹنا صرف ایک با شعور عورت ہی کے بس کی بات ہے۔ وگرنہ گھر بکھرتےدیر نہیں لگتی۔

بچوں کی کردارسازی میں ماں کا کردار سب سے اہم ہے ۔یہی وجہ ہے کہ غلطی پر ماں سب سے پہلے ڈانٹتی ہے، اگر وہ سختی نہ کرے، دل پر پتھر رکھ کر بچّے کی سر زنش نہ کرے، اولاد کی غلطیوں کو نظر انداز کرتی چلی جائے، تو اس کی اولاد گمراہ ہوسکتی ہےکہ ایک بچے پر اپنی ماںسے زیادہ کسی اور نصیحت کا اثر نہیں ہوتا، جب ہی توماں کی گود کو پہلی درسگاہ سےتعبیر کیا گیا ہے۔ماں، اولاد کی نہ صرف جسمانی ، بلکہ روحانی پرورش بھی کرتی ہے ۔ اُس کی ہرعادت ، بول چال ،سلیقہ اور کردار پھربچے کی شخصیت میں نظر آتا ہے۔ کائنات کےخالق نے جہاں عورت کو ماں کی صورت ایک عظیم مقام پر فائز کیا ہے، وہیں اس مقام کے ساتھ نسل نو کو صحیح راہ پر چلانے کی ذمہ داری بھی سونپی ہے۔ویسے تو ماں چاہے تعلیم یافتہ ہو یا غیر تعلیم یافتہ، ہر حال میں اپنی اولاد کے لیےکسی ڈھال، استاد سے کم نہیں ہوتی ، لیکن بالخصوص آج کے زمانے میں ماں کا تعلیم وتربیت یافتہ ہونا از حد ضروری ہے کہ ایک پڑھی لکھی ماں ہی آج کے بچّوں کو بہتر طور پر سمجھ سکتی ہے،اُن کی بہتر تربیت کر سکتی ہے۔تعلیم یافتہ ماںبچّے کی صحت سے وابستہ مسائل ، تعلیمی دشواریوں ،ذہنی کیفیات سے آشنا ہوتی ہے۔اسے زمانے میں آنے والی تبدیلیوںکاادراک ہوتا ہے۔ضرورت پڑنے پروہ ’’باپ‘‘ بن کر گھر بھی چلاتی ہے، مگر اولاد کی تعلیم ادھوری نہیں رہنے دیتی۔

یہ بھی پڑھیں:  غیر رسمی شعبہ اورہوم بیسڈ ورکر خواتین کی حالت زار