Jo_biden_election

ایک مرتبہ پھر روس کے ساتھ ایران کو الیکشن میں مداخلت کا ذمہ دار ٹھہرایا امریکہ نے

EjazNews

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق امریکی خفیہ ادارے نے کہا ہے کہ روس کے صدر ولادیمیر پوٹن نے 2020 انتخابات میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جتوانے کے لیے صدرارتی الیکشن مہم میں ان کے حریف جو بائیڈن پر الزامات لگا کر جوڑ توڑ کروانے کی کوشش کی۔اس بات کا اندازہ منگل کو الیکشن میں مداخت کے حوالے سے جاری ہونے والی 15 صفحات پر مشتمل آفس آف دی ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس رپورٹ میں لگایا گیا۔

رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اتحادی روس سے تعلقات رکھنے والی یوکرائن کی شخصیات کی طرف سے بائیڈن پر لگائے جانے والے الزامات کو بڑھاوا دیتے ہوئے ماسکو کے ہاتھوں میں کھیلتے رہے۔

امریکی خفیہ ایجنسیوں کے مطابق ووٹ ہتھیانے کے لیے اور طریقے بھی آزمائے گئے جن میں ایران کی طرف سے ٹرمپ کی حمایت کم کرنے کے لیے ایک خفیہ مہم چلائی گئی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق صدر باراک اوباما کی طرف سے ایران کے ساتھ کیے جانے والے بین الاقوامی معاہدے کو منسوخ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  چین کو پہلے ہی کہا تھا اگر ڈیل نہ کی تو بہت نقصان ہوگا:ڈونلڈ ٹرمپ

اس رپورٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے اتحادیوں کی جانب سے لگائے گئے ان الزامات کو بھی رد کیا گیا ہے جن کے تحت کہا گیا تھا کہ چین نے جو بائیڈن کی حمایت میں مداخلت کی۔

رپورٹ کے مطابق بیجنگ نے ایسی کوئی کوشش نہیں کی۔ چین نے امریکہ کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کی اور الیکشن سے فائدہ اٹھانے کی ایسی کوئی کوشش نہیں کی۔

امریکی حکام نے کہا کہ کیوبا، وینزویلا اور حزب اللہ نے بھی الیکشن پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی ،لیکن ہمارا اندازہ ہے کہ ایران اور روس کے مقابلے میں ان کوشش بہت محدود تھی۔

واشنگٹن میں چین، روس اور کیوبا کے سفارت خانوں اس حوالے کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ اقوام متحدہ میں ایرانی مشن اور وینزویلا کی وزارت اطلاعات نے بھی اس پر کوئی رائے نہیں دی۔

واضح رہے کہ ماسکو، بیجنگ اور تہران ماضی میں اس طرح کے الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  مٹھی بھر دہشت گرد دنیا کو یرغمال نہیں بنا سکتے ، براک اوباما