imran khan

زیتون کی پیداوار کے اثرات صرف خیبرپختونخوا تک محدود نہیں رہیں گے:وزیراعظم

EjazNews

نوشہرہ میں زیتون کی شجر کاری کے سلسلے میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا پاکستان کو مختلف چیلنجز درپیش ہیں اس میں سب سے بڑا خوراک کا تحفظ ہے ایک وقت تھا کہ ہم گندم برآمد کرتے تھے اور گزشتہ 2 سال کے عرصے میں پہلے ہم نے 30 لاکھ ٹن گندم درآمد کی اور اس مرتبہ 40 لاکھ ٹن گندم درآمد کی گئی اور اسی طرح چینی بھی درآمد کرنی پڑی۔

انہوں نے کہا کہ زیتون کی پیداوار کے اثرات صرف خیبرپختونخوا تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس کا اثر پورے پاکستان پر ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ دوسرا مسئلہ زرِ مبادلہ کے ذخائر کا ہے، ہم دنیا سے جو درآمد کرتے ہیں اور جو دنیا کو برآمد کرتے ہیں اس میں بہت فرق ہے جو اب کم ہوگیا ہے لیکن جب حکومت ملی تھی تو پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا خسارہ درپیش تھا، 60 ارب ڈالر کی درآمد کرتے تھے اور برآمدات کا حجم صرف 20 ارب ڈالر تھا۔

وزیراعظم نے کہا کہ ابھی ہماری برآمدات بڑھی ہیں اور درآمدات ہم نے کم کی ہیں لیکن یہ بھی ہمارے لیے بہت بڑا چیلنج ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو درپیش تیسرا سب سے بڑا مسئلہ ماحولیاتی تبدیلی ہے، پاکستان بدقسمتی سے ان 10 ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  کلائمنٹ چینج میں پائیدار ترقی پاکستان نے2030ء کا ہدف 10سال پہلے حاصل کرلیا

ان کا کہنا تھا کہ ہماری آبادی بڑھ رہی ہے اور دنیا میں دوسری سب سے بڑی نوجوان آبادی ہے انہیں روزگار فراہم کرنا ہے یہ بھی بہت بڑا چیلنج ہے، شہروں میں آلودگی بڑھ رہی ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 10 ارب سونامی کا مقصد یہ ہے کہ آگے آنے والی نسلوں کی موسمیاتی تبدیلیوں سے حفاظت کی جائے، ان کے مستقبل کو محفوظ بنایا جائے۔

انہوں نے کہ والدین کو اپنے بچوں کے لیے اور نوجوانوں کو اپنے مستقبل کے لیے اس 10 ارب درخت سونامی پروگرام میں شرکت کرنی چاہیے کیوں کہ پوری دنیا میں موسمیاتی تبدیلی بہت بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ زیتون کی شجرکاری کا مقصد یہ ہے کہ ملک میں درخت لگائے جائیں اور اس سے زرِ مبادلہ آسکتا ہے، جس پیمانے پر ہم یہاں زیتون کی شجرکاری کررہے ہیں اس سے پاکستان اپنا قیمتی زرِ مبادلہ باہر سے خوردنی تیل منگوانے پر خرچ کرنے کے بجائے خود تیار کرسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے

انہوں نے کہا کہ کوہِ سلیمان کا خطہ، بلوچستان کے میدانی علاقے اور خیبرپختونخوا کے اکثر علاقے ایسے ہیں جہاں کچھ اور اگ نہیں سکتا وہ زیتون کی کاشت کے لیے بہترین ہیں، اس سے نہ صرف ان علاقوں میں طویل العمر درخت اُگے گا بلکہ اسے ہم برآمد کرسکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کی شجرکاری سے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور ہمارے ڈالر بچیں گے، اسپین سے زیتون کا تیل بہت ایکسپورٹ کیا جاتا ہے لیکن پاکستان میں اس سے سے زیادہ صلاحیت موجود ہے، ہم دنیا میں زیتون کے سب سے بڑے برآمد کندگان میں شامل ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس سے ہمارے شہروں میں آلودگی کا مسئلہ بھی حل ہوگا، اس کے علاوہ جاپانی طریقہ کار سے اربن پلانٹیشن کی جارہی ہے جس سے 30 سال کے بجائے 10 سال میں درخت پروان چڑھ جاتے ہیں اور آکسیجن بھی زیادہ دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  لاہور قلندرز نے ملتان سلطان کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد شکست دے دی

ان کا کہنا تھا ہم اس پروگرام میں پھلوں کے درخت شامل کیے جائیں گے جس سے لوگوں کے روزگار کا مسئلہ حل ہوگا، پاکستان میں 12 موسم ہیں جس کی وجہ سے یہاں مختلف درخت اُگائے جاسکتے ہیں جس سے آمدنی میں اضافہ ہوگا اور اس کے لیے پاکستان کے مختلف علاقوں کی زوننگ کی جائے گی۔

قبل ازیں وزیراعظم نے ضلع نوشہرہ میں 10 بلین ٹری سونامی پروگرام کے تحت پودا لگا کر زیتون کی شجرکاری کا آغاز کیا، اس موقع پر ان کے ہمراہ وزیر دفاع پرویز خٹک، وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان اور گورنر شاہ فرمان بھی موجود تھے۔