British India

برٹش انڈیا کے دور میں حکومت اور انتظام

EjazNews

گورنمنٹ :
چونکہ شہنشاہ ہندوستان برطانیہ عظمیٰ و آئر لینڈ کے بھی بادشاہ ہیں۔ اس لیے وہ انگلستان میں تشریف رکھتے ہیں۔ وہاں سلطنت کے کاروبار کا انتظام کرنے کے لیے دو بڑی بڑی مجلسیں بادشاہ کی معاون ہیں جنہیں پارلیمنٹ کہتے ہیں۔ ان میں سے ایک کا نام دارالامرا (ہاﺅس آف لارڈز) ہے جس کے 218 ممبر ہیں اور دوسری کا نام دارالعوام (ہاﺅس آف کامنز) اس کے 670 ممبر ہیں۔ کل قانون پارلیمنٹ میں بنتے ہیں اور بادشاہ سلامت ان کی منظوری دیتے ہیں۔

برطانیہ عظمیٰ کی حکومت کے واسطے بادشاہ کا ایک وزیراعظم ہوتا ہے جو ہمیشہ دارالعوام میں سے لیا جاتا ہے۔ وہ اپنی مدد کے لیے اور وزراءبھی دارالعوام میں سے ہی مقرر کرتا ہے۔ ان میں سے ہر ایک کے سپرد ایک ایک محکمہ ہوتا ہے۔ انہی وزیروں میں سے ایک کی تفویض میں ہندوستان کی سلطنت کے کاروبار ہیں۔ اسے ہندوستان کا سیکرٹری آف سٹیٹ کہتے ہیں۔ اس کی امداد اور مشورے کے لیے ایک کونسل ہے جسے انڈیا کونسل کہتے ہیں۔ 1911ءسے اس کونسل کے تیرہ ممبر ہیں جن میں سے دو ہندوستانی ہیں ایک ہندو اور ایک مسلمان۔ یہ دونوں بھی انگلستان میں رہتے ہیں۔ باقی سب ایسے انگریز اہلکار ہیں جو کئی کئی سال ہندوستان میں رہ چکے ہیں اور ملکِ ہند اور اس کے باشندوں کو بخوبی جانتے ہیں۔

مملکتِ ہند میں شہنشاہِ معظم کے ایک نائب یا وائسرائے رہتے ہیں جو ان کے بجائے حکومت کرتے ہیں۔ جب کبھی انہیں جھٹ پٹ کوئی نہایت ضروری کام کرنا ہو تو وہ سیکرٹری آف سٹیٹ کی خدمت میں تار بھیج کرمنظوری حاصل کر لیتے ہیں۔

وائسرائے کو گورنر جنرل بھی کہتے ہیں۔ وہ علیٰ العموم اعلیٰ طبقہ کے امرا میں سے ہوتے ہیں اور قاعدہ کلیہ کے مطابق پانچ سال تک ہندوستان میں حکمران رہتے ہیں۔ بادشاہ کے نمائندہ ہونے کی حیثیت سے سب راجہ و نواب دربار حضور وائسرائے کے سامنے اسی طرح نذریں گزارتے ہیں جیسے خود ذاتِ شہنشاہ کے حضور میں۔ جس طرح انگلستان میں بادشاہ سلامت مجرموں کو معافی دیتے ہیں اسی طرح صرف انہیں ہی یہ اختیار حاصل ہے کہ اگر مناسب جانیں تو کسی ایسے شخص کے جرم کو معاف فرمائیں جس کے لیے سزائے موت تجویز ہو چکی ہو۔

وائسرائے کی امداد کے لیے دو کونسلیں ہوتی ہیں۔ ان میں سے ایک تو مختصر سی صرف سات ممبروں کی کونسل ہے جس میں کمانڈر انچیف (سپہ سالار افواج) ہند بھی شامل ہوتے ہیں۔ 1914ءمیں ان ممبروں میں سے ایک شریف ہندوستانی بھی تھے۔ اس کونسل کا نام ایگزیکٹو کونسل (انتظامی مجلس) ہے۔ اس کے جلسے چھ مہینے تو دہلی میں ہوتے ہیں جو اب پھر مغل شہنشاہوں کے عہد کی طرح ہندوستان کا دارالسلطنت ہے۔ باقی چھ مہینے یعنی مئی سے اکتوبر تک کوہ شملہ پر اس کا انعقاد ہوتا ہے۔ جہاں کی آب و ہوا سرد اور صحت بخش ہے۔ ہر ہفتے اس کونسل کا جلسہ کم سے کم ایک دفعہ ضرور ہوتا ہے کونسل کے ہر ایک ممبر کے ماتحت ایک ایک ڈیپارٹمنٹ (محکمہ) ہے جس میں ایک ہی قسم کا کام سرانجام پاتا ہے۔ ایسے کل آٹھ صیغے ہیں۔
(1) محکمہ خارجہ (فارن ڈیپارٹمنٹ) جس کا تعلق برٹش انڈیا کی بیرونی ریاستوں کے ساتھ ہے مثلاً ہندوستان کی محروسہ مقامی ریاستیں افغانستان اور ہندوستان سے باہر کے ممالک غیر۔

(2) محکمہ داخلہ (ہوم ڈیپارٹمنٹ) جس میں ہندوستان کی حکومت عامہ اور بالخصوص عدالتوں، جیل خانوں اور پولیس کے متعلقہ کاروبار ہوتے ہیں۔
(3) محکمہ مال گزاری و زراعت جو زراعت، مالیہ زمین، امدادِ قحط زدگان، جنگلات اور پیمائش کے متعلق کارروائی کرتا ہے۔
(4) محکمہ تجارت و حرفت جس میں ملک کی اندرونی و بیرونی تجارت، ریل، ڈاک، تار، بندرگاہوں، جہازوں اور محصولوں کے معاملات تصفیہ پاتے ہیں۔
(5) محکمہ مال ان تمام امور کی نسبت کارروائی کرتا ہے جو نقدی ٹکسالوں، بینکوں، سٹامپوں، نوٹوں، سرکاری ملازموں اور افسروں کی تنخواہوں اور پنشنوں نیز نمک اور افیون سے تعلق رکھتے ہیں۔
(6) محکمہ تعمیرات عامہ یہ صیغہ اسی ممبر کے ماتحت ہے جس کے سپرد محکمہ مال گزاری و زراعت ہے۔ اس میں سڑکوں، نہروں اور سرکاری عمارات کا کام سرانجام ہوتا ہے۔
(7) محکمہ تعلیم اور لوکل سیلف گورنمنٹ اس کا تعلق تعلیم، سکولوں، کالجوں، ڈسٹرکٹ اور میونسپل بورڈوں کے ساتھ ہے۔
(8) محکمہ قانون سازی (لیجسلیٹو ڈیپارٹمنٹ) یہ محکمہ وہ تمام قانون بناتا ہے جو بعد میں کونسل و اضعان آئین و قوانین غوروخوض کر کے منظور کرتی ہے۔
اس مختصر ایگزیکٹو کونسل کے علاوہ جو مندرجہ بالا سارے کام کرتی ہے۔ دوسری بڑی کونسل و اضعات آئین و قوانین کی ہے۔ ایگزیکٹو کونسل کے سب ممبر اس کے رکن ہوتے ہیں۔ ان کے علاوہ اور شرفائے ملک بھی، اب اس کے کل 68 ممبر ہیں ان میں سے 36 سرکاری اور 32 غیر سرکاری۔ جن میں سے کچھ تو ہندو ہیں اور کچھ مسلمان۔ یہ کونسل سارے برٹش انڈیا کے لیے قانون بناتی ہے۔ اس کے کل اجلاس پبلک ہوتے ہیں۔ جلد بازی سے کوئی نیا قانون نہیں بنا لیا جاتا۔ جس قانون کے بنانے کی تجویز ہوتی ہے اسے پہلے اخبارات کے ذریعے سے انگریزی میں اور ہندوستان کی مختلف زبانوں میں شائع کر دیا جاتا ہے تاکہ ہر ایک کو معلوم ہو جائے کہ کیا ہو رہا ہے اور اگر کسی کے حق میں کوئی مضر بات ہو تو وہ اس پر اعتراض کر سکے۔ پھر اس مسودہ¿ قانون پر کونسل غور کرتی ہے۔ ممبر اپنی اپنی رائے ظاہر کرتے ہیں۔ بعدازاں جب وہ پاس ہو جاتا ہے تو قانون بن جاتا ہے۔
لیجسلیٹو کونسل کا کوئی ممبر پبلک معاملات کے بارے میں سوال کر سکتا ہے۔ سالانہ تخمینہ جات آمدو خرچ سال میں ایک دفعہ غور کے لیے اس میں پیش ہوتے ہیں۔ وہ پڑھے جا چکے ہوتے ہیں تو ایک سرکاری ممبر ان تمام امور کو مفصل بیان کر دیتا ہے جو وضاحت طلب ہوں۔ کوئی کام پوشیدہ طور پر نہیں کیا جاتا اور نہ کوئی بات مخفی رکھی جاتی ہے۔ قانون بنانے ملک کی آمد و خرچ اور ٹیکسوں کے بارے میں جو کچھ گورنمنٹ کرتی ہے وہ سب لوگوں کو بخوبی معلوم ہو جاتا ہے۔

صوبہ دار گورنمنٹ:
زمانہ قدیم میں ہندوستان بہت سی سلطنتوں اور مملکتوں میں منقسم تھا۔ شہنشاہان مغلیہ کے عہد میں ان کی سلطنت صوبوں میں تقسیم کی گئی تھی۔ اب بھی اسی طرح برٹش انڈیا پندرہ صوبوں میں منقسم ہے۔ جن میں سے دس تو بڑے بڑے ہیں اور باقی چھوٹے چھوٹے۔
بڑے بڑے صوبے یہ ہیں۔
(1) بنگال (2) مدراس (3) بمبئی (4) صوبہ جات متحدہ (5) بہار و اڑیسہ (6) پنجاب (7) ممالک متوسط (8) برما (9) آسام (10) شمال مغربی سرحدی صوبہ اور چھوٹے چھوٹے صوبے یہ ہیں ۔ (11) دلی (12) اجمیر و مہرواڑہ (13) برٹش بلوچستان (14) کورگ (15) جزائر انڈمان و نکوبار۔
ان صوبوں میں ہر ایک کی جدا جدا گورنمنٹ ہے مگر وہ سب گورنمنٹ آف انڈیا کے ماتحت ہیں۔ ہر ایک صوبے میں ایک ہی قسم کی حکومت ہے۔ ایک ہی قانون اور اصول کارروائی اور افسروں کے مدارج بھی یکساں، ہر ایک صوبہ باقاعدہ طور پر ہر صیغے کے متعلق گورنمنٹ آف انڈیا کی خدمت میں رپورٹیں بھیجتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  سندھ میں مسلمانوں کی حکومت اور اس کے اثرات

مدراس، بنگال اور بمبئی سب سے پرانے انگریزی صوبے ہیں ان میں سے ہر ایک کا حکمران گورنر کہلاتا ہے اور انگلستان سے مقرر ہو کر آتا ہے۔ ہر ایک گورنر کے ہاں ایک ایک لیجسلیٹو کونسل اور ایگزیکٹو کونسل بھی ہے۔ چھوٹی انتظامی کونسل کے تین ممبر ہوتے ہیں جن میں سے ایک ضرور ہی ہندوستان کا باشندہ ہوتا ہے۔ خواہ ہندو ہو یا مسلمان، بڑی کونسل واضعان قوانین میں کوئی پچاس ممبر ہوتے ہیں جن میں غیر سرکاری ممبروں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔
چار صوبوں یعنی (1) صوبہ جات متحدہ (2) پنجاب (3) بہار و اڑیسہ (4) اور برما میں اعلیٰ حاکم لیفٹیننٹ گورنر ہیں جنہیں حضور وائسرائے علیٰ العموم ہندوستان کے سول سروس کے افسروں میں سے منتخب کرتے ہیں۔ وہ پانچ سال تک حکمران رہتے ہیں۔ ان میں سے بعض کے چھوٹی سی انتظامی کونسل بھی ہے اور واضعان قوانین کی بڑی کونسل سب کے ہاں ہے۔

باقی صوبے جو رقبے میں چھوٹے چھوٹے ہیں۔ چیف کمشنروں کے ماتحت ہیں۔ ان کے ہاں کوئی کونسل نہیں ہوتی وہ براہ راست گورنر جنرل کے ماتحت ہیں۔
ہر صوبہ ضلعوں میں منقسم ہے اور اس طرح برٹش انڈیا کے کل 267 ضلعے ہیں۔ ہر ایک ضلع بجائے خود ہر پہلو سے مکمل ہوتا ہے اور جیسا ایک ضلع کاانتظام ہوتا ہے ویسا ہی سب کا ہے۔ ایک ہی طرح کے عہدہ دار ہیں اور ایک ہی قسم کے قواعد کی پابندی ہوتی ہے۔ بعض ضلعے تو بہت بڑے ہیں مگر وہ علی العموم ایسے ہیں جن میں آبادی کم ہے۔ بعض بعض چھوٹے چھوٹے بھی ہیں مگر ایسے ضلعوں میں عموماً آبادی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ ضلع اور آبادی کی اوسط دس سے پندرہ لاکھ تک ہوتی ہے۔

پنجاب، اودھ، ممالک متوسط اور چھوٹے چھوٹے صوبوں میں بڑے حاکم کو ڈپٹی کمشنر کہتے ہیں دیگر بڑے بڑے صوبوں میں کلکٹر ان کے ماتحت افسروں کا عملہ ہوتا ہے یعنی اسسٹنٹ و ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر، ایک افسر پولیس، ایک انجینئر، ایک سول سرجن، ایک افسر جنگلات، ایک سپرنٹنڈنٹ جیل وغیرہ۔ بعض افسر تین تین چار چار ضلعوں میں دورہ کرتے ہیں۔ جنہیں حلقہ یا قسمت کہتے ہیں جیسے انسپکٹر مدارس یہ افسر انگریز یا ہندوستانی ہو سکتے ہیں۔ ہندوستانی کلکٹر ڈاکٹر اور سول سرجن وغیرہ بھی ہیں۔

بعض صوبوں میں تین تین چار چار ضلعے ملا کر ایک کمشنر کے ماتحت کر دیئے جاتے ہیں۔ برٹش انڈیا میں ایسے پچاس کمشنر ہیں۔ وہ افسران ضلع کے کام کی نگرانی کرتے ہیں۔

بنگال اور برما کے سوا ہر ایک صوبے میں تعلقے یا تحصیلیں ہیں جن میں سے ہر ایک ایک افسر کے ماتحت ہے جسے تحصیلدار کہتے ہیں وہ اپنے علاقہ پر اس طرح حکومت کرتا ہے جس طرح ڈپٹی کمشنر ضلع پر، سینکڑوں تحصیلدار ہیں اور وہ سب کے سب ہندوستانی ہیں۔ انہیں نہایت احتیاط سے منتخب کیا جاتا ہے اور وہ سب اچھے تعلیم یافتہ آدمی ہوتے ہیں۔ تمام قواعد کا ٹھیک طور پر عمل درآمد اور زمینداروں کی حفاظت و بہتری کا مدار تحصیلدار کی لیاقت و دیانت اور شوق کارگزاری پر ہے۔

لوکل سیلف گورنمنٹ:
ہندوستان دیہات کی سرزمین ہے اور اس میں بڑے بڑے شہر نسبتاً بہت کم ہیں۔ اگلے زمانے میں ہر ایک گاﺅں کے اپنے اپنے اہلکار تھے۔ ان میں سے سب سے اعلیٰ نمبردار ہوتا تھا۔ جسے بعض علاقوں میں پٹیل بھی کہتے ہیں۔ وہ گاﺅں کے بڑے بوڑھوں کی کونسل یعنی پنچائت کی مدد سے تمام تنازعات کا تصفیہ کرتا تھا۔ اس کے علاوہ گاﺅں کا ایک محاسب (پٹواری) بھی ہوتا تھا جو ایسے حسابات اور کاغذات مکمل رکھتا تھا جن سے معلوم ہو سکے کہ ہر ایک کھیت کا مالک کون ہے اور ہر ایک مزارع کے ذمے کتنی رقم واجب الادا ہے۔ اسی طرح گاﺅں کا ایک چوکیدار بھی ہوتا تھا۔ یہ سب اہلکار فصل کے موقع پر زمینداروں سے کچھ اناج لے لیتے تھے اور ان میں سے کسی ایک کو بھی نقد تنخواہ نہیں ملتی تھی۔

زمانہ حال میں ان اہلکاروں کو بھی دوسرے عہدہ داروں کی طرح مقرر تنخواہیں نقد ملتی ہیں اور وہ تحصیلدار کے زیر حکم ہوتے ہیں۔
بری و بحری فوج، پولیس، نہروں، ریلوں سرکاری عمارتوں اور شاہراہوں جیسے رفاہ عام کے بڑے بڑے کاموں کے قائم رکھنے، اندرونی و بیرونی تجارت کی حفاظت و ترقی، سکے مضروب کرنے، تحصیل مال گزاری اور قوانین بنانے اور اسی قسم کے سب کاموں کا انتظام جن کا تعلق سارے ملک کے ساتھ ہے ملک کی شاہی حکومت اور صوبہ دار گورنمنٹیں کرتی ہیں لیکن کسی مہذب ملک میں اور بہتیرے ایسے کام ہیں جنہیں لوکل (مقامی) کہہ سکتے ہیں۔ جیسے بازاروں اور کوچوں کی صفائی اور روشنی، مصفا پانی کی بہم رسانی، بچوں کی تعلیم، شفاخانے اور اسی قسم کے کام، ان کاموں کو ہر ایک شہر کے باشندے اپنے منتخب اشخاص کی جماعت کی وساطت سے نہایت عمدہ طور پر سرانجام دے سکتے ہیں اور کسی غیر شخص کی نسبت وہی اپنے شہروں اور قصبوں کے حالات و ضروریات سے بخوبی واقف ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں جب وہ اس روپے کو خرچ کرنے لگیں جو خود انہوں نے ٹیکس کے ذریعہ سے جمع کیا ہو تو اغلب ہے کہ وہ اس امر کا خیال رکھیں گے کہ روپیہ بہترین طریقے سے خرچ کیا جائے اور اس میں کچھ بھی ضائع نہ جائے۔ لوکل گورنمنٹ سے ہماری یہی مراد ہے۔

پہلے پہل اس تجویز کو بڑے بڑے شہروں میں پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا تھا، کیونکہ یہ نئی بات تھی۔ لوگ کہتے تھے کہ یہ کام سرکار کا ہے ہمارا نہیں۔ ٹیکس لگانا اور اس کی آمد کو خرچ کرنا گورنمنٹ کا فرض ہے۔ علاوہ ازیں ہمیں اپنے اپنے کاموں سے نہ تو ان کے سرانجام دینے کی فرصت ہے اور نہ پرواہ کیونکہ ان کے کرنے سے کوئی انعام تو ملے گا نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  مظفر گڑھ تاریخی روایات کا حامل مردم خیز شہر

مگر آخر کار بمبئی، کلکتہ اور مدراس ایسے بڑے بڑے شہروں میں بعض سرکردہ باشندوں نے ان کاموں کے سرانجام دینے پر اپنی رضامندی ظاہر کی۔
شہروں کی ایسی کونسل کو میونسپل کمیٹی کہتے ہیں اور ممبروں کو میونسپل کمشنر، ان میں سے اکثروں کو تو شہر کے باشندے منتخب کرتے ہیں لیکن کچھ ممبر گورنمنٹ بھی نامزد کرتی ہے۔ ان کے صدر کو چیئرمین کہتے ہیں۔ اب ایسے بہت سے شہر ہیں جہاں میونسپل کمیٹیاں ہیں اور ان کے ممبر بننے کو لوگ اپنے لیے باعث اعزاز سمجھتے ہیں۔ 1910ءمیں سات سو کمیٹیاں تھیں اور ان کے دس ہزار ممبر تھے۔ ان میں سے تین چوتھائی ہندوستان کے باشندے تھے۔ ان لوگوں نے کئی کروڑ روپیہ کمیٹیوں کی ضرورت کے لیے محصول چنگی وغیرہ کے ذریعے سے جمع کیا۔

1883ءمیں لارڈ رپن نے جو اس وقت گورنر جنرل تھے یہ فیصلہ کیا کہ صرف شہر ہی نہیں بلکہ گاﺅں بھی اپنے اپنے کاموں کا انتظام حتی الامکان خود کریں، یعنی اپنے مدرسوں، ہسپتالوں اور سڑکوں کا بندوبست آپ کریں۔ گاﺅں کی صفائی اور صاف ستھرے پانی کی بہم رسانی کے ذمہ دار ہوں۔ اسی واسطے لارڈ موصوف نے بہت سے دیہاتی بورڈ یا کونسلیں (ڈسٹرکٹ اور لوکل بورڈ) بنا دیئے جن کے ممبر غیر سرکاری لوگ ہیں اور عوام ان کو انتخاب کرتے ہیں مگر چونکہ ہندوستان کے بعض حصہ کے دیہاتی بہت کچھ لکھے پڑھے اور ترقی یافتہ نہیں، اس لیے ہر جگہ ایک ہی قسم کے قواعد جاری نہیں ہو سکتے۔ بعض مواضعات اپنی خبر گیری کرنے کے قابل نہ نکلے۔

لارڈرپن کی تجاویز پر مدراس میں کلی طور پر عملدرآمد ہوا کیونکہ وہاں کے لوگ خوب تعلیم یافتہ تھے۔ یہی صوبہ سب سے پہلے انگریز حکومت میں داخل ہوا تھا اور وہیں دوسرے صوبوں کی نسبت بیشتر مدارس بھی کھلے تھے۔ ہر ایک ضلع میں ایک ڈسٹرکٹ بورڈ ہوتا ہے اور ہر ایک تحصیل میں لوکل بورڈ۔ موضعات کے چھوٹے چھوٹے مجموعے ایک دیہاتی کونسل یا پنچائت کے زیر اہتمام ہوتے ہیں۔ پنچائت کے سب ضلعوں میں ڈسٹرکٹ بورڈ ہوتے ہیں۔
1910ءمیں ہندوستان بھر کے ڈسٹرکٹ بورڈ 197 اور لوکل بورڈ 517 تھے اور باشندگانِ ہندوستان ان کے ممبروں کا 11/12 حصہ تھے۔ بورڈوں کو اپنے علاقے میں ٹیکس لگا کر روپیہ جمع کرنے کی اجازت ہے جسے وہ خود ہی سڑکوں، مدرسوں اور ہسپتالوں وغیرہ پر خرچ کرتے ہیں۔

حفاظتِ ہند، بری وبحری فوج:
گورنمنٹ ہند اس امر کا خیال رکھتی ہے کہ ایک زبردست فوج ملک میںموجود رہے۔ اس پر ہماری زندگی اور بچاﺅ کا مدار ہے۔ اس کے بے انداز فوائد ہیں۔ اسکے بغیر تہذیب اور امن کی برکات اور آسائشیں دم بھر میں غائب ہو جائیں۔ تجارت رک جائے۔ کھیت بے جوتے بوئے پڑے رہیں۔ مدرسے اورشفا خانے بند ہو جائیں اور ملک میں تشدد و خونریزی کا دوردورہ ہو جائے۔

اسی واسطے ہماری سرکار ایک جرار فوج تیار رکھتی ہے۔ سپاہی پوری پوری طرح مسلح اور خوب قواعددان ہیں۔ انہیں کھانے کو عمدہ غذا اور رہنے کو بہترین بارکیں ملتی ہیں اور ان کی ہر طرح سے خبر گیری کی جاتی ہے۔ فوج کے سپاہی گورے بھی ہوتے ہیں اور مقامی بھی۔

گورے سپاہی تعداد میں 7½ ہزار ہیں۔ وہ سب مضبوط جوان ہیں۔ پانچ سال سے زیادہ ہندوستان میں نوکری نہیں کرتے، کیونکہ اگر اس سے زیادہ عرصہ ٹھہریں تو ان کی طاقت و ہمت میں کمی آ جائے۔ انہیں بڑے بڑے صحت افزا مقامات پر رکھا جاتا ہے اور ریل کے ذریعے ہندوستان کے ہر ایک حصے میں بہت جلد بھیجا جا سکتا ہے۔

ہندوستانی سپاہی ایک لاکھ ساٹھ ہزار کے قریب ہیں۔ زیادہ تر جنگجو قوموں یعنی پنجابیوں، گورکھوں، سکھوں، راجپوتوں، پٹھانوں اور جاٹوں میں سے بھرتی کیے جاتے ہیں۔ ان سب کو معقول تنخواہیں ملتی ہیں اور ہر طرح سے ان کی پوری پوری خبر گیری ہوتی ہے۔ ان کے افسر تقریباً تین ہزار انگریز اور بہت سے مقامی ہیں۔ رجمنٹ کے سب سے بڑے افسر کو کرنیل کہتے ہیں۔ اس کے ماتحت میجر، کپتان اور لیفٹیننٹ ہوتے ہیں۔ ہندوستانی افسر صوبہ دار اور جمعدار کہلاتے ہیں۔

ان کے علاوہ والنٹیر ہیں جنہیں تنخواہ تو کچھ بھی نہیں ملتی مگر اسلحہ دیا جاتا ہے اور ان کی فوجی تربیت ہوتی ہے تاکہ جنگ چھڑ جائے تو وہ شہروں، قلعوں اور پلوں کی حفاظت کریں۔ شمال مغربی اور شمال مشرقی سرحدوں پر ملٹری (فوج) پولیس بھی ہے جو فوجی سپاہیوں کی طرح مسلح ہے اور امن قائم رکھتی ہے مگر وہ ملکی افسروں کے ماتحت ہے۔ فوج سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔

برطانیہ اعظم کا جنگی بیڑا ہندوستان کے کل انگریز علاقے کی حفاظت کرتا ہے۔ وہ ان تمام جہازوں کی نگہبانی کرتا ہے جو ہندوستان سے دیگر ممالک کو مال تجارت لے جاتے یا وہاں سے لاتے ہیں جب تک انگریز جنگی جہاز موجود ہیں۔ کوئی دشمن سمندر کی راہ ہندوستان پر حملہ آور نہیں ہو سکتا۔ بحری فوج کو برطانیہ اعظم کے محاصل سے تنخواہ ملتی ہے۔ انہیں ہندوستان کے روپے سے کچھ نہیں دیا جاتا۔

پولیس و جیل خانہ:
جس طرح جنگ کے موقع پر فوج ہماری محافظت کرتی ہے اور حملہ آوروں کی مدافعت پر آمادہ رہتی ہے۔ اسی طرح امن کی حالت میں امن پسند رعایا کی نگہداشت پولیس کرتی ہے۔ وہ چوروں اور قزاقوں کو قابو میں رکھتی ہے۔ ہر ایک ضلعے میں پولیس کا نگران ایک افسر ہوتا ہے جسے سپرنٹنڈنٹ پولیس کہتے ہیں۔ اس کی امداد کو ایک اسسٹنٹ اور بہت سے انسپکٹر ہوتے ہیں۔ جن کے ماتحت کانسٹیبل ہوا کرتے ہیں۔ سپرنٹنڈنٹ پولیس ضلع کے صاحب ڈپٹی کمشنر اور صوبے کے انسپکٹر جنرل پولیس کے ماتحت ہوتا ہے۔ برٹش انڈیا میں 1½ لاکھ کے قریب پولیس کے ملازم اور تقریباً 7 لاکھ چوکیدار ہیں۔ ان سب کا سالانہ خرچ کوئی چار کروڑ روپے ہوتا ہے۔

ہر ایک ضلع میں ایک جیل خانہ اپنے اپنے سپرنٹنڈنٹ کے ماتحت ہوتا ہے۔ پرانے زمانے میں یہ خیال تھا کہ مجرموں کو جیل خانہ میں صرف سزا دینے اور دوسروں کو عبرت دلانے کی خاطر رکھا جاتا ہے مگر اب مہذب ملکوں میں گورنمنٹ اس امر کی بھی کوشش کرتی ہے کہ ان کی اصلاح کی جائے۔ بعض لوگ محض اس وجہ سے چوری کرتے ہیں کہ نہ تو وہ کوئی پیشہ یا ہنر جانتے ہیں نہ ان کے گزارے کی کوئی اور صورت ہے۔ ایسے لوگوں کو جیل خانے میں اب روزی کمانے کے طریقے سکھائے جاتے ہیں۔ جیسے چھپائی، خیمہ دوزی، بڑھئی یا لوہار کا کام، بیت سے اشیا بنانا اور دری بننا وغیرہ۔

یہ بھی پڑھیں:  محمود غزنوی اور محمد غوری ہندوستان میں

اگلے زمانے میں قیدیوں کے ساتھ نہایت جابرانہ سلوک کیا جاتا تھا۔ چنانچہ کہا جاتا ہے کہ بعض جگہ جیل خانے جانا مرنے کے برابر سمجھا جاتا تھا۔ اب قیدیوں کی خوب نگہداشت کی جاتی ہے۔ انہیں اچھی غذا کھانے کو ملتی ہے اور باقاعدہ ورزش کرائی جاتی ہے۔ وہ صبح ہوتے ہی اٹھتے ہیں، کھانا کھاتے ہیں، سویرے سویرے کام کرتے ہیں، پھر آرام لے کر دوپہر کی خوراک کھاتے ہیں، پھر کام کرتے ہیں۔ تیسری دفعہ شام کی غذا ملتی ہے پھر رات کو بند کر دیئے جاتے ہیں۔ جن کا رویہ اچھا ہو اور محنت سے کام کریں۔ انہیں اکثر اوقات قید کی پوری میعاد بھگتنے سے پہلے ہی رہا کر دیا جاتاہے۔ گورنمنٹ قیدیوں سے ایسا سلوک کیوں کرتی ہے؟ صرف اس واسطے کہ انہیں محنت کرنے کا حوصلہ دلائے اور ان کی اصلاح ہو جائے تاکہ وہ جیل خانے سے نکل کر باہر بھی بھلے مانس اور امن پسند بن جائیں اور دیانت سے روزی کمائیں۔

انصاف اور عدالتیں:
ہماری عدالتوں کا موجودہ انتظام 1861ءسے شروع ہوا ہے جب ہندوستان کی ہائی کورٹوں کا ایکٹ پاس ہوا۔ کلکتہ، مدراس اور بمبئی میں ہائی کورٹ کھولے گئے۔ بادشاہ سلامت نے ان میں جج متعین فرمائے۔ ان میں سے ایک بیرسٹرایٹ لا تھے۔ اتنے ہی ڈسٹرکٹ جج اور باقی دیگر قانون دان اشخاص۔ 1866ءمیں الہ آباد اور لاہور میں ایک ایک چیف کورٹ کھلا۔

قاعدہ کلیہ کے طور پر ہندوستان کے ہر ایک ضلع میں ایک سول و سیشن جج ہے۔ اگر کام بہت زیادہ ہو تو اسے ایک اسسٹنٹ بھی مل جاتا ہے۔ ہر ایک صوبہ کی عدالت ہائے ضلع اس کے ہائی یا چیف کورٹ کے ماتحت ہیں جو سزائے موت کے ہر ایک فیصلے کی نسبت قطعی حکم صادر کرتی ہیں۔

عدالت ہائے سیشن کے ماتحت تین درجوں میں مجسٹریٹوں کی کچہریاں ہیں۔ درجہ اول کے مجسٹریٹ دو سال کی قید اور ایک ہزار روپے تک جرمانہ کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ درجہ دوم کے چھ مہینے کی قید اور دو سو روپے تک جرمانے کا اور درجہ سوم کے ایک مہینے کی قید اور سو روپے تک جرمانے کا، ڈپٹی کمشنر یا کلکٹر بھی درجہ اول کے مجسٹریٹ ہوتے ہیں۔

عدالت ہائے ماتحت کے فیصلے کے خلاف اپیل عدالت بالا میں ہو سکتی ہے۔ چنانچہ درجہ دوم و سوم کے مجسٹریٹ کے حکم کے خلاف اپیل درجہ اول کے مجسٹریٹ کے پاس اور اس کے فیصلے کے خلاف سیشن جج کی عدالت میں اور اس کے حکم کے خلاف ہائی یا چیف کورٹ میں۔
ان کے علاوہ سب ججوں اور منصفوں کی چھوٹی چھوٹی عدالتیں بھی ہیں۔

ہند کے محاصل اور ان کے خرچ کی کیفیت:
ہندوستان کے محاصل اور ٹیکس کی آمد گورنمنٹ یہاں کے باشندوں کے فوائد کے لیے ہی خرچ کر دیتی ہے اور اسے جمع کر رکھنے کی کوشش نہیں کرتی۔ اسے اتنا ہی روپیہ درکار ہے جو انتظامِ ملک کے اخراجات کے لیے کافی ہو۔

محاصل زیادہ ہوں یا کم، سب کے سب ان بیشمار آسائشوں کی صورت میں جن پر وہ خرچ ہوتے ہیں باشندگان ملک کو واپس مل جاتے ہیں۔ جب کبھی کچھ روپیہ بچ رہتا ہے تو تعلیم جیسے مفید کاموں میں صرف کر دیا جاتا ہے یا کوئی ٹیکس گھٹا دیا جاتا ہے۔ گورنمنٹ ہند کے محاصل کیا ہیں؟ کس قدر ہیں؟ کہاں سے اور کیوں کر حاصل ہوتے ہیں؟

1911ءمیں ہندوستان کے کل محاصل ایک ارب تیرہ کروڑ سے کچھ اوپر ہی تھے۔ آمد کے بڑے بڑے ذرائع حسب ذیل ہیں۔
زمین کا لگان 31 کروڑ روپیہ
ریلوں کی آمد 19 کروڑ روپیہ
آبکاری یعنی شراب گانجا چرس وغیرہ کے ٹیکس 10 کروڑ روپیہ
کسٹم ڈیوٹی یعنی مال درآمد و برآمد کا ٹیکس 9کروڑ روپیہ
سٹامپ کی قیمت 7کروڑ روپیہ
افیون کا محصول 7کروڑ روپیہ
آبپاشی کی آمد 5½کروڑ روپیہ
قیمت نمک 5کروڑ روپیہ
ڈاک تار اور ٹکسال کی آمد 4½کروڑ روپیہ
باقی پندرہ کروڑ روپیہ چھوٹی چھوٹی مدات سے وصول ہوا۔
ہر ایک زمانے میں حکمرانوں کی آمد کا بڑا ذریعہ محاصل زمین ہی رہے ہیں۔ ہندوستان میں سب زمینوں کی مالک سرکار ہے۔ زمین کے قابضوں یا کاشتکاروں کو اسی طرح زمین کا کرایہ سرکار کو ادا کرنا پڑتا ہے جس طرح کوئی شخص کسی دوسرے کے مکان میں رہتا ہو تو مالک مکان کو کرایہ دیتا ہے۔ اگلے زمانوں میں یہ کرایہ بہت زیادہ تھا مگر اب بہت کم ہے۔

ہندوستان کے مختلف حصوں میں ادائے لگان کی دو صورتیں ہیں جنہیں رعیت داری اور زمینداری کہتے ہیں۔پہلا طریقہ مدراس کے بہت سے حصوں بمبئی، آسام اور برما میں رائج ہے۔ اس کے مطابق ہر ایک کاشتکار براہ راست سرکار کو لگان ادا کرتا ہے۔

زمینداری طریقہ شمالی اور وسطی ہند میں مروج ہے۔ زمین ایک زمیندار یا ایک قوم کے قبضہ میں ہوتی ہے۔ سرکار اس زمیندار سے لگان وصول کرتی ہے اور وہ خود کاشتکاروں سے جمع کر لیتا ہے۔

یہ روپیہ کیونکر خرچ ہوتا ہے؟
تقریباً 31 کروڑ روپیہ فوج پر
تقریباً 18 کروڑ روپیہ ریلوں پر
تقریباً 32 کروڑ روپیہ انتظام ملک پر یعنی سب ملازمانِ سرکاری کی تنخواہوں پر
تقریباً 11 کروڑ روپیہ محاصل کی وصولی پر
تقریباً 4½ کروڑ روپیہ آبپاشی پر
تقریباً 7 کروڑ روپیہ تعمیرات عامہ پر
تقریباً 4½ کروڑ روپیہ ڈاک تار اور ٹکسال پر
باقی 14 کروڑ روپیہ امداد چھوٹی چھوٹی مدات پر، اس میں سے 1½ کروڑ روپیہ امدادِ قحط زدگان کے لیے علیحدہ رکھ لیا جاتا ہے۔ تقریباً تین کروڑ روپیہ تین فیصدی کی شرح سے پبلک یا قومی قرضے کا سود ادا کرنے میں خرچ ہوتا ہے۔ یہ وہ قرضہ ہے جو گورنمنٹ نے وقتاً فوقتاً سرکاری ریلیں بنانے یا نہریں کھدوانے کے لیے لیا۔ اسی کی مقدار چار ارب سے زیادہ ہی ہے۔ ریلوں اور نہروں کی سخت ضرورت تھی اور ملک کے معمولی محاصل سے ان کا خرچ نکالنا ممکن نہ تھا لیکن سود بآسانی ادا کیا جا سکتا تھا۔
تین فیصدی کی شرح پر سرکار انگریز کو ہر شخص روپیہ دینے کے لیے تیار ہے کیونکہ قرض دینے والے کو معلوم ہے کہ اس کا روپیہ محفوظ ہے اور کسی قسم کا خطرہ یا اندیشہ نہیں ہے۔