british-India

برطانوی دور میں ہونے والی ترقی

EjazNews

انگریزی حکومت کے اصول:
جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے اس وسیع مملکت ہند میں مختلف علاقے ہیں۔ ان میں مختلف مذاہب و ملل کی بیشمار اقوام آباد ہیں۔ مثلاً ہندو، مسلمان، سکھ، پارسی اور عیسائی۔ ہر ایک ذات اور قوم کے اپنے اپنے رواج قانون اور عادات ہیں۔ یہ سب ایک دوسرے کے پاس امن و آرام سے رہتے ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ ہماری گورنمنٹ کے کون سے اصول ہیں؟ اور کن قواعد کی پابندی ہوتی ہے۔

اب مذہب کی پوری آزادی ہے۔ ہندوستان کا ہر ایک باشندہ اپنی قوم و ملت کے رسم و رواج پر چل سکتا ہے۔ البتہ دوسرے کے مذہب کو برا بھلا نہیں کہہ سکتا جس کا جہاں جی چاہے مسجد، مندر یا گرجا میں عبادت کر سکتا ہے۔ تبدیل مذہب کا خواہاں ہو تو بھی کسی قسم کی کوئی بندش نہیں اور نہ مذہب کی وجہ سے کسی پر ظلم و تشدد جائز ہے۔

مگر ہاں مذہب کی آڑ میں کسی کو جرم کے ارتکاب کی اجازت نہیں نہ کوئی اپنے معصوم بچے کو گنگا میں ڈبو سکتا ہے نہ کسی معصوم لڑکی کو تلف کر سکتا ہے، نہ کسی دیوی دیوتا پر انسانی قربانی چڑھا سکتا ہے اور نہ کوئی ستی ہو کر اپنے خاوند کی نعش کے ساتھ زندہ جلائی جا سکتی ہے۔ زمانہ قدیم میں ان باتوں کا عام رواج تھا مگر اب یہ سب امور جرم قرار دیئے گئے ہیں اور ان کے لیے سخت سزائیں مقرر ہیں۔ اسی طرح نہ تو کوئی غلام رکھ سکتا ہے اور نہ ان کو مار پیٹ کی کوئی تکلیف دے سکتا ہے اور نہ ان کو مول لے یا دے سکتا ہے۔ کیونکہ کئی سالوں سے سلطنت برطانیہ نے غلاموں کی خریدوفروخت حکماً بند کر دی ہے۔

اب سب لوگوں کے لیے یکساں قانون ہے اور سب کے حقوق مساوی ہیں۔ ایک ہی ضابطہ فوجداری ہے جو چھاپ کر شائع کیا جاتا ہے اور ہر ایک آدمی اس سے باخبر ہو جاتا ہے۔ سب کو بخوبی معلوم ہے کہ ہم کن کن کاموں کے کرنے کے مجاز ہیں اور کن کن کے نہیں۔ ضابطہ مذکور میں ہر ایک جرم کی تعریف و سزا واضح طور پر درج ہے، نہ ہندوﺅں کے لیے کوئی اور قانون ہے نہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے لیے کوئی اور، قانون کی خلاف ورزی پر خواہ کوئی ہی کیوں نہ ہو سزا پاتا ہے۔ کسی کی حیثیت کا لحاظ نہیں کیا جاتا۔ قانون میں امیر و غریب کا امتیاز نہیں سب کے ساتھ یکساں سلوک ہوتا ہے اور اس کے برخلاف عمل کرنے کی سزا بھی یکساں ہے۔

لیکن دیوانی اور مذہبی معاملات اور وراثت جائیداد کے بارے میں ہندوﺅں کے لیے دھرم شاستر اور مسلمانوں کے لیے شرع محمدی پر عمل ہو سکتا ہے۔ ذات پات کے خلاف کوئی قاعدہ نہیں۔ ہندو تو شاستروں اور پرانوں کے مطابق اپنے دھرم کے مشکل سے مشکل مراسم کی پابندی کر سکتے ہیں اور مسلمان ان قواعد زندگی پر چل سکتے ہیں جو قرآن مجید اور حدیث شریف میں درج ہیں۔

مگر قانون کی نظروں میں سب آدمی مساوی ہیں۔ برہمن پر بھی قانون کی پابندی ویسی ہی لازمی ہے جیسی شودر پر اور رئیس پر بھی ویسی ہی جیسے قلی پر، اونچی ذات کا کوئی آدمی اگر جرم کا مرتکب ہو تو اسے بھی ضرور سزا ملتی ہے۔ 1817ءمیں ہندوستانی انگریز علاقے میں یہی قانون رائج چلا آتا ہے لیکن منو کے پرانے قوانین کے مطابق برہمن کو کسی جرم میں سزائے موت نہیں ملتی تھی۔ خواہ وہ جرم کتنا ہی سنگین کیوں نہ ہو۔

جس طرح مذہب کے بارے میں آزادی ہے اسی طرح خوردونوش، لباس اور طرز معاش میں بھی ہر ایک شخص اپنی مرضی کا مالک ہے۔ خواہ کوئی گھوڑے پر سوار ہو خواہ ہاتھی پر، گاڑی میں جائے یا پاپیادہ، چھاتہ لگائے یا نہ لگائے۔

پگڑی باندھے یا ٹوپی پہنے وہ بھی انگریزی ہو یا مقامی، جھونپڑے میں رہے یا محل میں، ریشمی کپڑے پہنے یا سوتی، کوئی مزاحمت نہیں کر سکتا۔ علیٰ ہذا جس طرح کسی کا جی چاہے روزی کمائے۔ کچھ ضروری نہیں کہ اپنا آبائی پیشہ ہی اختیار کرے۔ ہندوستان میں اس قسم کی آزادی ہمیشہ نہیں تھی۔

ہماری گورنمنٹ لوگوں کو نہ صرف اپنی ذات پات اور رسم و رواج کی پیروی کی اجازت دیتی ہے بلکہ پرانی یادگاروں اور زمانہ ماضی کے آثار کی بھی پوری پوری حفاظت کرتی ہے۔ ہندوستان میں بہت سی پرانی پرانی خوبصورت عمارتیں جیسے مندر، مسجدیں، مقبرے، ستون، عالی شان دروازے اور محرابیں موجود ہیں۔ ان میں سے بہتیرے جلدی جلدی تلف ہوئے جاتے تھے کیونکہ کسی نے ان کی نگہداشت نہ کی۔ ان کے بنانے والے چل بسے۔ حرارت آفتاب کی شدت، بارش کی کثرت اور آندھیوں کے طوفان جو اس ملک میں علیٰ العموم آتے رہتے ہیں۔ انہیں سرعت سے تباہ کر رہے تھے۔ مگر اب سرکار والا نے ایک خاص محکمہ صرف اس غرض سے بنا دیا ہے کہ وہ پرانی عمارتوں کی مرمت کراتا رہے اور انہیں حتیٰ الامکان اصلی حالت پر قائم رکھے۔ چنانچہ صرف ایک سال میں اس کام پر سات لاکھ روپیہ خرچ ہوا ہے اسے محکمہ آثار قدیمہ کہتے ہیں۔

امن اور اس کی برکات:
ہر ایک ملک کے لیے سب سے بڑی برکت امن ہے اور سب سے بڑی زحمت جنگ۔ جنگ سے بے حد تکلیف ہوتی ہے۔ بہت سے آدمی مارے جاتے ہیں۔ صرف وہی سپاہی اپنی جانیں نہیں دیتے جو فوج میں شامل ہو کر لڑتے ہیں بلکہ بہت سی صلح پسند رعایا ان کے کنبے، بیویاں اور بچے بھی تباہ ہو جاتے ہیں۔

ایامِ جنگ میں جب فوج ادھر ادھر کوچ کر رہی ہو کھیت بے کاشت پڑے رہتے ہیں۔ کیونکہ کسان کھیتوں میں جانے سے ڈرتے ہیں۔ اسی طرح فصلیں نہیں ہو سکتیں۔ قحط پڑ جاتا ہے اور بہتیرے آدمی فاقوں سے مر جاتے ہیں۔ جب لوگوں کے کھانے کو مناسب غذا نہیں ملتی تو مجبور ہو کر وہ جڑیں، گھاس پات یا جو کچھ مل سکے کھا لیتے ہیں۔ اس لیے بیمار پڑ جاتے ہیں۔ ہیضہ اور بہت سے مہلک مرض پھیل جاتے ہیں اور اکثر آدمی بیماری سے ضائع ہو جاتے ہیں۔

اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ جب کسی ملک میں سپاہی کوچ کرتے ہیں وہ لوگوں کو لوٹ لیتے ہیں اور جو کچھ ساتھ لے جا سکیں لے جاتے ہیں۔ چنانچہ تمہیں معلوم ہے کہ کئی مرتبہ ایسا ہو چکا ہے۔

یوں تو ہندوستان بھر میں کتنی ہی بڑی بڑی جنگیں ہو چکی ہیں۔ جن میں لاکھوں جانیں تلف ہوئی ہیں مگر ہندوستان کے اور سب صوبوں کی بہ نسبت پنجاب پر زیادہ وبال آیا ہے۔ شمالی حملہ آوروں کی فوجیں کتنی ہی بار پنجاب میں آئیں جن کے مفصل حالات تم اپنی تاریخ میں پڑھ چکے ہو۔ تمہیں معلوم ہے کہ افغان و ایرانی، غزنوی و غوری، ترک و تاتاری، محمود غزنوی اور تیمور لنگ، نادر شاہ اور احمد شاہ ابدالی اور دوسرے یورش کرنے والوں کے ماتحت کیونکر ملک کو تباہ کرتے تھے۔ بیشمار ہندوستانیوں کو قتل کر ڈالتے تھے اور دولت مندشہروں میں سے بے انتہا سیم و زر لے جاتے تھے۔ چنانچہ شہر دہلی کئی دفعہ لوٹا گیا۔

نہ صرف اجنبی حملہ آوروں نے آتش جنگ مشتعل کی بلکہ ہندوستان کے راجہ اور بادشاہ بھی باہم لڑا کرتے تھے۔ ایسی خانہ جنگیوں کے حالات بھی تم تاریخ میں پڑھ چکے ہو۔

زمانہ حال کی تاریخ میں شاید سب سے برا وقت اورنگزیب کی وفات اور انگریز حکومت کے قیام کا درمیانی زمانہ تھا۔ یعنی 1700ءسے 1820ءتک بالخصوص اورنگزیب کی وفات سے بعد کی ایک صدی۔ اسے بدامنی، بدانتظامی اور خودسری کا زمانہ کہتے ہیں۔

اورنگزیب کے انتقال کے بعد سلطنت مغلیہ ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی اور ہندوستان بھر میں کتنی ہی خودمختار ریاستیں قائم ہو گئیں۔ یہ چھوٹے چھوٹے حکمران (نواب اور راجہ) لگاتار آپس میں لڑا کرتے تھے۔ مرہٹوں کی فوجوں نے سارے شمالی اور وسطی ہند کو تاخت وتا راج کیا۔ ملک ویران کر ڈالا۔ لوگوں کو لوٹ لیا۔ جو لوگ اپنا مال و دولت نہ دیتے انہیں ہلاک کر ڈالتے اور طرح طرح کی اذیتیں پہنچاتے۔ انتظام قائم رکھنے کے لیے کوئی زبردست حکومت نہ تھی۔ اس لیے قزاقوں، ڈاکوﺅں، ٹھگوں، پنڈاریوں اور ہر ایک قسم کے چوروں چکاروں سے ملک بھر گیا۔ کوئی شخص بھی محفوظ نہ رہا۔ مضبوط پہرے بغیر سفر نہیں ہو سکتا تھا اور باایںہمہ اکثر لوگ جو سفر کو جاتے زندہ و سلامت واپس نہ آتے۔

تم جو صلح و امن کے زمانے میں رہتے سہتے ہو ان دنوں کے قتل و غارت کے واقعات کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔ گزشتہ سال ساٹھ برس کے عرصہ میں شمالی ہند اور کم از کم سو برس سے جنوبی ہند کے اندرونی حصوں میں کوئی لڑائی نہیں ہوئی۔ ہماری موجودہ سرکارا نصف شعار کے عہد فرمانروائی میں ہر طرف امن و امان ہی نظر آتا ہے۔

ملک کے ہر ایک حصہ میں امن کا سکہ بٹھانے کے لیے زبردست حکمران کی ضرورت ہوا کرتی ہے جو بدامنی نہ ہونے دے۔ باغیوں کو دبائے رکھے۔ بیرونی حملہ آوروں کو ملک میں گھسنے نہ دے اور ڈاکوﺅں اور رہزنوں کی ایذا رسانی سے لوگوں کو بچائے رکھے۔

ہندوستان کے باشندے متفرق نسلوں اور قوموں کے ہیں۔ وہ جدا جدا بولیاں بولتے ہیں مختلف مذاہب کے پیرو ہیں اور کتنی ہی ذاتوں میں منقسم ہیں۔ ایک سکھ یا پٹھان کسی بنگالی مرہٹے یا مدراسی سے بالکل الگ تھلگ ہے۔ ان کی شکل و صورت، لباس و عادات اور زبان و مذہب بالکل علیحدہ علیحدہ ہیں۔ شاذونادر ہی کوئی ایسا شہنشاہ ہندوستان میں ہوا ہے جس نے سارے ہندوستان پر حکومت کی ہو اور ان سب قوموں، نسلوں اور مذہبوں میں اس نے امن قائم رکھا ہو حتی کہ اکبر و جہانگیر، شاہجہاں اورنگزیب جیسے بااقتدار مغل شہنشاہوں نے بھی صرف شمالی ہند اور وسط ہند کے کچھ حصے پر حکمرانی کی ہے۔ ان دنوں ریل اور تار کا تو نام و نشان بھی نہ تھا۔ اچھی سڑکیں بھی بہت ہی کم تھیں اسی واسطے ان شہنشاہوں کے احکام کی تعمیل سارے ملک میں نہیں ہوتی تھی۔

مگر اب ملک ہند پر ایسا باجبروت بادشاہ فرمانروا ہے جس کی ٹکر کا کوئی شہنشاہ اس سے پہلے نہیں ہوا وہ دنیا بھر میں سب سے قوی تر اور طاقتور ہے۔ اس کی بری و بحری فوجیں امن قائم رکھ سکتی ہیں۔ باغیوں کو مطیع کر سکتی ہیں اور حملہ آوروں کو دھکیل دینے کی طاقت رکھتی ہیں۔ وہ خصوصاً شہنشاہ معظم جارج پنجم ہیں۔

اب سب جگہ امن و امان ہے اور رعایا کو یہی درکار ہے۔ زمیندار بے کھٹکے اپنے کھیتوں میں زراعت کرتے ہیں اور کسی کو انہیں ڈرانے کی جرات نہیں۔ عمدہ سڑکیں، ریلیں اور تار سب جگہ موجود ہیں جن کی بدولت ہندوستان کے تمام حصے برما سمیت ایک دوسرے سے ایسے قریب تر ہو گئے ہیں کہ پہلے یہ بات بالکل محال تھی۔ ہندوستان اور وسط ہند باہم پیوستہ ہیں ہر ساحل پر دخانی جہاز پھرتے ہیں۔ کسی مقتدر مغل شہنشاہ کو تو دہلی میں اپنی سلطنت کے دور و دراز حصوں کے واقعہ کی خبر ہفتوں میں پہنچتی تھی اور فوج کی نقل و حرکت میں مہینے لگ جاتے تھے۔ اب حضور وائسرائے دہلی یا شملے میں بیٹھے بیٹھے ہزاروں میل کے فاصلے پر کے بنگال، برما یا مدراس کے ہر مقام کے واقعہ کی خبر دو ایک گھنٹہ میں سن لیتے ہیں اور تین چار دن کے اندر اندر جہاں چاہیں ریل کے ذریعہ سے فوجیں بھیج سکتے ہیں۔ جب تک شاہ برطانیہ ہندوستان پر فرمانروا ہیں کسی جنگ و جدال کا اندیشہ نہیں۔ ہر جگہ امن رہے گا اور ملک کے باشندے خوش و خرم اور محفوظ رہیں گے۔

سڑکیں اور ریلیں:
پچاس برس سے کچھ ہی زیادہ عرصہ ہوا ہے کہ ایسٹ انڈیا کمپنی ٹوٹ گئی اور ہندوستان کی حکومت ملکہ انگلستان کے ہاتھ آئی۔ اس وقت سے بہت سی سڑکیں اور ریلوے لائنیں تیار ہو گئی ہیں۔

زیادہ تر آسائشیں جو ہمیں حاصل ہیں۔ اکثر چیزیں جو ہمارے روزانہ استعمال کی ہیں اور وہ سامان جو ہندوستان کے اور حصوں میں بنتا یا انگلستان اور دیگر ممالک سے آتا ہے مثلاً انواع و اقسام کے چاقو اور کپڑے گھڑیاں اور تالے، کتابیں اور دیا سلائیاں اور بیشمار دیگر اشیاءیہ سب اچھی سڑکوں اور ریل کے انتظام کے بغیر ہمیں کبھی میسر نہ آسکتیں اور اگر مل بھی سکتیں تو نہایت گراں ہوتیں۔ تجارت کی ترقی جو اب ہم دیکھ رہے ہیں پرانے زمانہ میں جبکہ سڑکیں خراب تھیں اور ریل کا نام و نشان بھی نہ تھا بالکل محال تھی۔

یہ بھی پڑھیں:  اکبر کے زمانے میں مشاہیر علم و ادب(۲)

ہندوستان میں انگریزوں کا عمل دخل ہونے سے پیشتر آج کل کی سی عمدہ سڑکوں کا رواج نہ تھا۔ صرف راستے ہوا کرتے تھے جو بارش میں کام نہ آتے تھے کیونکہ کیچڑ پانی میں دب جاتے تھے۔ پل شاذونادر ہی کہیں کہیں ہوا کرتے تھے۔ مال و اسباب بیلوں پر لاد کر لے جاتے تھے۔ خود مسافر گھوڑوں یا ٹٹوﺅں پر سوار ہوتے تھے مگر غریب آدمی سینکڑوں میل پا پیادہ چلا کرتے تھے۔

1839ءمیں سڑکیں بننی شروع ہوئیں۔ ابتدا میں نہایت آہستگی سے کام ہوتا رہا کیونکہ عمدہ سڑکوں کے بنانے پر بہت سا روپیہ لگتا تھا۔ لارڈ ڈلہوزی کے عہد یعنی 1854ءمیں محکمہ تعمیرات عامہ ہر ایک صوبہ میں بنایا گیا تاکہ وہ سڑکوں، عمارتوں اور نہروں کا خیال رکھے۔ بڑے بڑے شہروں کے مابین کی سڑک اعظم کے علاوہ بہت سی سستی کچی سڑکیں سارے ملک میں بنائی گئیں۔ 1912ءمیں پچپن ہزار میل لمبی پکی سڑکیں اور ایک ہزار تیس میل طول کی کچی سڑکیں موجود تھیں اور ہر سال ان کی نگہداشت پر پانچ کروڑ روپیہ خرچ ہوتا ہے۔

بیشک پکی سڑکیں عمدہ اور مفید ہیں مگر ریل کی پٹڑیوں کا فائدہ بہت زیادہ ہے۔ اب ہندوستان میں بہت سامان باہر سے آتا ہے کیونکہ وہ ریل کے ذریعہ بہت جلدی اور تھوڑے خرچ پر ایک مقام سے دوسرے مقام میں پہنچ سکتا ہے۔ اسی طرح اکثر اجناس باہر بھیجی جاتی ہیں کیونکہ بڑی آسانی اور کفایت کے ساتھ بندرگاہوں پر پہنچا دی جاتی ہیں جہاں سے وہ جہازوں میں لادی جاتی ہیں۔ ایسے ہی ہندوستان کے ایک حصے سے دوسرے حصہ میں بھی مال پہنچایا جاتا ہے۔ اگر کسی صوبہ میں اچھی فصل ہو تو جتنا اناج وہاں کے باشندوں کی ضرورت سے زائد ہو وہ بجائے اس کے کہ وہیں پڑا پڑا سڑ جائے بیج دیا جاتا ہے اور ان اضلاع میں بکثرت روانہ کیا جاتا ہے جہاں برسات نہ ہونے سے کھانے کے لیے کچھ پیدا نہ ہوا ہو۔ یوں قحط روک دیا جاتا ہے۔

یہ ریلیں لوہے کے عالیشان پلوں کے ذریعے سے بڑے بڑے دریا عبور کرتی ہیں۔ ان میں سے بعض تو دنیا بھر میں اعلیٰ درجہ کے ہیں اور میل بھر سے زیادہ لمبے ہیں۔ لمبی لمبی ریل گاڑیاں شب و روز بلا توقف ان پر سے گزرتی رہتی ہیں۔ اگلے وقتوں میں صرف عمدہ موسم ہی میں سفر کر سکتے تھے۔ مسافروں کو بسا اوقات دریاﺅں کے کناروں پر جبکہ وہ طغیانی پر ہوتے تھے کئی کئی دن رکا رہنا پڑتا تھا۔ اب پلوں کی بدولت سال کے ہر ایک موسم میں بہ سہولت سفر ہو سکتا ہے۔ بادوباراں کے طوفان سے کسی طرح کا کچھ ہرج نہیں ہوتا۔ برسات ہو یا خشک موسم، ہر وقت مسافر بہ امن و آسائش لاہور سے کلکتہ تک بارہ سو میل کی مسافت یا کلکتہ سے بمبئی تک ساڑھے تیرہ سو مین کا فاصلہ ریل گاڑی میں بیٹھے بیٹھے چالیس گھنٹے میں طے کر لیتا ہے۔ اس سے پہلے انسان دن بھر میں دس سے بیس میل تک سفر کر سکتا ہے۔ اب ریل اسے اتنے ہی عرصہ میں چار سو میل پر پہنچا دیتی ہے۔

ہندوستان کی سب سے بڑی ریل کی سڑک صرف بیس میل لمبی تھی جو 1853ءمیں بمبئی میں بنائی گئی تھی۔ 1857ءمیں تین سو میل لمبی ریل کی سڑک تھی پچاس سال بعد 1909ءمیں اکتیس ہزار میل لمبی ریل کی سڑک تیار ہو چکی تھی اور اس سال میں ان پر تینتیس کروڑ مسافر اور 6 کروڑ چالیس لاکھ ٹن مال روانہ ہوا۔ تیسرے درجہ کے ہر ایک مسافر سے فی میل ایک پیسے سے اور مال کے لیے فی میل فی ٹن دو پیسے سے کچھ کم کرایہ لیا گیا۔

ڈاکخانہ اور تار:
ڈاک خانہ کا جو انتظام اب ہے اگلے زمانے میں اس کا نام و نشان بھی نہ تھا۔ جب سلطنتیں بہت تھیں کوئی اعلیٰ حکمران نہ تھا۔ ڈاک خانوں کا ہونا ممکن نہ تھا۔ غیر ملکوں میں کسی قاصد کے ہاتھ جو مراسلہ بھیجا جاتا تھا وہ علی العموم منزل مقصود تک پہنچتا ہی نہ تھا اوراگر پہنچ بھی جاتا تو کتنے ہی مہینے لگ جاتے اور خرچ بھی بے حد اٹھانا پڑتا۔

1838ءمیں عوام کے لیے ہندوستان میں ڈاکخانے کھولے گئے۔ ان دنوں ٹکٹ نہ تھے پیشگی نقد محصول ادا کرنا پڑتا تھا اور فاصلہ کی کمی بیشی کے مطابق لیا جاتا تھا۔ چنانچہ کلکتہ سے بمبئی میں خط بھیجنے کا محصول اس وقت فی تولہ ایک روپیہ تھا۔

1854ءمیں محکمہ ڈاکخانہ جات ہند میں بنایا گیا، ٹکٹ جاری کیے گئے۔ چونکہ اس وقت سارا ہندوستان ایک ہی حکومت کے ماتحت ہو چکا تھا اس لیے بلالحاظِ فاصلہ شرحِ محصول مقرر کی گئی بعدازاں وقتاً فوقتاً اس میں کمی بیشی ہوتے ہوتے موجودہ محصول تک نوبت آ پہنچی۔

1856ءمیں 750 ڈاک خانے اور لیٹر بکس تھے۔ 36 ہزار میل کا فاصلہ چٹھیوں نے طے کیا اور سال بھر میں تین کروڑ چٹھیاں اور پارسل روانہ ہوئے مگر ساٹھ برس کے اندر اندر بے حد ترقی ہوئی۔ اب تقریباً ستر ہزار ڈاکخانے اور لیٹر بکس ہیں۔ ایک لاکھ ساٹھ ہزار میل کے فاصلے تک چٹھیاں بھیجی جاتی ہیں۔ ½ کروڑ خط اور پارسل روانہ ہوتے ہیں۔ دو پیسے کا پوسٹ کارڈ تین ہزار میل تک جا سکتا ہے اور دو آنے میں آٹھ ہزار میل کے فاصلہ پر انگلستان تک چٹھی جا سکتی ہے۔

جب 1858ءمیں ایسٹ انڈیا کمپنی سے بادشاہ کی طرف حکومت منتقل ہوئی تو سیونگ بینک اور منی آرڈر نہ تھے۔ اب آٹھ ہزار ڈاک خانے کے بینک ہیں۔ جن میں بارہ لاکھ اشخاص کا حساب ہے۔ ان میں سے 9/10 ہندوستانی ہیں جو زمانہ سابق میں اپنی بچت کو، اگر کچھ ہوتی، زمین میں دفن کر دیا کرتے تھے۔ اب گورنمنٹ ان کی حفاظت کرتی اور انہیں اس کا منافع بھی دیتی ہے۔ 1911ءمیں اس روپے کی کل میزان سترہ کروڑ تھی۔ اتنی بڑی بھاری رقم کا ڈاک خانے کے سیونگ بینک میں جمع ہونا اس امر کا صحیح ثبوت ہے کہ لوگ گورنمنٹ پر اعتبار کرتے ہیں۔ سال بہ سال 37½ کروڑ روپے کے منی آرڈر جاری ہوتے ہیں۔
صرف یہی نہیں کہ تار سے تاجروں کو مدد ملتی ہے اور عوام کو ان کے ذاتی کاموں میں فائدہ پہنچتا ہے بلکہ گورنمنٹ کے لیے بھی نہایت مفید ہے۔ اس کی وجہ سے حکومت بہ سہولت ہو سکتی ہے۔

سابق حکمرانوں میں سے اکبر اور اورنگزیب جیسے ذی شوکت شہنشاہوں کو بھی پہلے یہ بڑی مدد میسر نہ تھی۔ 1851ءمیں تار کی پہلی لائن کلکتہ میں لگائی گئی تھی۔ یہ صرف 82 میل لمبی تھی۔ اس سے چار سال بعد لارڈ ڈلہوزی کے عہد میں تین ہزار میل لائن کھلی تھی۔ اس سے سات سال پیچھے یعنی موجودہ زمانہ میں 75 ہزار میل لمبی لائن پر سات ہزار تار گھر کام کر رہے ہیں اور ہر سال ان پر ایک کروڑ بیس لاکھ تاریں گزرتی ہیں۔ ہر ایک شخص بارہ لفظوں کا ایک مختصر سا تار سینکڑوں یا ہزاروں میل کے فاصلے پر بارہ آنے خرچ کر کے چند منٹوں میں اپنے دوست کے پاس بھیج سکتا ہے۔

نہریں اور آبپاشی:
مال اور مسافروں کو نہریں ریلوں کی نسبت بھی زیادہ ارزاں شرح سے لے جاتی ہیں اور ان سے صرف یہی کام نہیں لیا جاتا بلکہ وہ زمین کے بڑے بڑے قطعات کو بھی سیراب کرتی ہیں۔ گو زمانہ سابق میں بھی نہریں تھیں مگر جب انگریزوں نے حکومت اپنے ہاتھ میں لی تو ان میں سے بہت ہی کم کارآمد تھیں۔ جنگ اور بدامنی نے انہیں تلف کر دیا تھا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے پرانی نہروں کی مرمت اور توسیع کی اور بہت سی نہریں کھدوائیں۔

جو نہریں 1858ءمیں جاری تھیں ان سے پندرہ لاکھ ایکڑ زمین آبپاشی ہوتی تھی۔ تب سے گزشتہ 60 سال میں پینتالیس کروڑ روپیہ نہروں پر خرچ ہو چکا ہے۔ اب ہندوستان میں دنیا بھر کے عمدہ ترین سلسلہ ہائے آبپاشی موجود ہیں۔ دو کروڑ تیس لاکھ ایکڑ سے زیادہ زمین کو پانی ملتا ہے اور ااس میں اکسٹھ کروڑ روپیہ سے زیادہ مالیت کی فصلیں ہوتی ہیں۔
نہر اپر گنگا ایک نئے دریا کی طرح 460 میل لمبی ہے اور اس کی شاخیں 4480 میل لمبی ہیں۔

پنجاب میں 4500 میل بڑی نہریں اور ان کی شاخیں ہیں اور 10500 میل چھوٹے چھوٹے کھال ہیں یہ سلسلے پچاس لاکھ ایکڑ زمین کی آبپاشی کرتے ہیں۔ نہر چناب نے ایک خشک اور ویران بیابان کو سرسبز باغ بنا دیا ہے، جس کا رقبہ بیس لاکھ ایکڑ ہے۔ سندھ کی اس زمین میں جو کبھی خشک جنگل تھا۔ گیہوں کی بہت مقدار پیدا ہوتی ہے۔ یہ گیہوں ان دس لاکھ کسانوں کی خوراک کا کام دیتے ہیں جو اور علاقوں سے یہاں آ بسے ہیں۔ سندھ کی یہ نو آبادی صرف وہاں کے باشندوں ہی کی خوراک بہم نہیں پہنچاتی بلکہ وہاں سے ایک ہی سال میں تین کروڑ روپیہ کی مالیت کے گیہوں اور ملکوں میں بھیجے گئے تھے۔ زمانہ قدیم کے اس جنگل میں اب کئی شاداب گاﺅں ہیں جن کی سڑکیں عمدہ ہیں، مکانات وسیع ہیں۔ کنویں، مسجدیں، درختوں کے ذخیرے، مدرسے اور باغات بھی موجود ہیں۔

زراعت:
ہندوستان کے لوگوں کا سب سے بڑا کام فصل پیدا کرنا اور مویشی پالنا ہے۔ چنانچہ یہاں کے تیس کروڑ باشندوں میں سے دو تہائی کی بسر اوقات کی یہی صورت ہے۔ چونکہ یہ ملک دیہات کی سرزمین ہے اور گاﺅں میں ہر دس میں سے نو آدمی کھیتی باڑی پر گزارہ کرتے ہیں۔ اس لیے گورنمنٹ کاشتکاروں کا خاص خیال رکھتی ہے اور انہیں ہر طرح کی مدد دیتی اور بتاتی ہے کہ یہ کام کیونکر ہوتا ہے۔

رعیت کے لیے سب سے بڑی ضروری بات امن و حفاظت ہے۔ جب فوجیں خونریزی و غارت گری کرتی ہوئی ادھر ادھر پھرتی ہوں۔ کھیتوں کو ویران کرتی ہوں اور غریب کسانوں کی فصلیں کاٹ کاٹ کر گاﺅں کو جلا دینے میں مصروف رہتی ہوں تو ایسی حالت میں زراعت کرنا بالکل ناممکن ہوتا ہے۔ اب سب جگہ امن ہے جوں جوں علاقے پر علاقہ انگریز سلطنت میں شامل ہو کر برٹش انڈیا کا جزو بنتا گیا، رعیت امن و امان سے اپنے کھیتوں میں کاشتکاری کرنے لگی۔
رعیت کی دوسری ضرورت زمین پر اوسط درجہ کا لگان ہے۔ انگریز راج میں یہ بھی واجبی ہے اور رعیت اسے ادا کر کے باقی روپیہ جس طرح چاہے اپنے استعمال میں لا سکتی ہے۔ لگان وصول کرنے والے افسروں کو سرکار دولت مدار بیش قرار تنخواہیں دیتی ہے۔ رعیت کو انہیں کچھ نہیں دینا پڑتا۔ جتنا اناج زمیندار کی ضرورت سے بڑھ کر ہو وہ اسے سوداگروں کے پاس بیچ سکتا ہے جو ملک کے اور علاقوں میں فروخت کرنے کے لیے خرید لیتے ہیں لیکن اگر عمدہ سڑکیں اور ریلیں اسے تھوڑے سے خرچ پر دور و دراز فاصلوں تک پہنچانے کے لیے موجود نہ ہوتیں تو سوداگر ہرگز ایسا نہ کر سکتے۔ یہ سب چیزیں گورنمنٹ مہیا کرتی ہے جن سے زمینداروں کو بہت مدد ملتی ہے۔

سرکار نے رعایا اور ان کی اولاد کے لیے زراعتی کالج اور تجربہ کے لیے فارم (کھیت) قائم کیے ہیں۔ ان میں زراعت کے تازہ ترین اور عمدہ سے عمدہ طریقے سکھائے جاتے ہیں اور غیر ممالک سے نئے نئے اناج، پھل، ترکاریاں اور میوے لا کر ان تجربہ کے فارموں میں بوئے جاتے ہیں۔ فصل اگانے کے نئے طریقوں، نئے ہلوں اور تازہ بیجوں کا امتحان کیا جاتا ہے، جو بیماریاں پودوں کو ضرر پہنچاتی اور گیہوں، چاول، قہوہ، نیشکر اور فصلوں کو تباہ کرتی ہیں ان کی تحقیقات کی جاتی ہے۔ جو لوگ ان بیماریوں سے پورے واقف اور ان کے معالجے اور روک تھام سے آگاہ ہوں۔ انہیں دیہات میں دورے کے لیے بھیجا جاتا ہے، تاکہ کاشتکاروں اور باغبانوں کو ان کے تدارک کے عمدہ ترین طریقے سکھا دیں۔

یہ بھی پڑھیں:  1883-84میں لاہور کے پیشے ،صنعتیں ، تجارت اور مواصلات(۱)

ایک محکمہ مویشی کے علاج کا بھی ہے جسے سول ویٹرنری ڈیپارٹمنٹ کہتے ہیں۔ اس کے عہدہ دار زمینداروں کے مویشیوں کی خبر گیری کرتے ہیں اور حتیٰ الوسع ان کو خبر گیری کے طریقے سکھاتے ہیں۔ اس فن کے مدرسے بھی ہیں۔ جہاں لوگوں کو مویشیوں کے علم طب کی تعلیم دی جاتی ہے۔ وہ نسل مویشی کی اصلاح میں بھی کوشاں رہتے ہیں، تاکہ زمینداروں کو ویسی ہی عمدہ گائیں، مضبوط اور بڑے بڑے بیل، گھوڑے اور ٹٹو میسر آ سکیں جیسے انگلستان، آسٹریلیا اور دیگر مقبوضات برطانیہ میں ہوتے ہیں۔

سب جگہ زمینداروں کے بچوں کے لیے مدرسے بھی کھولے گئے ہیں تاکہ وہ لکھنا پڑھنا سیکھ لیں، کیونکہ کتابوں میں بہت سے علوم ہوتے ہیں۔ اسی واسطے جو لوگ پڑھ سکتے ہوں وہ اس قسم کی واقفیت حاصل کر سکتے ہیں جس سے اپنی زمینوں میں عمدہ طور سے کاشتکاری کر سکیں اور اپنا حساب و کتاب بھی رکھ سکیں اور کسی کے دھوکے میں نہ آئیں۔

امداد قحط زدگان:
زمانہ قدیم میں ہندوستان کے اندر کتنے ہی خطرناک قحط پڑے جن کا حال ہمیں ہندوﺅں کی مقدس کتابوں سے معلوم ہوتا ہے۔ بعدازاں جب یہاں مسلمان حکمران تھے، تب بھی جو قحط پڑے، ان کے تفصیلی حالات تاریخوں میں درج ہیں۔ اکبر کے زمانے میں کم سے کم تین سخت قحط پڑے۔ لاکھوں آدمی مر گئے، کیونکہ ان دنوں ریل نہ تھی اور دور و دراز مقام پر غلہ روانہ کرنے کے وسائل بالکل نہ تھے۔

قحط کے کئی ایک سبب ہیں۔ ان سب سے بڑا بارش کا نہ ہونا ہے مگر علاوہ ازیں جنگ، قزاقی اور بدانتظامی سے قحط پڑ جاتا ہے کیونکہ جہاں کہیں یہ باتیں ہوں گو وہاں مینہ بھی برسے، مزارع اپنے کھیتوں میں امن سے کاشتکاری نہیں کر سکتے۔

اب ہندوستان میں امن اور عمدہ حکومت ہے اس نے قحط کے کچھ وجوہ تو رفع کر دیئے ہیں مگر عمدہ ترین گورنمنٹ بھی آسمان سے بارش نہیں لا سکتی، تاہم خشک سالی کی وجہ سے بھی اب قحط کا اتنا خطرہ نہیں رہا جتنا پہلے تھا۔ دیہات میں بارش نہ ہو تو پرانے زمانے کی طرح ہزاروں آدمی مرنہیں جاتے۔

قدیم زمانے میں جب بہت سے خود مختار حکمران تھے۔ ہر ایک فرمانروا کو اپنی سلطنت کی فکر کرنا پڑتی تھی۔ اس کو دوسری مملکت کی کچھ پروا نہ ہوتی تھی۔ بلکہ اتنی خبر بھی نہ ملتی تھی کہ دوسرے علاقے میں کیا ہو رہا ہے۔ ہندوستان کا ہر ایک حصہ اسی صورت میں قحط سے محفوظ رہ سکتا ہے جب سارے ملک پر ایک اعلیٰ حکمران ہو کیونکہ وہ اعلیٰ حاکم یعنی وائسرائے ملک کے تمام حصوں کی یکساں طور پر خبر گیری کرتا ہے۔

ہندوستان اتنا وسیع ملک ہے اور اس میں اتنے صوبے ہیں کہ جب کسی ایک حصے میں پیداوار کی کمی ہو تو دوسرے میں ضرور افراط ہو گی۔ جب ان صوبوں کا ایک اعلیٰ حاکم ہو تو وہ ایک صوبے سے دوسرے صوبے میں مدد بھجوا سکتا ہے۔

اگلے وقتوں میں ایک صوبہ دوسرے صوبے کی مدد بھی کرنا چاہتا تو نہیں کر سکتا تھا۔ کیونکہ ریل تو مطلق تھی ہی نہیں۔ اچھی سڑکیں بھی شاذونادر ہی تھیں۔ بلکہ جیسی سڑکیں اب ہم دیکھتے ہیں ویسی ایک بھی نہ تھی۔

جب سرکار انگریز نے ہند کی حکومت اپنے ہاتھ میں لی تو بہت سی کوششیں عمل میں آئیں۔ بہتیرا روپیہ خرچ کیا گیا اور بہت سی تجویزوں کے مطابق یکے بعد دیگرے تجربے کیے گئے اور ان مشکلات سے قحط کے انسداد کے بہترین طریقے معلوم ہوئے۔

پہلے، سارے ملک اور بالخصوص ان علاقوں میں ریل جاری کی گئی جہاں علی العموم مینہ نہیں برستا۔ اب ہندوستان کے ہر ایک حصے میں ریل کے ذریعہ سے پہنچ سکتے ہیں اور اسی طرح اناج بھی لا سکتے ہیں۔ چند سال گزرے کہ ایک صوبے میں خشک سالی کی وجہ سے لوگوں کے کھانے کے لیے کچھ غلہ پیدا نہ ہوا تو وہاں ریل کے ذریعے سے پچیس لاکھ ٹن غلہ پہنچا دیا گیا۔

دوسرے، ملک کے بڑے بڑے علاقوں میں اب نہروں سے آبپاشی ہوتی ہے۔ اسی طرح وہاں سے بھی قحط کا خطرہ ہمیشہ کے لیے رفع کر دیا گیا ہے کیونکہ مینہ برسے یا نہ برسے دریا کے پانی سے نہر ہر وقت پر رہتی ہے۔ دریا پہاڑوں سے آتے ہیں جن میں برف کا پانی ہوا کرتا ہے اور اس کا بارش پر مدار نہیں۔
تیسرے، مینہ نہ برسے اور پیداوار نہ ہو تو زمین کا معاملہ معاف کر دیا جاتا ہے اور غریب زمیندار کو سرکار میں کچھ لگان ادا نہیں کرنا پڑتا، بلکہ اسے خوراک اور آئندہ سال کے واسطے بیج خرید کرنے کے واسطے پیشگی روپیہ بھی دے دیا جاتا ہے۔

1901ءمیں بعض علاقوں میں بارش بالکل نہ ہوئی تو زمین کے لگان کا دو کروڑ روپیہ معاف کر دیا گیا جو دس برس 1913ءمیں ختم ہوئے ان میں سرکار نے رعایا کی امداد اور مال گزاری معاف کرنے میں انتیس کروڑ روپیہ خرچ کیا۔

چوتھے، امدادی کام کھولے جاتے ہیں۔ مثلاً کسی بڑے تالاب کو کھودنا یا سڑک کا بنانا، جو لوگ ان کاموں پر لگائے جاتے ہیں انہیں اجرت دی جاتی ہے۔ اس طرح ان کو گداگروں کے مانند کھانا نہیں ملتا، بلکہ وہ جائز طور پر اپنے کام کی اجرت لیتے ہیں، جو کام وہ کرتے ہیں لوگوں کے لیے مستقل طور پر فائدہ بخش ہوتا ہے، جو آدمی کام نہیں کر سکتے مثلاً بوڑھے، ناتوان اور بیمار انہیں مزدوری کے بغیر ہی روپیہ دے دیا جاتا ہے۔

پانچویں، امدادی کیمپوں میں شفاخانے بھی کھولے جاتے ہیں اور غریبوں کی پوری پوری خبر گیری ہوتی ہے تاکہ وہ زندہ رہیں۔

چھٹے، ملک بھر کے اناج بیچنے والوں کو اطلاع دی جاتی ہے کہ اناج کی ضرورت ہے جس پر وہ اتنا غلہ لاتے ہیں جتنا کافی ہو سکے۔ تاجر نفع کمانے کے لیے یہ کام خودبخود اپنی خوشی سے کرتے ہیں۔ کسی قسم کا جبر ان پر نہیں کیا جاتا۔

ساتویں، سرکار نے ایک ضابطہ قحط بنا رکھا ہے جس میں اس کے متعلق قواعد درج ہیں۔ ان میں سے ہر ایک افسر کو واضح طور پر معلوم ہو جاتا ہے کہ اسے کیا کرنا چاہیے۔ قحط نہ بھی ہو تو بھی ہر ایک صوبے میں امدادی کاموں کے نقشے تیار رہتے ہیں اور منظوری دی جاتی ہے تاکہ خشک سالی ہونے پر کسی قسم کی دیرپا تضیع اوقات نہ ہونے پائے۔

آخری علاج یہ ہے کہ سرکار نے 1876ءسے ڈیڑھ کروڑ روپیہ سالانہ علیحدہ رکھنا شروع کیا ہے تاکہ کسی صوبے میں قحط نمایاں ہو تو لوگوں کی امداد کے واسطے اس کے پاس بکثرت روپیہ موجود ہو اور قحط کا بخوبی انسداد ہو سکے۔

سیونگ بینک اور مشترکہ سرمائے کی سوسائٹیاں (زمینداری بینک):
ہر ایک شخص جانتا ہے کہ جب اس کے پاس روپیہ وافر ہو تو اس میں سے کچھ بچا رکھنا کیسی اچھی بات ہے کیونکہ اگر وہ بیمار پڑ جائے، کام کرنے کے قابل نہ رہے یا بوڑھا ہو جائے تو جمع کیا ہوا روپیہ اس کے کام آئے گا۔ اسی واسطے گورنمنٹ حتیٰ الوسع زمینداروں کو روپیہ بچا کر جمع رکھنے میں مدد دیتی ہے۔

کبھی کبھی انسان کو تھوڑا بہت قرض لینے کی بھی ضرورت پڑ جاتی ہے۔ گزشتہ زمانوں کی طرح اب بھی ساہوکار لوگ گراں شرح سے سود لیتے ہیں۔ چنانچہ اگر کوئی غریب آدمی ان سے قرض لے لے تو ہمیشہ مقروض ہی رہتا ہے۔ اس سے بچانے کے لیے گورنمنٹ زمینداروں سے تھوڑا سا سود لے کر قرض دینے میں امداد کرتی ہے۔ یہ کیونکر ہوتا ہے؟

ڈاک خانوں میں سیونگ بینک ہیں۔ ان میں جن کا جب جی چاہے چار آنے کی سی چھوٹی رقم بھی جمع کرا سکتا ہے۔ یہ روپیہ اس کی بچت میں رہتا ہے اور تین روپے فی صدی سالانہ کے حساب سے سود بھی ملتا ہے۔ کسی کے ذاتی بینک سے اس سے زیادہ سود مل تو سکتا ہے مگر وہاں چھوٹی چھوٹی رقمیں جمع نہیں ہو سکتیں اور اچھے سے اچھے بینک کے ٹوٹ جانے کا بھی کھٹکا لگا رہتا ہے، مگر سرکاری بینک ٹوٹ نہیں سکتا۔ 1911ءمیں سترہ کروڑ روپیہ ڈاکخانہ کے سیونگ بینکوں میں جمع تھا۔ یہ غریب لوگوں کی بچت کا روپیہ تھا۔ سال بھر میں کوئی شخص ساڑھے سات سو سے زیادہ جمع نہیں کرا سکتا اور نہ کسی کے پانچ ہزار روپے سے زائد کی رقم ایسے بینکوں میں جمع رہ سکتی ہے۔

1883ءسے سرکاری افسر مجاز ہیں کہ تھوڑی شرح سود پر اور بعض اوقات بالکل بلاسود ہی زمینداروں کو روپیہ قرض دے دیں، تاکہ وہ عمدہ بیج یا عمدہ مویشی خرید سکیں اور جب پیداوار اچھی ہو، قرض ادا کریں۔ 1909ءمیں اس طرح کے قرض میں دو کروڑ روپیہ لگا ہوا تھا۔

گورنمنٹ نے 1904ءمیں زمینداری بینک اور مشترکہ سرمائے کی سوسائٹیاں قائم کیں۔ ان کا ہر ایک ممبر اوروں کی مدد بھی کر سکتا ہے اور ان سے خود بھی مدد لے سکتا ہے جن کے پاس روپیہ ہوتا ہے وہ مل کر ایک بینک بنا لیتے ہیں۔ ایسے بینک سے تھوڑی شرح سود پر قرض مل جاتا ہے اس قسم کے بینکوں کوگورنمنٹ بھی قرض دے دیتی ہے اور چونکہ اس کا ہر ایک ممبر ادائے قرض کا ذمہ دار ہوتا ہے اس لیے ان بینکوں کو لوگوں سے بھی تھوڑی شرح سود پر روپیہ قرض مل جاتا ہے جو خود زمیندار کو اپنی ذمہ داری پر نہ ملتا۔ اگر کوئی زمیندار اپنے آپ قرض لے تو قرض خواہ کو ہمیشہ یہ اندیشہ رہتا ہے کہ شاید روپیہ وصول نہ ہو سکے۔ اسی واسطے قرض دینے والا اس خطرے کی تلافی کے لیے بھاری شرح سے سود لیتا ہے لیکن جب بہت سے آدمی مل جائیں اور وہ سب کے سب ادائے قرض کے ذمہ دار ہوں تو یہ فکر کم ہو جاتی ہے اور اسی واسطے ہر ایک ساہوکار تھوڑی شرح سود سے روپیہ دینے کو تیار ہو جاتا ہے پھر بینک سے اس کے ممبر کسی قدر زائد شرح سود پر قرض لے لیتے ہیں اور اس حالت میں کچھ نفع بھی ہوتا رہتا ہے جو حصہ رسد ممبروں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔

اب اس قسم کی بہت سی سوسائٹیاں موجود ہیں لیکن 1911ءمیں برٹش انڈیا کے اندر ان کی تعداد ساڑھے تین ہزار تھی اور ان کا کل سرمایہ ایک کروڑ تین لاکھ روپیہ تھا۔ اس رقم میں سات لاکھ سے کچھ زیادہ گورنمنٹ کا روپیہ تھا۔

تجارت:
ہندوستان اور دیگر ممالک کے مابین صدیوں سے تجارت کا سلسلہ قائم چلا آتا ہے، مگر زمانہ قدیم میں یہی تجارت بہت تھوڑی تھی۔ زمانہ حال میں جتنی چیزیں دوسرے ملکوں سے آتی ہیں یا جو جو اسباب یہاں سے غیر ممالک کو بھیجا جاتا ہے۔ اس کی نسبت وہ اشیاءجن کی خریدوفروخت ان ایام میں ہوا کرتی تھی بہت ہی کم تھیں۔ جب تک سارے ہندوستان میں امن قائم نہیں ہوا عمدہ سڑکیں اور ریلیں نہیں بنیں۔ ملک کی تجارت کو فروغ نہیں ہو سکا۔ علیٰ ہذالقیاس۔ سمندر پار کے ملکوں کے ساتھ تجارت کرنے کے واسطے سٹیمر اور جہاز درکار ہیں۔

اگلے زمانہ میں ہندوستان کی بندرگاہیں بہت ہی کم تھیں اور کچھ اچھی بھی نہ تھیں۔ ان پرانی بندرگاہوں کی توسیع اور اصلاح کی گئی تو اب جہاز بڑی سہولت اور امن سے مال و اسباب اور مسافر اتار سکتے ہیں۔ ہندوستان کی بڑی بڑی بندرگاہیں، کلکتہ، بمبئی، رنگون، مدراس، کراچی اور چاٹگام ہیں۔ ان میں سے ہر ایک سے ریل کی لمبی لمبی لائنیں ہند کے ہر ایک حصے میں پہنچتی ہیں اور اس اسباب کی بہت بڑی مقدار لے جاتی ہیں جو جہازوں میں غیر ممالک سے آتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  آریوں کی برصغیر میں آمد

1869ءمیں تجارت میں بڑی تیزی کے ساتھ ترقی ہونے لگی۔ اس سال نہر سویز کھودی گئی اور اس سے جہاز گزرنے لگے۔ انگلستان سے ہندوستان تک کا پرانا راستہ سارے افریقہ کا چکر لگاتا تھا اور سو دن یا اس سے بھی زیادہ عرصے میں یہ سفر ختم ہوتا تھا مگر اب تقریباً سولہ دن لگتے ہیں۔

جوں جوں تجارت میں ترقی ہوتی گئی۔ سرکار محصول داخلہ (کسٹم ڈیوٹی) بھی گھٹاتی گئی۔ پہلے جو مال باہر سے اس ملک میں آتا تھا۔ اس کی مالیت کا بیس فیصدی بطور محصول لے لیا جاتا تھا مگر اب صرف پانچ فیصدی لیا جاتا ہے، بلکہ لوہے اور فولاد کی چیزوں پر ایک فیصد اور روئی کے کپڑوں پر ساڑھے تین فیصدی ٹیکس ہے۔ بہتیری چیزیں مثلاً کتابیں وغیرہ ایسی بھی ہیں جو اس ٹیکس سے مستثنیٰ ہیں۔

1834ءمیں مال درآمد سات کروڑ اور مال برآمد گیارہ کروڑ روپے کی مالیت کا تھا۔ 1911ءمیں مال درآمد ایک ارب انہتر کروڑ اور مال برآمد دو ارب سولہ کروڑ روپے کی مالیت تک پہنچ گیا۔ سمندر کی راہ دیگر ممالک کے ساتھ ہندوستان کی جتنی تجارت ہوتی ہے۔ اس کی مقدار پچاس سال پیشتر کی نسبت اب نو گنا سے بھی زیادہ ہے۔ یہ مال درآمد نصف سے زیادہ برطانیہ عظمیٰ سے آتا ہے باقی دوسرے ممالک سے اور مال برآمد چوتھائی سے زیادہ تو برطانیہ عظمیٰ کو جاتا ہے باقی دوسرے ملکوں کو، کچھ یورپ میں، کچھ ایشیاءمیں۔

 مال برآمد:
جو چیزیں ہندوستان سے باہر جاتی ہیں دو طرح کی ہیں بعض تو ایسی ہیں جو اس ملک میں تیار کی جاتی ہیں اور بعض ایسی ہیں جو یہاں پیدا ہوتی ہیں۔
یہاں کی پیدوار کی بڑی بڑی جنسیں یہ ہیں۔

روئی، پٹ سن، اناج جیسے چاول اور گیہوں، تیل کے بیج، چائے، افیون، مصالح، اون، نیل، دالیں، تیل اور قہوہ۔
جو اشیاءہندوستان میں تیار ہوتی ہیں وہ یہ ہیں۔

روئی کا سوت اور کپڑے، کھالیں اور چمڑے، پٹ سن کی بوریاں اور لاکھ کے رنگ۔

ہندوستان میں کئی ایک ایسی چیزیں بھی پیدا ہوتی ہیں جو بہت ہی کم اور ملکوں میں ملتی ہیں۔ ان کی دنیا بھر کو ضرورت ہے۔ اسی واسطے اور ملکوں میں بغیر کسی ٹیکس کے چلی جاتی ہیں جو پانچ بڑی بڑی جنسیں یعنی روئی، پٹ سن، تیل کے بیج، چاول اور گیہوں زمینداروںٰ کی محنت سے پیدا ہوتی ہیں۔ ان کی جو قدر مقدار 1911ءمیں باہر گئی۔ اس کی مالیت ایک ارب بارہ کروڑ روپیہ تھی یا یوں کہو کہ لگان ادا کر کے سوداگروں کو اپنے ہی ملک میں بیچنے کے لیے اناج دے کر اور اپنی ضروریات کے مطابق اپنے پاس رکھ کر زمینداروں نے ہندوستان بھر کی مال گزاری کی آمد سے ساڑھے تین گنا پیداوار دوسرے ملکوں کو بھیجی۔

مال درآمد:
گزشتہ زمانے میں جب انگریز سوداگر پہلی دفعہ تجارت کے لیے ہندوستان میں آئے جسے کوئی تین سو برس ہوئے ہیں۔ تب وہ اپنے ساتھ ذیل کی بڑی بڑی اشیاءلائے تھے۔ سونا، چاندی، اونی مال اور مخمل۔

اب وہ یورپ کی تیار کی ہوئی بے شمار چیزیں لاتے ہیں جن میں سے بڑی بڑی حسب ذیل ہیں۔

روئی کے کپڑے، چینی (کھانڈ) دھاتیں ہر قسم کی کلیں، لوہے کا سامان، قینچی، چاقو، سامان خوردونوش، مٹی کا تیل، جڑی بوٹیاں اور دوائیاں۔

بہت ہی قدیم زمانے میں اور اس کے بعد بھی مدتوں تک ہندوستان میں جس چیز کی ضرورت ہوتی وہ یہیں بنتی یا پیدا ہوتی تھی۔ ہر ایک گاﺅں کی اپنی ہی فصل تھی اور اپنے ہی حرفت پیشہ لوگ، پھر ایک ایسا زمانہ آیا کہ لوگوں کے استعمال کی جو اشیاءدوسرے ملکوں میں بہتر اور ارزاں بنتی تھیں، وہاں سے منگوائی جانے لگیں، مگر وہ وقت قریب آ رہا ہے کہ اس ملک کی کارآمد اشیاءیہیں بنائی جائیں گی۔ بڑے بڑے شہروں میں کارخانے اور ورکشاپ کھل رہے ہیں۔ بمبئی اور کلکتہ میں روئی کے پتلی گھر بن گئے ہیں۔ ریشم، پٹ سن، کچی کھالیں، چمڑے اور لکڑی ہندوستان سے بہت دور کی مسافرت پر یورپ میں لے جاتے ہیں۔ وہاں ہنر مند کاریگر ان سے سامان تیار کرتے اور پھر ہندوستان میں واپس بھیج دیتے ہیں۔ اگر اس ملک کے صناع بھی ہوشیار ہوتے اور خوب محنت سے کام کرتے تو یہ سب چیزیں یہیں بن سکتی تھیں۔ گورنمنٹ اب صنعت اور دستکاری کے مدرسے بہت سی جگہوں میں کھول رہی ہے تاکہ یہاں کے کاریگر ہر قسم کا سامان بنانا سیکھ جائیں۔

حفظ صحت اور صحت عامہ:
ایسٹ انڈیا کمپنی کے ابتدائی زمانے ہی میں لوگوں کے فائدے کی خاطر شفا خانے کھولے گئے تھے اور دوائیاں اور ڈاکٹر مہیا کیے گئے تھے۔ 1858ءمیں جب ایسٹ انڈیا کمپنی ٹوٹ گئی اور ملکہ وکٹوریہ نے عنانِ حکومت اپنے ہاتھ میں لی تو 143 سول ہسپتال اور شفاخانے تھے جن میں سات لاکھ بیماروں کا علاج ہوا۔ اس سے پچاس سال بعد 1907ءمیں اڑھائی ہزار سرکاری ہسپتال تھے۔ جہاں اڑھائی کروڑ بیماروں کا معالجہ عمل میں آیا۔ علاوہ بریں پانچ سو پرائیویٹ ہسپتال تھے جن میں سے زیادہ تر پادریوں کے تھے۔ ملازمان پولیس اور ریلوے کے لیے شفاخانے اور بھی تھے جن میں لاکھوں مریضوں کاعلاج کیا گیا۔

سرکاری میڈیکل ڈیپارٹمنٹ (طبی محکمہ) میں متفرق درجوں کے سینکڑوں ڈاکٹر ہیں ان سب کو گورنمنٹ تنخواہ دیتی ہے۔ ہندوستان کے ہر ایک ضلع میں سول سرجن کے ماتحت ایک بڑا سول ہسپتال ہوتا ہے جس میں تربیت یافتہ تیمار دار عورتیں (نرسیں) متعین رہتی ہیں۔

سول سرجن کے ماتحت ضلع کے بڑے بڑے قصبوں میں چھوٹے چھوٹے شفاخانے بھی ہوتی ہیں جن میں اسسٹنٹ سرجن، سب اسسٹنٹ سرجن اور کہیں کہیں نرسیں بھی کام کرتی ہیں۔ مقامی اور ولایتی سپاہیوں کی خاص احتیاط کی جاتی ہے۔ فوجی طبی محکمہ الگ ہے۔ ہر ایک رجمنٹ میں جدا جدا ڈاکٹر اور نرسیں ہیں۔ سپاہیوں کا علاج مفت ہوتا ہے اور انہیں دوائی بھی مفت ملتی ہے۔

پردہ دار اور اونچی ذات کی عورتوں کے لیے جو عام ہسپتالوں میں نہیں جا سکتیں۔ زنانہ شفا خانے موجود ہیں، جن میں ڈاکٹر عورتیں اور نرسیں متعین ہوتی ہیں۔ اس قسم کے 260 ہسپتال ہیں اور ان میں ہر سال بیس لاکھ سے زیادہ عورتوں کا علاج ہوتا ہے۔

ہندوستان میں جس بیماری سے لوگ بکثرت مرتے ہیں وہ بخار ہے اور اس کے لیے بہترین دوا کونین ہے۔ یہ سفوف سنکونا کے پودے سے بنتا ہے اور اس کے پیکٹ جو سات سات گرین کے ہوتے ہیں۔ سرکاری ڈاکخانوں سے پیسے پیسے ملتے ہیں۔ یوں ملک بھر میں اس کے لاکھوں پیکٹ ایسے مقامات پر بک جاتے ہیں جہاں شفاخانے نہیں ہوتے۔

جس طرح سرکار بیماروں کے علاج کا انتظام کرتی ہے۔ اسی طرح بیماریوں کے انسداد میں بھی کوشاں رہتی ہے۔ میڈیکل ڈیپارٹمنٹ کے علاوہ ایک محکمہ حفظان صحت کا بھی ہے جس کے افسر امراض کے روکنے میں سعی کرتے ہیں۔ بہت سے بڑے بڑے شہروں میں صاف و شفاف پانی مہیا کیا جاتا ہے جسے بڑے بڑے تالابوں میں جمع کر لیتے ہیں اور مصفا و مقطر کر کے نلوں کے ذریعہ سے لوگوں تک پہنچاتے ہیں۔ شہروں سے غلیظ پانی کے باہر نکال دینے کاانتظام کیاجاتا ہے۔ بازار صاف کیے جاتے ہیں۔ بڑے بڑے شہروں میں چھڑکاﺅ بھی ہوتا ہے تاکہ گردوغبار بیٹھ جائے۔ جتنی غلاظت شہروں میں ہوتی ہے اسے چھکڑوں میں بھر کر باہر لے جاتے ہیں اور یا تو اسے جلا دیتے ہیں یا کھاد کے کام میں لاتے ہیں۔

چیچک کے روکنے کی خاطر ٹیکہ لگانے والے سرکاری ملازم موجود ہیں۔ یورپ میں اس پرخطر بیماری سے پہلے تو بہت سے آدمی مر جاتے تھے مگر اب کوئی بھی اس مرض سے نہیں مرتا، کیونکہ ٹیکے نے اس کی بیخ کنی کر دی ہے۔ ایسا ہی ہندوستان میں بھی پیشتر کی نسبت بہت ہی کم اموات اس بیماری سے وقوع میں آئی ہیں کیونکہ یہاں بھی اب بہت سے لوگوں کے ٹیکہ لگایا جاتا ہے۔ اگر ہر ایک آدمی ٹیکہ لگوائے تو چیچک سے کوئی بھی موت نہ ہونے پائے۔
ایک اور مہلک مرض طاعون ہے۔ یہ ہندوستان میں زمانہ قدیم سے چلا آتا ہے۔ 1896ءمیں یہ بیماری بمبئی میں پھیل گئی اور اکثر آدمی موت کے پنجے میں پھنسے۔ بہت سی تحقیقات کے بعد اب معلوم ہوا ہے کہ یہ بیماری چوہوں سے انسان کے پاس پہنچتی ہے۔ اس مرض کی روک تھام کا صرف یہی طریقہ ہے کہ سب چوہے مروا دیئے جائیں جس مکان میں طاعون ہو اسے جلا دیا جائے اور اگر ایسا نہ ہو سکے تو اسکی دیواروں اور فرش کو ایسے پانی سے اچھی طرح دھو دیا جائے جس میں پرمیگنیٹ آف پوٹیشیم حل کیا ہوا ہو اور جن لوگوں میں اس کے پھیلنے کا احتمال ہو انہیں پلیگ کا ٹیکہ لگوا دیا جائے۔ یہ سب کام محکمہ حفظانِ صحت کے افسر کرتے ہیں۔

تعلیم:
ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان میں کوئی سرکاری مدرسہ موجود نہیں پایا۔ 1871ءمیں وارن ہیسٹنگز نے مسلمانوں کے لیے کلکتہ میں ایک مدرسہ قائم کیا۔ دس سال بعد لارڈ کارنوالس نے ہندوﺅں کے واسطے بنارس میں ایک کالج کھولا بعدازاں وقتاً فوقتاً مدرسے اور کالج کھلتے رہے۔ سالِ غدر یعنی 1857ءمیں کلکتہ مدراس کی یونیورسٹیاں قائم ہوئیں۔

اسی زمانے کے قریب قریب سررشتہ تعلیم کے محکمے بنائے گئے اور نئے مدرسے کھولنے اور ان کی نسبت رپورٹ کرنے کے واسطے انسپکٹر مقرر کیے گئے۔ جب 1858ءمیں ملکہ وکٹوریہ نے یہاں کی سلطنت اپنے ہاتھ میں لی تو ہندوستان بھر میں کل تیرہ کالج تھے اور مدراس میں کوئی چالیس ہزار طالب علم۔

گزشتہ پچاس سال میں بہت کچھ ترقی ہو گئی ہے۔ لارڈ میو، لارڈ رپن اور لارڈ کرزن نے بالخصوص تعلیم کے بارے میں بہت کچھ کیا۔ 1909ءمیں 22 کالج تھے جن میں پچیس ہزار طلبہ تعلیم پاتے تھے اور ایک لاکھ ارسٹھ ہزار مدرسے تھے جن کے طالب علم ساٹھ لاکھ تھے۔ اس سال میں چھ کروڑ سات لاکھ روپے تعلیم پر خرچ ہوئے۔ مدرسوں کی کئی قسمیں ہیں جن میں سے پرائمری سکول سب سے ادنیٰ درجے کے ہیں۔ ان میں لکھنا پڑھنا سکھایا جاتا ہے اور ایسے بہت سے مضامین کی بھی تعلیم ہوتی ہے جو زمینداروں کے لیے مفید ہیں۔ مثلاً حساب، کسی قدر جغرافیہ، ابتدائی مساحت و زراعت، کاغذات دیہی اور عام اشیائ، کل تعداد طلبہ کا 5/6 حصہ پرائمری سکولوں میں زیر تعلیم ہے۔

ان سے اوپر کے درجے کے سیکنڈری (وسطی) مدارس ہیں جن میں یا تو انگریزی بھی پڑھائی جاتی ہے یا صرف ورنیکلر مضامین، مڈل سکولوں میں زبانِ صرف و نحو، حساب الجبرا، جیومیٹری، تاریخِ ہند، جغرافیہ، ابتدائی سائنس اور فنِ زراعت کی تعلیم دی جاتی ہے۔ ہائی سکولوں میں بھی یہی مضامین پڑھائے جاتے ہیں مگر مڈل سے زیادہ۔

کالجوں میں صرف وہی طالب علم داخل ہو سکتے ہیں جنہوں نے یونیورسٹی کا امتحان میڈیکویشن (داخلہ) پاس کیا ہو۔ طلبہ، زبان، ریاضی، تاریخ یا کسی اور ایسے مضمون میں ڈگری حاصل کرنے کے لیے تعلیم پاتے ہیں جو کالج میں پڑھایا جاتا ہو۔ ان کالجوں میں لائق اور فاضل پروفیسر وہ تمام علوم و فنون سکھاتے ہیں جن کا یورپ میں چرچا ہے۔

علاوہ ازیں کئی ایک خاص مدرسے بھی ہیں۔ بعض دستکاری کے ہیں جہاں بڑھئی، لوہار، موچی، درزی، جلاہے، ٹھٹھیرے ،دری باف اور باغبان کا کام اور پیشے سکھائے جاتے ہیں۔ آرٹ سکولوں میں نقشہ کشی، منبت کاری، بوتہ سازی، نقاشی اور سنگ تراشی سکھاتے ہیں۔ انجینئرنگ کالجوں میں ہر ایک قسم کے انجینئری کام کی تعلیم دیتے اور طلبہ کو محکمہ تعمیرات عامہ کے لیے تیار کراتے ہیں۔ زراعتی اور فنِ طب مویشی کے مدرسے بھی ہیں۔ جن میں زمین کی کاشت اور مویشی کی نگہداشت کے متعلق سب باتیں بتائی جاتی ہیں۔ میڈیکل سکول اور کالج بھی ہیں جن میں فن طبابت اور جراحی کے استاد ہیں۔ قانونی کالجوں اور سکولوں میں قانون کی سب شاخوں کی تعلیم ہوتی ہے اور ٹریننگ کالجوں اور نارمل سکولوں میں معلموں کو علم و فن سکھایا جاتا ہے۔