yousaf_raza_gilani

یوسف رضا گیلانی کیخلاف درخواست خارج

EjazNews

اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی ایم این اے علی نواز اعوان کی طرف سے یوسف رضا گیلانی کی سینیٹ میں کامیابی کے خلاف درخواست خارج کردی ہے۔

عدالت نے یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی حیدر گیلانی کو بطور ایم پی اے نااہل کرنے کی درخواست بھی مسترد کر دی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی ایم این اے علی نواز اعوان کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا۔

دوسری جانب الیکشن کمیشن میں یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کا نوٹیفکیشن روکنے کی درخواست پر سماعت جاری ہے۔ تحریک انصاف نے کامیابی کا نوٹیفکیشن روکنے کے لیے الیکشن کمیشن میں ترمیم شدہ درخواست جمع کرا دی ہے۔

گذشتہ روز الیکشن کمیشن نے یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی حیدر گیلانی کی سینیٹ انتخابات میں ووٹوں کی مبینہ خرید و فروخت سے متعلق درخواست پر سماعت کے دوران تحریک انصاف کے وکیل کو ویڈیو میں شامل تمام ممبران کو فریق بنانے اور نئی درخواست جمع کروانے کی ہدایت کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:  مقبوضہ کشمیر میں15کشمیریوں کی جعلی انکاؤنٹر میں شہادت پر دفتر خارجہ کا سخت رد عمل

منگل کو الیکشن کمیشن میں تحریک انصاف کی جانب سے یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کا نوٹیفکیشن روکنے سے متعلق درخواست کی سماعت کی گئی تھی۔

پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے اپنے دلائل میں کہا کہ دو طریقوں سے مختلف ارکان اسمبلی کو لالچ دیا گیا۔ ارکان اسمبلی کو پیسوں کی لالچ دے کر ووٹ خریدا گیا اور پارٹی ٹکٹس کی پیش کش بھی کی گئی اور یہ سب میڈیا میں بھی آچکا ہے۔

سماعت کے دوران علی حیدر گیلانی کی ویڈیو سمیت مریم نواز کی ٹکٹوں کی تقسیم کے حوالے سے کی گئی بات کی ویڈیو اور علی حیدر گیلانی کی پریس کانفرنس والی ویڈیو بھی چلائی۔

دوران سماعت الیکشن کمیشن کے پنجاب کے ممبر الطاف ابراہیم قریشی نے کہا کہ آپ فراخدلی سے شواہد ہمارے سامنے لائیں، ویڈیو میں لین دین کس سے ہو رہا ہے ان کی معلومات بھی فراہم کریں، پھر قانون کے مطابق ذمہ داران کے خلاف کارروائی کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  پہلے کشمیر کو5اگست کی پوزیشن پر واپس لایا جائے، پھر تجارت اور تعلقات ہوں گے

ممبر الیکشن کمیشن نے کہا کہ جن لوگوں نے خرید و فروخت میں حصہ لیا ان لوگوں کو بھی سامنے لائیں، ایسا تو نہیں ہو سکتا کہ ایک ویڈیو آنے پر ہم کارروائی کر دیں۔

 رشوت لینے اور دینے والے دونوں جرم کے مرتکب ہوتے ہیں، آپ دونوں کو سامنے لائیں پھر قانون کے مطابق ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

الیکشن کمیشن نے کہا کہ ویڈیو میں تمام کرداروں کو سامنے لائیں ہم جذبات میں نہیں بلکہ قانون کے مطابق فیصلہ کریں گے۔