shafqat mahmood

کرونا کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد حکومت کے کیے گئے فیصلے

EjazNews

اسلام آباد میں وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے پریس کانفرنس کی۔ پریس کانفرنس میں وفاقی وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ تعلیم کے تناظر میں بیماری کے پھیلاؤ کا جائزہ لیا گیا کیوں کہ 5 کروڑ طالبعلم مختلف تعلیمی اداروں میں جاتے ہیں اور یہ ایسا شعبہ ہے جس پر بیماری کا براہِ راست اثر پڑتا ہے۔ صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد دیکھا گیا کہ سندھ اور بلوچستان میں حالات ابھی تک ٹھیک ہیں اس لیے وہاں 50 فیصد بچے پہلے کی طرح تعلیمی اداروں میں ایس او پیز پر عمل کرتے ہوئے تعلیم حاصل کریں گے۔ پنجاب خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر میں مسائل نظر آئے ہیں اس لیے پیر سے کچھ مخصوص شہروں کے تمام تعلیمی اداروں میں بہار کی چھٹیاں دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا اس فیصلے کا اطلاق اسلام آباد پر بھی ہوگا اور وفاقی دارالحکومت کے بھی تمام تعلیمی ادارے پیر سے موسم بہار کی چھٹیوں کے لیے بند ہوجائیں گے اور 28 مارچ تک بند رہیں گے۔ آزاد کشمیر کی حکومت کی جانب سے مظفرآباد کے لیے بھی یہی فیصلہ متوقع ہے اور خیبرپختونخوا میں اس فیصلے کا اطلاق صرف پشاور میں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:  آسٹریلیا نے ورلڈ کپ 2019 کیلئے ٹیم کا اعلان کر دیا

وفاقی وزیر نے کہا کہ باقی اضلاع اور شہروں میں جس طرح طالبعلم پہلے آکر تعلیم حاصل کررہے تھے وہی سلسلہ جاری رہے گا لیکن صوبائی حکومتیں ان معاملات کا باریک بینی سے جائزہ لیتی رہیں گی اور جہاں محسوس ہوا کہ حالات بگڑ رہے ہیں وہاں اسکول یا شہر کو بند کیا جاسکتا ہے۔ جن سکولوں میں سالانہ امتحانات ہورہے ہیں یا کیمبرج سکول سسٹم کے امتحانات جاری ہیں وہ اُسی طرح جاری رہیں گے ان پر پابندی کا اطلاق نہیں ہوگا۔

انہوں نے یاددہانی کروائی کہ نویں اور دسویں جماعت کے امتحانات گزشتہ فیصلوں کے مطابق مئی اور جون میں ہی ہوں گے۔
معاون خصوصی صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا ملک میں کورونا وائرس کے کیسز بڑھ رہے اور کیسز کے مثبت آنے کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے جس سے ہسپتالوں میں آنے والے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ان ڈور ڈائننگ، شادی کی تقریبات اور سینما گھروں پر 15 مارچ عائد پابندیاں ہٹانے کا فیصلہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر واپس لے لیا گیا ہے اور اب یہ پابندیاں 15 اپریل تک جاری رہیں گی۔ آوٹ ڈور شادیوں میں 300 کی تعداد کی پابندی اور ایس او پیز کا نفاذ جاری ہے گا۔موجودہ پابندیوں اور ملک میں وائرس کی صورتحال پر 12 اپریل کو نظرثانی کی جائے گی۔ اگر کوئی صوبہ یا وفاقی اکائی اپنی صورتحال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کوئی فیصلہ کرنا چاہے تو کرسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  مودی کو شادیوں میں شرکت کی دعوت نہیں دیتے:بلاول بھٹو زرداری

علاوہ ازیں انہوں نے بتایا کہ آج سے 60 سال سے معمر افراد کی ویکسینیشن کا آغاز ہورہا ہے جس کے لیے 1166 پر قومی شناختی کارڈ نمبر میسج کے ذریعے بھیج کر رجسٹریشن کروائی جاسکتی ہے۔

این سی او سی کے فیصلے
کرونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش منظر این سی او سی میں مندرجہ ذیل فیصلے کیے گئے ہیں:
ماسک پہننے کی سختی سے تعمیل کی جائے۔
بیماری کے پھیلاؤ یا ہاٹ اسپاٹ کی بنیاد پر ایس ایل ڈی/ مائیکرو ایس ایل ڈی کا اطلاق جاری رہے گا۔
وفاقی اداروں کی صوابدید پر 50 فیصد ہوم پالیسی کا اطلاق ہوگا جبکہ آئی سی ٹی میں اس کا اطلاق فوری ہوگا۔
تمام تجارتی سرگرمیاں رات 10 بجے بند کردی جائے گئیں تاہم انتہائی اہم خدمات مثلاً فارمیسیز پر اس کا اطلاق نہیں ہوگا۔
ملک بھر میں تفریحی پارکس شام 6 بجے بند رہیں گے۔
لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ، ملتان میں 15 سے 3 مارچ تک سکول بند رہیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان بمقابلہ بنگلہ دیش: بنگلہ دیش کی پوری ٹیم233 رنز بنا کر آوٹ