gafoor hadiry

کیا حکومت نے غفور حیدری کوڈپٹی چیئرمین کی دعوت دی تھی؟

EjazNews

ان دنوں سینیٹ کے انتخابات عام انتخابات کی سی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن کی جماعتیں پہلے سینیٹ انتخابات اور اب چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے عہدوں پر کامیابی کے لیے سرتوڑ کوششیں کر رہی ہیں۔ایسے میں سیاسی رہنماؤں کے درمیان ہونے والی سرسری ملاقاتیں بھی خبروں سے بھرپور اور میڈیا کی دلچسپی کا سامان لیے ہوئے ہیں۔

منگل کو سینیٹ کے الوداعی اجلاس سے پہلے ہونے والی ایک ملاقات نے بھی کچھ ایسا ہی منظر پیش کیا جب چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور غفور حیدری ہاؤس بزنس ایڈوائزی کمیٹی کے اجلاس سے پہلے اکٹھے ہوئے۔

چیئرمین سینیٹ جو 12مارچ کو ہونے والے انتخابات میں دوبارہ امیدوار بھی ہیں اور غفور حیدری جنھیں پی ڈی ایم نے ڈپٹی چیئرمین کا امیدوار نامزد کیا ہے، پارلیمانی راہداری میں ایک ساتھ چلتے ہوئے آرہے تھے کہ صحافیوں نے چند لمحے قبل ہونے والی ملاقات کے بارے میں سوالات شروع کر دئیے۔

اسی دوران پیچھے چلتے ہوئے وزیر دفاع پرویز خٹک آگے بڑھے، صادق سنجرانی کے کان میں کچھ کہا اور رپورٹرز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے مولانا غفور حیدری کو حکومت کی جانب سے ڈپٹی چیئرمین بننے کی پیش کش کی ہے۔یہ جملہ خبر کی تعریف پر پورا اترتا تھا۔ اسی وجہ سے اگلے چند لمحات میں پورے پاکستان میں بریکنگ نیوز کی شکل میں ٹی وی سکرینوں کی زینت بن گیا۔

یہ بھی پڑھیں:  آئی سی سی نے ورلڈ کپ 2019ء کیلئے مبصرین کا اعلان

تحریک انصاف کا ایسا کوئی بھی فیصلہ جو وزیراعظم عمران خان کے پرانے بیانات، نظریات اور وضع کیے گئے اصولوں کے متضاد ہو، سامنے آئے اور سوشل میڈیا صارفین اور سیاسی مخالفین متحرک نہ ہوں ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟۔یہی وجہ ہے کہ خبر سامنے آنے کے ساتھ ہی شدید ردعمل بھی سامنے آ گیا۔

جماعت اسلامی کی خیبر پختونخوا اسمبلی کے رکن اور سابق صوبائی وزیر عنایت اللہ خان نے لکھا کہ جو دوسروں کے لیے حرام ہے وہ پی ٹی آئی کے لیے حلال ہوتا ہے۔

پیپلز پارٹی کی صوبائی وزیر شہلا رضا نے بھی خوب غصہ نکالا اور ٹویٹ کیا کہ عمران اور اس کی جماعت جے یو آئی پر اعتراضات کرتے نہیں تھکتی تھی۔ ڈاکو؍چور سمیت ہر گالی دینا جائز سمجھتے تھے۔ کشمیر کمیٹی کی چیئرمین شپ کو بھی ہدف تنقید بنایا جاتا رہا۔ اب حکومت نے اسی جے یو آئی کے مولانا عبدالغفور حیدری کو سینیٹ کا ڈپٹی چیئرمین بننے کی آفر کر دی ہے۔ پی ٹی آئی کہیں پر تو اپنے موقف پر قائم رہے۔

یہ بھی پڑھیں:  مریم نواز کیخلاف نیب کی درخواست خارج، شاہد خاقان عباسی14روز ریمانڈ پر، مفتاح اسماعیل حفاظتی ضمانت پر

پی ڈی ایم کے چیئرمین سینیٹ کے امیدوار سید یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے قاسم گیلانی نے لکھا کہ پی ٹی آئی کی حکومت کو سینٹ کے لیے ڈپٹی چیئرمین کا امیدوار تک نہیں ملا۔ پی ڈی ایم سے رابطہ کرنے کی ناکام کوشش۔

ابھی یہ بحث جاری ہی تھی کہ مولانا غفور حیدری نے ایسی کسی پیش کش کی تردید کر دی۔ اپنے بیان میں انھوں نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ کے پاس تمام پارٹیوں کے ممبران بیٹھے تھے۔ میٹنگ کے دوران کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔ میٹنگ کے بعد پرویز خٹک نے میڈیا کے سامنے گفتگو کی۔ حکومتی وزیر کی میڈیا کے سامنے اس طرح کی گفتگو کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔

مولانا غفور حیدری نے پی ٹی آئی حکومت کے حوالے سے کہا کہ جس حکومت کو اپوزیشن تسلیم نہیں کرتی اس حکومت کی آفر کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ پی ڈی ایم نے جو فیصلہ کیا ہے، ہم اس کے پابند ہیں۔ حکومتی وزیر اپنی ڈوبتی کشتی کو بچانے کے لیے تخریبی حربے استعمال کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  مودی اب کسی غلط فہمی میں نہ رہنا ورنہ یہ تمہاری آخری غلطی ہوگی:وزیراعظم عمران خان

اب یہ اہم نقطہ تھا کہ واقعی یہ دعو ت تھی یا پھر مذاق تھا ۔ پرویز خٹک نے ابھی تک اس کی وضاحت نہیں کی۔لیکن غفور حیدری کے لہجے سے یہ ضرور لگتا تھا کہ ان کے ساتھ مذاق ہوا ہے۔ لیکن جو بھی ہوٹی وی سکرینز کو تو خبر مل گئی تھی۔