Women march-2021

مشعل راہ بننے والی خواتین نےکیسے کامیابیاں حاصل کیں؟

EjazNews

عظمت و ہمت کی لازوال داستانیں رقم کرنے والی وہ خواتین جنہوں نے سوچ کے نہ صرف دائرے کو بدلا بلکہ اپنی ان تھک محنت اور کامیابیوں سے لاکھوں لڑکیوں کیلئے وہ مشعل راہ بنیں۔ جن کی کامیابیوں نے نہ صرف ان کے خاندان کا سر بلند کیا بلکہ وہ معاشرے کیلئے ایک مثال بنیں ۔ ایسی چند خواتین کا ہم ذیل میں ذکر کر رہے ہیں جو پورے معاشرے کیلئے مشعل راہ ہیں۔

نور الصباح:
یونیورسٹی آف ایجوکیشن ، فیصل آباد میں ایک پھل فروش کی بیٹی ، نور الصباح نے ایم ایس ،اکنامکس میں سونے کا تمغہ جیت کر والد ین کا سر فخر سے بلند کر دیا ۔ جب اس ہونہار بیٹی کو سونے کا تمغہ دیا گیا، تو اس نے وہ اعزاز اپنے والد کے نام کردیا۔اس موقعہ پر نور الصباح کے والد نے نم آنکھوں کے ساتھ کہا کہ ’’میری بیٹی ایک ہونہار طالبہ ہے ، وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرناچاہتی تھی اور ہم نے آگے بڑھنے میں اس کی ہر ممکن مدد کی۔‘‘ والدین کا سر فخر سے بلند کرنے والی نور الصبا ح کا کہنا تھا کہ ’’ میرے باباپھل فروش ہیں اور والدہ گھر میں کپڑے سیتی ہیں۔مجھے تعلیم دلوانے کے لیے انہوں نے بہت سی مشکلات کا سامنا کیا، دن رات محنت کی، پر مجھے کبھی کسی تکلیف کا احساس تک نہ ہونے دیا۔ آج امّی، بابا کی وجہ ہی سے مَیں تعلیم مکمل کر پائی ہوں۔ یہ تمغہ میرا نہیں، میرے والدین کا ہے۔ ‘‘

ڈاکٹر سارہ قریشی:
خواتین سے یہ اُمید کی جاتی ہے کہ وہ مخصوص شعبوں ہی تک محدود رہیں، یعنی بس وہی کام کریں، جس میں زیادہ دوڑ دھوپ، محنت، مشقّت نہ کرنی پڑے، لیکن پاکستانی ایروناٹیکل انجینئر، ڈاکٹر سارہ قریشی نہ صرف ہواباز ہیں، بلکہ فضائی کرتب دکھانے کی بھی ماہر ہیں۔ڈاکٹر سارہ قریشی نے ایک ایسا انجن ایجاد کیا ہے، جو اس ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے میں مدد دے گا ،جو ہوائی جہازوں کے ذریعے فضا میں پھیلتی ہے۔ وفاقی دارلحکومت ،اسلام آباد میں پلی بڑھی، ڈاکٹر سارہ نے برطانیہ کی کرین فیلڈ یونیورسٹی سے ایرو اسپیس پروپلژن میں پی ایچ ڈی کیا ۔ جس کے لیے اُن کا مقالہ ’’ماحول دوست انجن ‘‘کے موضوع پر تھا۔ وطن واپس آکرانہوں نے اپنے والد، مسعود لطیف قریشی کی مدد سے اپنی تحقیق پر عملی کام شروع کیا، جس سے فضا میں جہازوں کے ایندھن سےپیدا ہونے والی آلودگی پر قابو پایا جا سکے گا۔واضح رہے کہ ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی تعلیم انہوں نے وظائف کے ذریعے مکمل کی۔وہ بچپن ہی سے ہوا بازی کے شعبے سے متاثر تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’آسمان کا مسئلہ زمین سے زیادہ سنگین ہے، کیوں کہ فضا میں آلودگی کم کرنے کے لیے درخت نہیں لگائےجا سکتے۔جہازوں کے انجن سے خارج ہونے والا دھواں فضائی آلودگی اور عالمی حدت میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔اس کے علاوہ ہر کسی کو اپنی صلاحیتوں کاادراک ہونا چاہیے۔ جب ہم ایک قدم اُٹھاتے ہیں ، تو باقی راستے خود ہی بنتے چلے جاتے ہیں۔

صبا گل:
کون کہتا ہے کہ پاکستانی بچّیاں کمزورو ناتواں ہیں۔وہ تو ایک مضبوط چٹان کی صورت ہیں۔ ایک بار کچھ کرنے کی ٹھان لیں، تو دنیا کی کوئی طاقت ان کے حوصلے پست نہیں کر سکتی۔خیبر پختونخوا کے ضلع بونیر کی صبا گُل بھی ایسی ہی ایک بچّی ہے، جس نے معذوری کو اپنی مجبوری نہیں بننے دیا۔ 2005ءکے ایک تاریک دن ،تین سال کی معصوم، صبا گل پر بجلی کا تار آگرا۔ والدین اسے فوری طور پرہسپتال تو لے گئے، مگرننھّی کلی دونوں ہاتھوں سے محروم ہو گئی۔ جوحوصلوں سے اُڑتے ہیں، وہ پَروں کے محتاج نہیں ہوتے، تو صبا نےبھی اپنی معذوری کوتعلیم کی راہ میں حائل نہیں ہونے دیااور آج یہ بچّی اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہی ہے۔صبا گل لکھنے پڑھنےسے لے کر کپڑے استری کرنے، بال بنانےاور کھانے پینے تک تمام امور اپنے پَیروں سے انجام دیتی ہے۔ اُس کا خیال ہے کہ ’’ہاتھوں کے بغیر زندگی واقعی بہت مشکل ہے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ مجھےہر کام پیروں سے کرنے کی عادت ہو گئی ہے۔اب میں خود کو نارمل لڑکی ہی سمجھتی ہوںاورمیرا ماننا ہے کہ انسان کو زندگی میں آنے والی تمام ترمشکلات کا سامنا جرأت و ہمت ہی سے کرنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:  ازدواجی مشکلات کے اسباب

شانزہ منیر :
لوگ سمجھتےہیں، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں لڑکیاں کچھ کم ہی دلچسپی لیتی ہیں، لیکن شاید وہ جانتے نہیں کہ پاکستانی لڑکیاں کسی میدان میں بھی پیچھے نہیں۔ آج کے اس ’’اسمارٹ دور‘‘ میں ،جہاں ہر کوئی اسمارٹ فونز، نت نئے گیجٹس خریدنے کی دوڑ میں لگا ہے، وہیں شانزہ منیر نے نابینا افراد کے لیے ’’اسمارٹ شُوز‘‘ متعارف کروائے ہیں۔ان جوتوں کی خاص بات یہ ہے کہ انہیں پہننے کے بعد نابینا افراد کو 200سینٹی میٹر کے دائرے میں موجود تمام تررکاوٹوں کا پتا چل جائے گا۔ شانزہ نے اسمارٹ شُوز، یو نیورسٹی پراجیکٹ کے طور پر متعارف کروائے ۔ ان میں الارم اور وائبریٹر لگے ہیں ، جو ریچارج ایبل بیٹری سے چلتے ہیں۔جوتوں کی تیاری پر قریباً 10سے 12ہزار روپے تک کی لاگت آئی ۔ اگر شانزہ کے پراجیکٹ کو بڑے پیمانے پر تیار کیا جائے، تو اس لاگت میں نہ صرف کمی آسکتی ہے، بلکہ ملک میں موجود کئی نا بینا افراد کی مدد بھی ہو سکتی ہے۔

رابعہ شہزاد:
اسکاٹ لینڈ میں ہونے والی ’’گلاسگو اوپن کلاسیک ویٹ لفٹنگ چیمپئن شپ 2020 ء‘‘ میں پاکستانی ویٹ لفٹر ،رابعہ شہزاد نے سونے کا تمغہ جیت کر مُلک و قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا۔21سالہ رابعہ شہزاد ، انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) کراچی میں زیر تعلیم ہیں۔یہ رابعہ کی کوئی پہلی کامیابی نہیں ، انہوں نے ’’ہیمپشائر ویٹ لفٹنگ چیمپئن شپ‘‘ میں بھی گولڈ میڈل اپنے نام کیا تھا۔ رابعہ کے والد کو کھیلوں سے بہت لگاؤ ہے اور وہ بچپن میں ان کے ساتھ کشتی بھی کرتی تھیں۔جب رابعہ نے ویٹ لفٹنگ کا آغاز کیا، تو والدہ نےاس پر اعتراض کیا کہ ’’یہ کیا مردوں والا کام شروع کر دیا ہے‘‘ حتیٰ کہ نانی، دادی، خالائیں وغیرہ سب ہی ویٹ لفٹنگ کےبہت خلاف تھیں، پر ان کے والد نے بیٹی کا بھر پور ساتھ دیا۔ رابعہ اپنےگھر کے ڈائننگ رُوم میں ویٹ لفٹنگ کی مشق کر تی ہیں کہ باہر ایسی کوئی سہولت میسر نہیں،جہاں وہ پریکٹس کر سکیں۔

شاہدہ عباسی :
نیپال کے دارالحکومت، کٹھمنڈو میں 13ویں ساؤتھ ایشین گیمز کا انعقاد ہوا، تو خبر آئی کہ ’’پاکستان نے ساؤتھ ایشین گیمز میں اپنا پہلا گولڈ میڈل جیت لیا ہے‘‘ ۔ جس نے مُلک کو یہ تمغہ جتوایا، وہ کوئی مرد نہیں،کوئٹہ کے ہزارہ قبیلےسے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کھلاڑی، شاہدہ عباسی تھیں۔کاتاکراٹے کے مقابلوں میں شاہدہ عباسی نے نیپالی حریف کے خلاف میچ میں باآسانی 25-42 کے سکور سے کامیابی حاصل کی۔وہ اس سے قبل سیف گیمز میں بھی سونے کا تمغہ جیت چُکی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ شاہدہ کو بچپن سے کراٹے کا شوق نہیں تھا، وہ تو اپنے بھائی کو کراٹے کلب میں داخل کروانے گئی تھیں، جہاں لڑکیاں بھی کراٹے سیکھ رہی تھیں، توانہوں نے بھی سیکھنے کا فیصلہ کرلیا۔

صفیہ ترک:
صفیہ ترک کا تعلق ایک پسماندہ دیہی خاندان سے ہے، جہاں لڑکیوں کا تعلیم حاصل کرنامعیوب سمجھاجاتا ہے۔ لیکن جب ایک باپ اپنی اولاد کے لیے کچھ کرنے کی ٹھان لے، تو پھر راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں آ سکتی۔ صفیہ کے والد پولیس کانسٹیبل تھے، جن کی خواہش تھی کہ ان کی بیٹی اعلیٰ تعلیم حاصل کرے ۔ اس ضمن میں انہوں نے گاؤں والوں کی ایک نہ سنی اور بچّی کو تعلیم دلوانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ بد قسمتی سے 2007ء میں اُن پر فالج کا حملہ ہوا اور وہ بستر پر آگئے۔ جس کے بعد صفیہ کی والدہ نے یہ بیڑہ اُٹھایا۔ صفیہ نے پہلےانگریزی میں ماسٹرزکیا ، بعد ازاں 2018ء میں سی ایس ایس کا امتحان پاس کرکے والدین کا خواب پورا کر دیا، مگر افسوس کہ اُسے افسر بنانے کا خواب دیکھنے والی آنکھیں بند ہو چُکی تھیں۔ قریباً 9 سال کی علالت کے بعد 2016ء میں صفیہ ترک کے والد کا انتقال ہوگیا ۔ صفیہ کے والد، صفیہ کو افسر بنتا تونہ دیکھ سکے، مگر اُن کے ایک خواب نے گاؤں کی دیگر بیٹیوں کے لیے تعلیم کی راہیں ہموار کر دیں۔ صفیہ ترک اپنے پورے گاؤں اور خاندان میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والی پہلی لڑکی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  عمر کے لحاظ سے شوہروں کے مزاجوں کا بیان

سبیلا غلام حسین:
راولپنڈی کے پوش علاقے ،چکلالہ اسکیم تھری میں سڑک کے کنارے ’’ماں جی برگر پوائنٹ‘‘ چلانے والی پچاس سالہ سبیلا حُسین، المعروف ’’ماں جی‘‘ ہمت و حوصلے کی مثال ہیں۔ سخت ترین حالات کے با وجود ماں جی نے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلائے۔ مَردوں کے بیچ ، سڑک پر سٹال لگانا کوئی آسان کام نہ تھا، مگر جب ایک ماں کے سامنے بچّوں کی بھوک اور خالی پیٹ ہو، تو اللہ پاک اُسے خود ہی طاقت دے دیتا ہے۔ ماں جی کے گھر کے واحد کفیل اُن کے شوہر تھے، جو بیمار ہوگئےاور گھر میں فاقوں کی نوبت آگئی۔ جب ایک روز ان کے دس سالہ بیٹے نے ناشتا مانگا ، تو گھر میں کھانے کو کچھ نہ تھا۔ بس اُسی دن انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ بنا کسی مدد کے وہ رزق حلال سے شوہر کا علاج بھی کروائیں گی اور بچّوں کا پیٹ بھی پالیں گی۔ انہوں نے بر گر کا سٹال لگایا اور روزگار کا آغاز کر دیا۔وہ دن کے صرف چار گھنٹے آرام کر تی ہیںاوراتنی محنت صرف اس لیے کررہی ہیں تاکہ ان کے بچّے پیٹ بھر کھانا کھا سکیںاور اچھی تعلیم و تربیت بھی حاصل کر سکیں۔

گل بانو:
خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں سے تعلق رکھنے والی ،گُل بانو جب سی ایس ایس کا امتحان پاس کرکے بنوں سے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروسز کی پہلی خاتون افسر بنیں تو ان کی کامیابی نے علاقے کی لڑکیوں کے لیے بھی تعلیم کی راہیں ہموار کر دیں۔ اُن کے والدین محکمہ تعلیم سے وابستہ تھے۔تاہم، بنوں کے خراب حالات کے باعث وہ کافی عرصہ پہلے پشاور منتقل ہوگئے ۔ گل بانو نے ابتدائی تعلیم یونیورسٹی ماڈل سکول، پشاور سے حاصل کی بعد ازاں جناح کالج فار ویمن سے انٹر اور پشاور یونیورسٹی سے ایم بی اے کیا۔گُل بانو کو سی ایس ایس کا شوق اپنے بڑے بھائی کو دیکھ کر ہوا، انہوں نے سوچا کہ جب بھائی یہ امتحان پاس کر سکتے ہیں، تو مَیں کیوں نہیں۔وہ مردان تحصیل کی پچاس سالہ تاریخ میں تعینات ہونے والی پہلی خاتون اسسٹنٹ کمشنر ہیں۔ گل بانو کا کہنا ہے کہ ’’مجھے دیکھ کر ایڈمنسٹریٹوعہدوں پر بھی خواتین افسروںکے لیے راستے کھل رہے ہیں۔ کئی والدین اپنے بچّوں کی تعلیم کے حوالے سے مجھ سے رہنمائی حاصل کرنے آتے ہیں۔ ‘‘
جمیلہ:
بہاولنگر کی جمیلہ کہنے کوتو ایک عام سی عورت ہے، لیکن وہ جو کر رہی ہے، وہ کئی تعلیم یافتہ، با شعور خواتین بھی نہیں کر تیں۔ جمیلہ کا شوہر نا بینا ہے، لیکن اس نےکبھی اس بات کا شکوہ نہیں کیا،اُلٹااپنے شوہر کا سہارا بن گئی۔ کچے مکان میں رہنے والی جمیلہ نے موٹر سائیکل چلانی سیکھی اور اب وہ روز صبح اپنے شوہر کے ساتھ مارکیٹ جاتی ہے، وہاں سے سودا سلف خرید کر اپنی پرچون کی دُکان پر واپس آتی ہےاور پھر دونوں میاں بیوی صبح سے شام تک دکانداری کرتے ہیں۔ شوہر وںسے نئی نئی فرمائشیں کرنے والی بیویاں تو ان گنت ہیں، لیکن کم تعلیم کے با وجود شوہر کی محرومی سے سمجھوتا کرکے اُس کا سہارا بن جانے والی بیویاں کم ہی ہوں گی اور جمیلہ ایک ایسی ہی مثالی بیوی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ہمارے معاشرتی ڈھانچے میں عورت کے ساتھ امتیاز کی شکلیں

شفقت بانو:
کراچی سے تعلق رکھنے والی 70 سالہ شفقت بانو ایک پسماندہ علاقے میں بچّوں کی کھانے پینےکی اشیا کا ٹھیلا لگاتی ہیں۔ ذرا اندازہ لگائیے، جس عُمر میں لوگ ریٹائرڈ زندگی گزارتے، آرام کرتے ہیں، اُس عمر میں یہ با ہمت خاتون گلیوں میں بچّوں کے کھانے پینےکی اشیا فروخت کررہی ہیں۔ شفقت بانو نےقریباً 40 سال قبل ،شوہر کے انتقال کے بعد اس کام کا آغاز کیا تھا، تب مقصد بچّوں کا پیٹ پالنا تھا۔ تاہم، بچّوں کو پال پوس کر شادی بیاہ کرنے کے بعد بھی اُن کی زندگی میں سکون نہیں آیا کہ ان کی اولاد ہی نے انہیں گھر سے نکال دیا ہے۔اور اب وہ اس ضعیفی میں بھی اپنے گزر اوقات کا انتظام خود کرنے پر مجبور ہیں۔

شائستہ حکیم:
سوات میں مٹہ کے ایک قصبے، چیریال سے تعلق رکھنے والی شائستہ حکیم ، سوات یونیورسٹی سےابلاغ عامہ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے والی پہلی خاتون ہیں ۔ ان کے والد بیرون مُلک مقیم ہیں، جب کہ والدہ گھریلو خاتون ہیں۔شائستہ کے والدین نا خواندہ ہیں، لیکن انہوں نے اپنے بچّوں کی تعلیم و تربیت میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھی۔ شائستہ حکیم نے گورنمنٹ گرلز کالج، مٹہ سے میٹرک اورسیدو شریف گرلز کالج سے بی اے کی ڈگری حاصل کی۔انہوں نے صحافت میں آنے کا فیصلہ اُسی وقت کرلیا تھا، جب سوات میں شورش کی وجہ سے وہ بی اے کے امتحانات نہیں دے سکی تھیںاور ان کےاہلِ خانہ کو سوات سے نقل مکانی کرنی پڑی تھی۔شائستہ کہتی ہیں، ’’جب میں نے صحافیوں کو جان ہتھیلی پر رکھے، دن رات رپورٹنگ کرتے دیکھا، تو مَیں نے بھی پکّا ارادہ کرلیاکہ مَیں بھی اسی طرح رپورٹنگ کروں گی اور لوگوں کو باخبر رکھوں گی۔‘‘جب یونیورسٹی میں داخلے کامرحلہ آیا، تو شائستہ نے گھر والوں کے سامنے شعبۂ ابلاغِ عامّہ میں داخلے کی خواہش کا اظہار کیا، جس پر والدہ نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’خاندان والے تمہارا اس شعبے میں جاناہر گز پسند نہیں کریں گے‘‘۔ تاہم، شائستہ کے بہن، بھائی اور والد نے انہیں مکمل سپورٹ کیا۔سوات کی اس نڈر صحافی نے زمانۂ طالب علمی ہی میں ایک مقامی اخبار میں کالم لکھنے شروع کر دئیے تھے، جہاںسے بعد ازاں انہوں نے اپنے صحافتی کیریئر کا آغاز بھی کیا۔ گوکہ وہ باحجاب ہیں، مگرمقامی روایتی ماحول کے سبب اُنہیںسخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ لوگوں کی بہت کڑی کسیلی باتیںسننے کو ملیں۔

اقصیٰ اجمل:
اقصیٰ اجمل نے بصارت سے محروم اورکمزور بصارت کے حامل افراد کے لیے ’’pursewit‘‘نامی ایک انوکھی سلائی مشین ڈیزائن کی ہے، جس کی مدد سےنا بینا افراد بنا کسی رکاوٹ کے سلائی کرکے با عزت روزگار کما سکیں گے۔یہی نہیں، قوم کی ہونہار بیٹی نے اپنی اس ایجاد پر ’’لیکسس ڈیزائن ایوارڈ 2020ء‘‘بھی اپنے نام کرکے مُلک و قوم کا نام روشن کر دیاہے۔ میلان میں منعقد ہونے والے لیکسس ڈیزائن ایوارڈ 2020ء میں دنیا بھر سے 2042 اینٹریز بھیجی گئی تھیں، جن میں سے 6 کو فائنل کے لیے منتخب کیا گیا اور ایوارڈ کی حق دار پاکستانی طالبہ اقصیٰ اجمل قرار پائیں تھیں۔ ان کااس سلائی مشین کے حوالے سےکہنا ہے کہ ’’میری ایک سہیلی ایک حادثے میں بصارت سے محروم ہو گئی تھی، جس سے اس کی پڑھائی متاثر ہوئی ، تو مَیں نے اپنی دوست اور اس جیسے دیگر پاکستانیوں کےمستقبل کےبارے میں سوچتے ہوئےاس پراجیکٹ کو ڈیزائن کیا۔ ‘‘

یہ ہیں، وہ عام عورتیں، مشرقی عورتیں۔ مسلمان اور پاکستانی خواتین کی نمائندہ خواتین۔ جو ہر شعبے، ہر میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوارہی ہے۔ انہیں اپنا کام کرنے مطالبات منوانے کے لیے کسی ریلی، مارچ کا حصہ بننے کی ضرورت نہیں کہ ان کا کام ہی ان کی پہچان ہے۔