kashmir

کشمیری خواتین سے پوچھیں،خوف و ہراس کیا ہوتا ہے ؟

EjazNews

آج دنیا بھر میں عالمی یوم نسواں منایا جا رہا ہے۔ اس دن دنیا بھر کی خواتین اپنی معاشرتی کاوشوں، حقوق کے لیے جدوجہد، مساوات کے لیے کوششوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں کارکردگی کا اظہار کرتی ہیں۔

اس عزم کا اعادہ بھی کیا جاتا ہے کہ تمام معاشرہ میں صنفی بنیادوں کو موجود امتیاز کے خاتمے اور تمام شعبہ جات میں مساوی مواقع کے لیے مزید کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

1977 میں اقوام متحدہ نے باقاعدہ طور پر خواتین کے عالمی دن کو تسلیم کیا تھا۔ یہ دن بیسویں صدی میں شمالی امریکہ اور یورپ بھر میں خواتین کی مختلف لیبر تحریکوں سے عبارت ہے۔

خواتین کے عالمی دن پرسب کی توجہ مقبوضہ کشمیر کی خواتین کی جانب مبذول کرانا چاہتے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں ایک ماں کا صرف اپنے بیٹے کو دفنانے کا حق ہے۔

مقبوضہ کشمیر کی مظلوم عورتوں کیلئے دن رات آواز بلند کرنے والی مشعال ملک نے کہا کہ آج دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ کشمیریوں کو انسان ہونے کا حق ہی نہیں، عورت تو بہت دور کی بات ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  مقبوضہ کشمیر میں ایک اور دھماکہ 44فوجی ہلاک

خواتین نے زندگی کے ہر شعبے میں ترقی کی اور اپنا لوہا منوایا اور مقبوضہ کشمیر میں عورت ہونا سب سے بڑا جہاد ہے۔

خواتین کے عالمی دن پر حریت رہنما عبدالحمید لون نے کہا کہ مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارت کے غیر انسانی محاصرے میں خواتین سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ خوف و ہراس کے ماحول میں کشمیری خواتین ذہنی ڈپریشن کا شکار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 5 اگست 2019 بھارتی اقدامات کے بعد خواتین گھروں کے اندر محصور ہو کر رہ گئی ہیں۔ مقبوضہ وادی میں خواتین اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھتیں۔