psl-6

پی ایس ایل میں بنائی گئی ہیٹرکس

EjazNews

پاکستان سپر لیگ میں ویسے تو کئی ریکارڈز بنے اور ٹوٹے ہیں اور کئی دلچسپ واقعات ہوئے ہیں لیکن کئی ریکارڈز سدا بہار ہیں جن کا ذکر اس وقت ضرور آئے گا جب بھی اس جیسا واقعہ پیش آئے گا،بائولرزکا ایک کارنامہ ہیٹ ٹرک بھی ہے،ہیٹ ٹرک کسی بھی بائولر کے کیریئر کا اہم ترین اور یاد گار واقعہ ہوتا ہے اور ویسے بھی دنیائے کرکٹ میں ہیٹ ٹرکس کو خاص اہمیت حاصل ہے۔

اس میں ہم پاکستان سپر لیگ کے پانچ ایڈیشنز کا ذکر کریں گے چھٹے ایڈیشن ابھی مکمل نہیں ہوا اس میں بہت سی ہیٹرک ابھی اور بنیں گی بھی اور بنی بھی ہیں۔

پاکستان سپر لیگ کے 5ایڈیشن میں اب تک 4بار ہیٹ ٹرکس ہوچکی ہیں۔2017 اور 2020کے ایڈیشن اس کےبغیر گزرے ہیں ۔پہلی ہیٹ ٹرک 2016اور دوسری وتیسری 2018 اور چوتھی ہیٹ ٹرک 2019میں ہوئی۔ملتان سلطانز کے 2 جبکہ کراچی کنگز اور اسلام آباد یونائیٹڈ کاایک ایک کھلاڑی ہیٹ ٹر ک کا کارنامہ سر انجام دے چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستانی کرکٹرز کے بارے میں شک و شبہ نہیں: رچرڈسن

پی ایس ایل میں پہلی ہیٹ ٹر ک 5 فروری 2016 کو پہلے ایڈیشن میں ہوئی،پاکستانی پیسر محمد عامر نے کراچی کنگزکی نمائندگی کرتے ہوئے لاہور قلندرز کے خلاف یہ پہلا کارنامہ سر انجام دیا۔ا نہوں نے ڈیون براوو،زوہیب خان، کیون کوپر کو شکار کیا،تیسری لیگ تھی اور بائولر جنید خان تھے،جب ملتان سلطانز اور لاہور قلندرز کا میچ 23فروری 2018کو کھیلا جارہا تھا،سلطانز کے جنید خان نےیاسر شاہ ،کیمرون دلپورٹ اورحسن رضا کو شکار کیا.اس کے چند دن بعد پاکستان سپر لیگ کی تیسری ہیٹ ٹرک پاکستانی نژاد جنوبی افریقن اسپنر عمران طاہر نےکی، ملتان سلطانز کی نمائندگی کرتے ہوئے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کےحسن خان،جان ہیسٹنگز اورراحت علی کو نشانہ بنایا،اس بار شارجہ کرکٹ سٹیڈیم کا میدان تھا22فروری 2019کو شارجہ ہی میں اسلام آباد یونائیٹد کے محمد سمیع نےپشاور زلمی کےوہاب ریاض،عمید آصف اورحسن علی کا نشانہ تاک کر ہی ایس ایل کی چوتھی اور ہیٹ ٹرک کی۔پہلی 3 ہیٹ ٹرکس شعیب ملک کی کپتانی میں ہوئی تھیں جو اپنی جگہ منفرد سی بات ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  کراچی کنگز نے بآسانی ہدف پورا کر کے فتح حاصل کر لی

پی ایس ایل 6کا میچز فی الحال ملتوی ہو ئے ہیں ۔ اس لیے اس ایڈیشن کا ذکر نہیں کیا جارہا ورنہ اس ایڈیشن میں کھلاڑیوں کا جوش پہلے سے بڑھا ہوا ہے۔ اور ان کے سکور کی رن ریٹنگ پہلے ایڈیشنز سے بہت زیادہ ہے اور مقابلے کی فضا بھی بہت اونچے درجے کی نظر آرہی ہے۔