nader shah

نادر شاہ

EjazNews

اورنگزیب کی وفات کے تیس سال بعد ایک سردار نادر خاں نے فارس کے تخت پر قبضہ کر کے نادر شاہ کا لقب اختیار کیا اور افغانستان بھی فتح کر لیا۔ اس کے بعد محمد شاہ کے پاس دوستانہ سفیر بھیجا۔ محمد شاہ سفیر کے ساتھ نخوت سے پیش آیا اور کہنے لگا کہ آج نادر شاہ بادشاہ ہو گئے ہیں۔

نادر شاہ تند مزاج اور پکا مسلمان تھا۔ اس نے محمد شاہ پر یہ الزام لگایا کہ وہ مسلمان بادشاہ کے فرائض ادا کرنے سے قاصر ہے۔ یعنی اس نے ہندوﺅں سے جزیہ کیوں نہیں لیا اور دون ہمتی کے ساتھ بت پرست مرہٹوں کو چوتھ کیوں دی؟ اس بہانے سے نادر شاہ نے محمد شاہ کی گوشمالی کا ارادہ کیا اور ایرانیوں اور افغانوں کی ایک بڑی فوج لے کر جس طرح 340 برس پیشتر تیمور لنگ آیا تھا۔ یہ بھی خیبر کے درے سے نکل کر پنجاب کو پامال کرتا ہوا دہلی پر آ موجود ہوا۔

یہ بھی پڑھیں:  اکبر(1556ءسے 1605ءتک)

نادر شاہ دیو کا دیو تھا۔ چھ فٹ لمبا، چہرے کا رنگ سیاہ، پیشانی پر بل پڑا ہوا، گھندار بھویں، آواز میں بادل کی سی گرج، آنکھیں بجلی کی طرح چمکتی ہوئیں۔ برّے کی سیاہ پوستین کا چغہ بدن پر، یہ فارس میں اونچی نوکدار کلاہ اصفہانی پہنا کرتا تھا۔ مگر ہند میں آ کر سرخ رنگ کا بڑا عمامہ سر پر باندھتا تھا۔ کمر پر خنجر، ہاتھ میں فولادی تبر، ہندوﺅں کی نظروں میں یہ شخص بعینہ ان سیہ فام وانوﺅں کا نمونہ تھا جن سے قدیم زمانے میں آرین لوگوں کو لڑنا پڑا تھا۔

نادر شاہ کہتا تھا کہ اگر مجھے بہت سا روپیہ مل جائے گا تو شہر کو نہ اجاڑوں گا، مگر رات کے وقت دہلی کے لوگوں نے نادر شاہ کے کچھ سوتے ہوئے سپاہی مار دیئے۔ نادر شاہ نے جب صبح کو یہ حال دیکھا تو اس کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ حکم دیا کہ شہر کو لوٹ لو اور جو سامنے آئے اس کو قتل کر دو۔ دن بھر نادر شاہ کی سپاہ نے تیموری ترکوں کی طرح لوٹ مار، کُشت و خوں اور آتشزدگی کا بازار گرم رکھا۔ شام کے قریب محمد شاہ آ کر نادر شاہ کے قدموں پر گرا اور التجا کی کہ اب یہ قتل عام موقوف کیا جائے۔ نادر شاہ نے اپنی سپاہ کو حکم دیا کہ بس اب کسی کو نہ مارو اور فوج نے اس کے حکم کی تعمیل کی۔

یہ بھی پڑھیں:  ڈینسو ہال ایک تاریخی عمارت جو حوادث زمانہ کی زد میں ہے

دوسرے دن نادر شاہ اور اس کے ہمراہیوں نے دہلی کی وہ کل دولت سمیٹی جو بابر کے زمانے سے شاہان مغلیہ جمع کرتے آئے تھے۔ شاہجہانی تختِ طاﺅس، شاہی تاج اور بیگمات کے مرصع زیورات، عمدہ سے عمدہ ہاتھی، گھوڑے، توپیں، بیش قیمت اطلس و کمخواب، بڑھیا سے بڑھیا ململیں، شاہی خزانے اور دہلی اور اودھ کے امرا و شرفا کا اندوختہ مال و منال انبار در انبار وہ اپنے ساتھ لے گیا۔ نادر شاہ کے ہاتھ اتنی دولت آئی کہ وہ حیران تھا کہ اس کو کیا کروں۔ چنانچہ کل سپاہ کو تین ماہ کی تنخواہ پیشگی دے دی اور سال بھر تک فارس کے باشندوں سے کوئی محصول نہ لیا۔

اس نادر شاہی حملے نے رہی سہی سلطنت مغلیہ کو بھی تباہ کر دیا۔ صوبیداروں اور نوابوں نے روپیہ اور نذریں بھیجنا بند کر دیں۔ مرہٹوں کی اور بھی چڑھ بنی۔ انہوں نے کل دکن اور بنگال کو پامال کر ڈالا اور جہاں گئے وہیں چوتھ لگا دی۔ کلکتہ کے انگریز تاجروں کو بھی خوف ہوا۔ انہوں نے ایک گہری خندق کھودی تاکہ اس سے اتر کر مرہٹے انہیں دق نہ کریں۔ یہ خندق مرہٹوں کے نام سے منسوب تھی اور مرہٹہ ڈِچ (مرہٹہ خندق) کہلاتی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:  سلطنت مغلیہ