chairman senate

حکومت کی طرف سے کون چیئرمین سینٹ ہوگا؟

EjazNews

وزیراطلاعات و نشریات نے جیو نیوزسے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قوم کو کل پتہ چل گیا کون کس طرف کھڑا تھا، اپوزیشن ایسی قوتوں کی نمائندگی کر رہی ہے جن کا ہمیشہ ووٹ خریدنےپر انحصار رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہفتے کو قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرلیا ہے اور وزیراعظم آج شام قوم سے خطاب کریں گے۔
شبلی فراز نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے اعلیٰ قیادت کے ساتھ مشاورت کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی پچھلے تین سال کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے حکومت اور ہمارے اتحادیوں کی جانب سے وہ چیئرمین سینیٹ کے امیدوار ہوں گے۔

وزیراعظم کے اعتماد کے ووٹ سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ بنیادی طور پر ارکان یہاں موجود ہوں گے اور ایسا موقع ہے جس میں پتہ چل جائے گا، پاکستان کی تاریخ میں ایسا نہیں ہوا کہ وزیراعظم اپنی اخلاقی قوت کی بنیاد پر اپنے لیے اعتماد کا ووٹ اراکین کی جانب سے دوبارہ لے۔

یہ بھی پڑھیں:  بختاور بھٹور زرداری کی منگنی طے ہو گئی

ان کا کہنا تھا کہ ہم نئی روایت، مثبت جمہوری کلچر کے مطابق اور مہذب ممالک میں جڑی پکڑنے والی روایات کو لے کر چلنا چاہتے ہیں، وزیراعظم کو اپنے اراکین کا اعتماد ہوتا ہے اور جمہوریت صرف اخلاقی اقدار پر چلتی ہے جہاں پیسہ اور دھونس کی روایات ہوں تو نہ وہ معاشرے ترقی کرتے ہیں اور نہ ہی وہ ملک ترقی کرتے ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد کی سینیٹ کی نشست میں حکومتی امیدوار اور وزیرخزانہ حفیظ شیخ کو اپوزیشن کے امیدوار یوسف رضا گیلانی سے شکست ہوئی تھی جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا تھا کہ یوسف رضا گیلانی چیئرمین سینیٹ کے امیدوار ہوں گے۔

دوسری جانب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سمیت دیگر وزرا نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ قومی اسمبلی میں سینیٹ انتخابات کے بعد پیدا ہونے والے حالات میں پارٹی اور وزیر اعظم عمران خان نے ایوان سے ووٹ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  غیر آباد جزائر کو آباد کرنے کیلئے وفاق اور سندھ میں ٹھن گئی

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کہتے ہیں کہ وہ اس وقت وزیر اعظم ہیں جب ایوان کا اعتماد حاصل ہو، اس لیے انہوں نے ایوان سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ کھل کر سامنے آجائے کہ کون عمران خان کے نظریہ کے ساتھ کھڑے ہیں۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ جو عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں وہ واضح طور پر ان کے ساتھ ہوں گے، جن کا کوئی سیاسی نظریہ نہیں ہے وہ مفاد کی سیاست کرتے ہیں، وہ انہی لوگوں کے ساتھ کھڑے ہوں گے، تحریک انصاف کے کارکن کو یہ اعتماد ہونا چاہیے کہ اس لڑائی میں ہم ان کا مقابلہ کریں گے۔

انہوں نے کہا تھا کہ آج کا دن پاکستان کی جمہوریت کے لیے افسوسناک ہے، جمہوریت کے علمبرداروں نے آج جمہوری قدروں کو قتل کیا ان کی نفی کی، علی حیدر گیلانی کا چہرہ، آواز اور ان کی حرکتیں عوام کے سامنے ہیں اور آج عمران خان کے بیانیے پر مہر ثبت ہوگئی۔

یہ بھی پڑھیں:  نیشنل ایکشن پلان پرعملدرآمد حکومت کی اولین ترجیح ہے:وزیراعظم

وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ آج سینٹ کے انتخابات میں جو نتیجہ ہم نے دیکھا اس نے ہمارے بیانیے کو تقویت دی، ہمارا بیانیہ تھا کہ سینیٹ کے انتخابات میں ایک مرتبہ پھر منڈی لگے گی اور ضمیروں کے سودے ہوں گے، اسلام آباد میں ہمارے دو امیدوار تھے، ایک خاتون امیدوار تھیں جن میں ان کی کوئی دلچسپی نہیں تھی چنانچہ وہ جیت گئیں جبکہ اسلام آباد کی دوسری نشست پر ان کی دلچسپی شروع سے تھی چنانچہ جمہوریت کے نام پر خرید و فروخت کی گئی۔