corona

کرونا وبا کے کم ہونے پر حکومت نے مزید نرمیاں کر دیں

EjazNews

این سی او سی نے موجودہ نان فارماسیوٹیکل انٹروینشنز (این پی آئیز) کا وسیع جائزہ لیا۔
نئی ہدایات کے مطابق تجارتی سرگرمیوں پر اوقات کار کی حد اور کام کی جگہوں پر 50 فیصد حاضری کی شرط کو ختم کردیا گیا ہے اور اس کے علاوہ 15 مارچ سے انڈور (بند مقامات پر) شادیوں کی تقریبات اور سینماز اور مزارات کو کھولنے کی اجازت دی گئی ہے،تاہم انڈور ڈائننگ (کھانے) کی اجازت دینے کا فیصلہ 10 مارچ کو جائزہ اجلاس کے نتیجے پر منحصر ہوگا۔

مزید یہ کہ الیکشن کمیشن پاکستان کو بھی مئی کے آخر یا جون کے اوائل تک بلدیاتی اور کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات کرانے کی بھی اجازت دی گئی ہے۔
این سی او سی کی جانب سے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے پول میچز کے لیے شائقین کی تعداد کو 20 فیصد سے بڑھا کر 50 فیصد کردیا گیا جبکہ پلے آف مرحلے میں سخت اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) کے ساتھ شائقین کی مکمل حاضری کی اجازت دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ریکوڈک ہے کیا؟

تاہم بیان میں کہا گیا ہے کہ انفیکشن کی شرح دوبارہ بڑھنے کی صورت میں ان فیصلوں پر جائزہ لیا جاسکتا ہے۔
علاوہ ازیں صوبے علاقے یا شعبے میں بیماری کے پھیلاو کو دیکھتے ہوئے جہاں ضروری ہو وہاں ٹارگڈڈ این پی آئیز نافذ کرسکتے ہیں۔
دوسری جانب دنیا بھر میں مسلسل 6 ہفتوں سے کیسز کمی کی طرف جارہے ہیں۔

دنیا بھر میں 24 لاکھ نئے متاثر رپورٹ ہوئے جو گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں 11 فیصد کم تھے۔
مزید برآں این سی او سی کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ روز 50 اموات رپورٹ ہوئی تھیں جس میں سے 44 کا انتقال ہسپتالوں میں ہوا، اس کے علاوہ ملک بھر میں 241 وینٹیلیٹرز زیر استعمال ہیں جس میں لاہور میں 37 فیصد، اسلام آباد میں 33، ملتان میں 27 اور پشاور میں 21 فیصد ہیں۔

آکسیجن والے بستروں کے اعداد و شمار کی بات کریں تو وہ گجرات میں 61 فیصد، پشاور میں 35، لاہور میں 25 اور میرپور میں 23 فیصد زیر استعمال ہیں۔
اسی طرح اگر 24 فروری تک کے اعداد و شمار کی بات کریں تو 23 ہزار 665 فعال کیسز تھے جو دسمبر میں 50 ہزار سے زائد سے کم ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  احتجاج پنجاب حکومت کے خلاف ہے،وزیراعظم کے علم میں لانا چاہتے ہیں:اساتذہ سراپا احتجاج

اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں اب تک 5 لاکھ 74 ہزار 580 مریضوں کی تشخیص ہوئی جس میں سے 5 لاکھ 38 ہزار 207 صحتیاب ہوگئے جبکہ 12 ہزار 708 اپنی زندگیاں کھو بیٹھے، اس کے علاوہ 2 ہزار 84 مریض ملک بھر میں زیر علاج ہیں۔