imran_khan_domastic-1

آزادی اظہار رائے کا یہ مطلب نہیں کہ مذہبی منافرت کو ہوا دی جائے:وزیراعظم

EjazNews

اسلام آباد میں علما و مشائخ کانفرنس سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ ہر سال ایک ہزار ارب ڈالر غریب ممالک سے چوری ہو کر امیر ممالک میں جاتا ہے۔
علاوہ ازیں عمران خان نے کہا کہ قیام پاکستان کے لیے تقریباً تمام دینی حلقوں نے قائد اعظم کا ساتھ دیا اور آج علما کو بہت بڑا کردار ادا کرنا ہے جس مقصد کے لیے پاکستان تشکیل پایا تھا۔

انہوں نے کہا کہ قائد اعظم، پاکستان کو بطور اسلامی فلاحی ریاست دنیا کا رول ماڈل بنانا چاہتے تھے۔
وزیر اعظم نے اسلامو فوبیا سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ مغرب نے اسلام کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑ دیا اور مسلم ممالک کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

یہ بھی پڑھیں:  میں وزیراعظم پاکستان ہوں اور ہم غزہ و فلسطین کے ساتھ کھڑے ہیں

انہوں نے کہا کہ اسلام کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور مسلمان لیڈر شپ نے اس امر کی کبھی وضاحت نہیں کی۔
عمران خان نے کہا کہ نائن الیون سے پہلے سب سے زیادہ خود کش حملے بھارت میں تامل ناڈو نے کیے تھے اور وہ ہندو تھے لیکن کسی نے انہیں دہشت گرد نہیں کہا۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیڈر شپ کو عالمی فورم پر مغربی ممالک کے رہنماؤں کو سمجھنا چاہیے تھا کہ آزادی اظہار اور پیغمبر ﷺ کی ناموس میں کیا فرق ہے لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ جب اسلام کو دہشت گردی کے نتھی کردیا گیا تو سوچ کے اعتبار سے مسلمانوں کی تقریق برقرار نہیں رہی اور مغرب میں تمام مسلمان ایک ہی نظر سے دیکھے جانے لگے۔

انہوں نے کہا کہ مغرب میں اسرائیل اور یہودیوں کے خلاف کوئی ایک لفظ ادا نہیں کیا جاتا۔
عمران خان نے کہا کہ ’جرمنی میں یہودی کے خلاف ہولوکاسٹ کا ظلم ہوا اور اب آزادی اظہار کے نام پر کوئی اس پر بات نہیں کرسکتا‘۔
انہوں نے کہا کہ چار یورپی ممالک میں ہولوکاسٹ پر بات کرنے پر جیل کی سزا ہوجاتی ہے وہاں آزادی اظہار نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں اسلام کا اسکالر نہیں لیکن ایک طالبعلم ہوں، میرا ایمان ہے کہ جو مدینہ کی ریاست تھی اور جو قوم اس ریاست کے اصولوں پر چلے گی اس قوم کو عروج ملے گا اور اگر وہ قوم مسلمان نہ بھی تو اسے عروج ملے گا۔

یہ بھی پڑھیں:  1965 کے بعد 3 مرتبہ کشمیر کا معاملہ زیر غور آیا:وزیراعظم

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ جب اسلام کو دہشت گردی کے نتھی کردیا گیا تو سوچ کے اعتبار سے مسلمانوں کی تقریق برقرار نہیں رہی اور مغرب میں تمام مسلمان ایک ہی نظر سے دیکھے جانے لگے۔
انہوں نے کہا کہ مغرب میں اسرائیل اور یہودیوں کے خلاف کوئی ایک لفظ ادا نہیں کیا جاتا۔

عمران خان نے کہا کہ ’جرمنی میں یہودی کے خلاف ہولوکاسٹ کا ظلم ہوا اور اب آزادی اظہار کے نام پر کوئی اس پر بات نہیں کرسکتا‘۔
انہوں نے کہا کہ چار یورپی ممالک میں ہولوکاسٹ پر بات کرنے پر جیل کی سزا ہوجاتی ہے وہاں آزادی اظہار نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں اسلام کا اسکالر نہیں لیکن ایک طالبعلم ہوں، میرا ایمان ہے کہ جو مدینہ کی ریاست تھی اور جو قوم اس ریاست کے اصولوں پر چلے گی اس قوم کو عروج ملے گا اور اگر وہ قوم مسلمان نہ بھی تو اسے عروج ملے گا۔

یہ بھی پڑھیں:  لاہور سمیت ملک کے مختلف حصوں میں سردی کی نئی لہر