allama iqbal-1

بس یہی کام رہ گیا تھا شاعر مشرق کے ساتھ ہونا

EjazNews

لاہور کے گلشن اقبال پارک میں قومی شاعر علامہ محمد اقبال کا مجسمہ لگایا گیا ۔اس مجسمہ کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اس کی سلیکشن کرنے والے اور بنانے والے اور لگانے اور لگوانے والے کس ذوق کے حامل تھے۔ شاعر مشرق کی یہ توہین کس قدر لوگوں کے دلوں کو افسردہ کر گئی ہے اس کا اندازہ سوشل میڈیا پر ہونے والے بحث سے بھی کیا جاسکتا ہے اور دوستوں کی محفلوں میں بیٹھ کر بھی۔

علامہ اقبال کے مجسمے کی حالت دیکھ کر سوشل میڈیا پر سینکڑوں صارفین نے مایوسی اور افسوس کا اظہار کیا جبکہ کئی افراد نے علامہ اقبال کے مجسمے کو ان کی توہین قرار دیا۔
علامہ اقبال کے مجسمے کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے سوشل میڈیا صارفین نے حکومت سے سوال کر رہے ہیں کہ کیا واقعی یہ شاعر مشرق کا ہی مجسمہ ہے؟۔

علامہ اقبال کا مجسمہ

سینیئر صحافی حامد میر نے ٹویٹ میں علامہ اقبال کے پوتے کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ”جناب ولید اقبال صاحب کیا آپ جانتے ہیں یہ کس کا مجسمہ ہے؟ ۔کیا یہ کہیں سے بھی شاعر مشرق کا مجسمہ نظر آتا ہے؟ آپ کی حکومت کے خیال میں یہ شاعر مشرق ہیں اور کسی سفارشی سے مجسمہ بنوا کر عوام الناس کے لیے اسے گلشن اقبال لاہور میں سجا دیا گیا۔ مجھے تو یہ مجسمہ دیکھ کر بہت افسوس ہوا ہے۔“

یہ بھی پڑھیں:  سکول بند نہیں ہوں گے ،سردیوں کی تعطیلات کم یا نہ کرنے کا فیصلہ حالات پر ہوگا

پی ٹی آئی کا حامد میر کے ساتھ اختلاف اپنی جگہ لیکن بات حق کی ہے ۔
کچھ سوشل میڈیا صارفین کا خیال تھا کہ نئے پاکستان میں علامہ اقبال کو بھی سزا دی گئی ہے۔ ٹوئٹر ہینڈل ڈیفنڈر نے علامہ اقبال کے مجسمے کی تصویر دیکھ کر تبصرہ کیا کہ آج تو علامہ اقبال کی روح بھی کانپ گئی ہوگی۔

بعض سوشل میڈیا صارفین طنز ومزاح بھی کرتے نظر آئے۔ مجسمے کو دیکھ کر تبصرہ کرنے والے صارفین اس بات کی شکایت بھی کرتے رہے کہ علامہ اقبال کے ہاتھ اور مونچھیں کہاں لگا دی گئی ہیں۔

کئی سوشل میڈیا صارفین نے مجسمے کی حالت کو پاکستان کی تبدیلی سے جوڑا اور کہا کہ نئے پاکستان میں علامہ اقبال بھی تبدیل کر دئیے گئے۔
گلشن اقبال پارک میں لگائے گئے مجسمے کے حوالے سے ترجمان پارکس اینڈ ہارٹیکلچر لاہورنے کہا ہےکہ یہ مجسمہ مالیوں نے اپنی مدد آپ کے تحت بنایا۔ اب کسی پروفیشنل کی خدمات لے کر اسے ٹھیک کروایا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:  افغانستان کے ساتھ ملتی سرحدوں پر حالات کنٹرول میں ہیں:میجر جنرل افتخار بابر

اب اس کے جواب میں اتنا کہنا ہی بہت ہوگا کہ آپ کی معصومیت پر قربان جائیں اور ہم بیوقوفوں کی بے قوفی پر آپ قربان جائیں۔
اپنے قومی شاعر کے ساتھ اس طرح کا سلوک شاید ہی کبھی کسی قوم نے کیا ہوجو شاعر مشرق کے ساتھ ہوا ہے۔