an sang suchi1

میانمار میں فوج نے ایک سال کیلئے ایمرجنسی لگا دی

EjazNews

نوبل امن انعام یافتہ 75 سالہ آنگ سان سو چی 2015 کے انتخابات میں کامیابی کے بعد اقتدار میں آئی تھیں جس کے بعد وہ جمہوریت کی جدوجہد میں کئی دہائیوں تک نظربند رہیں جس نے انہیں بین الاقوامی آئیکون میں تبدیل کردیا تھا۔2017 میں میانمار کی مغربی رخائن ریاست میں روہنگیا افراد کا فوجی کارروائیوں سے پناہ لینے کے لیے بھاگنے سے ان کے حوالے سے بین الاقوامی موقف کو نقصان پہنچا تھا تاہم وہ مقامی سطح پر بے حد مقبول ہیں۔

سیاسی کشیدگی گزشتہ ہفتے اس وقت بڑھ گئی جب ایک فوجی ترجمان نے نئی پارلیمنٹ کے اجلاس سے قبل بغاوت کو مسترد کرنے سے انکار کردیا اور فوجی سربراہ من آنگ ہیلنگ نے آئین ختم کیے جانے کے امکان کو بڑھا دیا تھا۔

تاہم فوج نے ہفتے کے آخر میں سوشل میڈیا پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے جمہوری اصولوں پر عمل پیرا ہونے کی ہر ممکن کوشش کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں:  انڈیا میں بد قسمت ائیر انڈیا کا جہاز دو ٹکڑے ہو گیا

فوجی حکمرانی کے کئی دہائیوں کے بعد 2008 میں سامنے آنے والے آئین میں آنگ سان سوچی کی انتظامیہ کی تین اہم وزارتیں اور پارلیمنٹ میں 25 فیصد نشستیں فوج کے لیے مختص ہیں۔

میانمار میں فوج نے اقتدار پر قبضہ کر لیا ہے اور جاری بیان کے مطابق فوجی ترجمان کا کہنا ہے انتخابی دھاندلی کے جواب میں نظربندیاں کی ہیں جس سے فوجی سربراہ من آنگ ہیلنگ کو اقتدار دیا گیا ہے اور ملک میں ایک سال کے لیے ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

دارالحکومت نیپیداو اور اہم تجارتی مرکز ینگون کے لیے فون لائنز تک رسائی نہیں ہوسکی اور پارلیمنٹ کی پہلی نشست سے قبل سرکاری ٹی وی کو بھی بند کردیا گیا۔
نومبر میں این ایل ڈی نے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی جسے آنگ سان سو چی کی جمہوری حکومت کے لیے ریفرنڈم کے طور پر دیکھا گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مقامی افراد کا کہنا ہے کہ فوجی اہلکاروں نے ینگون کے سٹی ہال میں پوزیشن سنبھال لی ہیں اور این ایل ڈی کے گڑھ میں موبائل انٹرنیٹ ڈیٹا اور فون سروسز بھی متاثر ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  دہائیوں قبل ہونے والے واقعہ کو امریکی صدر نے نسل کشی قرار دے دیا

این ایل ڈی کے ترجمان میو نیونٹ نے فون کے ذریعے بتایا کہ آنگ سان سو چی، میانمار کے صدر ون مائنٹ اور دیگر این ایل ڈی کے رہنماوں کو صبح سویرے حراست میں لیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ میں اپنے لوگوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ ردعمل نہ دیں اور میں چاہتا ہوں کہ وہ قانون کے مطابق کام کریں۔
یہ حراست سول حکومت اور فوج کے درمیان کئی روز سے جاری کشیدگی میں اضافے کے بعد سامنے آئی ہے جس نے انتخابات کے نتیجے میں بغاوت کے خدشات کو جنم دیا تھا۔