shibli

آئینی معاملے میں ضرورت پڑی تو پارلیمنٹ بھی جا سکتے ہیں :وزیر اطلاعات

EjazNews

وزیر اطلاعات شبلی فراز نے پریس بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ آئینی معاملے میں ضرورت پڑی تو پارلیمنٹ بھی جا سکتے ہیں اور دیکھیں گے کہ اس کی مخالفت کون کرتا ہے۔اوپن بیلٹ کی مخالفت کرنے والوں کو قوم کو بتانا پڑے گا کہ کیوں مخالفت کرتے ہیں۔یہ وہ تبدیلی ہے جو نیا پاکستان کا مظہر ہے اور تبدیلی کو ایونٹ کا نام نہیں بلکہ اداروں کی سطح پر ہونے والے بہتر کاموں کا عمل ہے۔ الیکشن ٹھیک ہوئے یا نہیں، ووٹ خریدے گئے یا بیچے گئے، اس بحث سے باہر ہونے کا حل سینیٹ میں اوپن بیلٹ ہی ہے۔

انہوں نے کہا سکوک بانڈ کا عمل 2018 سے جاری ہے، سود پر مبنی قرضوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے اقدامات تو لینے پڑیں گے۔ ملک میں اسلامک بینکنگ کو فروغ دینا ہے، اسلامک بینکنگ 15 سال سے موجود ہے اور رقوم بھی آجاتی ہے لیکن سود کی وجہ سے حدبندیوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اسلامک بینکنگ کی شرائط کو پورا کرنے کے لیے ایف نائن پارک ٹرانزیکشن ہورہی ہے جو اسلامی بینکنگ کو فروغ دے گی۔

یہ بھی پڑھیں:  سینیٹ کی نشست کے ریٹ لگنا شروع ہوگئے ہیں :وفاقی وزیر اسد عمر

وفاقی وزیر نے کہا کہ ایف نائن پارک گروی نہیں رکھا گیا یا اس پر کسی کا چارج ہوگا ورنہ تو حکومت پاکستان اپنی گارنٹی بھی دے سکتی ہے۔
یاد رہے :وزیراعظم عمران خان نے سکوک بانڈز کے لیے ایف نائن پارک اسلام آباد کو گروی رکھنے کی مخالفت کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ سکوک بانڈز کے لیے عوامی پارک کے بجائے اسلام آباد کلب کی سمری بھیجی جائے۔وزیراعظم عمران خان نے سکوک بانڈز کے اجرا کے لیے ایف نائن پارک کی زمین کو گروی رکھنے کی سمری پیش کرنے پر وزارت خزانہ پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔

انہوں نے وزیراعظم عمران خان کے حوالے سے کہا کہ اس طرح کے معاملے میں اسلام آباد کلب یا کسی بھی بلڈنگ کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے اقتصادی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن عوام کو گمراہ کررہی ہے، سابقہ حکومت نے ڈالر کو مصنوعی سطح پر رکھا جس کی وجہ سے قرضے کم نظر آئے، درآمدات سستی نظر آتی تھیں جس سے کاروبار تباہ ہوئے۔ تمام معاشی اشاریے مثبت جارہے ہیں، ایکسپورٹ بڑھ رہی ہیں جبکہ ایمپورٹ تھوڑی بڑھی ہیں۔ ترسیلات زر میں نمایاں فرق آیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  اب بغیر کٹوتی کے پاکستان پوسٹ سے رقوم بھجوائی جا سکتی ہیں:وفاقی وزیر مراد سعید

شبلی فراز نے زرعی شعبے سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ کاٹن کے علاوہ تمام دیگر اجزا کی پیداوار بہت بہتر ہوئی ہے۔