Dr javid Iqbal

جنم پتری

EjazNews

اپنی پیدائش کے عمل کو کوئی دیکھ تو نہیں سکتا۔ اس بارے میں خبر پر ہی انحصار کرنا پڑتا ہے۔ میں کب اور کہاں پیدا ہوا؟ میری معلومات میرے والد کی ایک تحریر پر مبنی ہیں جس سے ظاہر ہے کہ میں 5-اکتوبر1924ءکی شب 9بجکر 30منٹ پر سیالکوٹ شہر میں پیدا ہوا۔ اتنی تفصیل کے ساتھ میری تاریخ ولادت تحریر کرنے کی ایک معقول و جہ یہ ہوسکتی ہے کہ میرے والد کے ایک ہندو دوست راجہ سرنریندرناتھ نے انہیں میری جنم پتری بنوانے کی صلاح دی اور اس سلسلہ میں اپنی خدمات پیش کیں کیونکہ وہ خود بھی جوتش یا ستارہ شناسی کے علم میں دلچسپی رکھتے تھے شاید اسی پس منظر میں میرے والد نے میری ولادت کی تاریخ کے ساتھ صحیح وقت کی تفصیل بھی اُنہیں مہیا کردی۔ راجہ صاحب نے نہ صرف اپنا تخمینہ لگایا بلکہ اُن کی وساطت سے میری جنم پتری میسور کے ایک معروف منجم (جوتشی) بی-آر سرینواسیہ نے ترتیب دی۔ یہ زائچہ ۵۲مارچ ۸۲۹۱ءکو مکمل ہوا جبکہ میری عمر ساڑھے تین برس تھی۔ میں نے کبھی راجہ صاحب کو دیکھا نہیں۔ شاید وہ میرے ہوش سنبھالنے سے پیشتر وفات پا گئے۔ اُن کا شمار لاہور کے اُن رﺅسا میں ہوتا تھا جو حکومت انگلسیہ کے فرما بردار تھے۔

ستارہ شناسوں کے مطابق جنم پتری دراصل اندازوں اور قیاسوں کا ایسا پلندہ ہوتی ہے جو ستاروں کی حرکات سامنے رکھ کر حساب یا اربعہ لگانے سے تیار کی جاتی ہے۔ بعض اوقات اربعہ درست نکلتاہے اور بعض اوقات درست نہیں تو درست ہونے کے قریب قریب نکل آتا ہے۔ مگر وہ اپنی پیش گوئیوں کو قطعی طور پر غلط تسلیم نہیں کرتے۔ مثلاً سرنیواسیہ کے تحریر کردہ میرے زائچے پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے راجہ نریندرناتھ میرے والد کو لکھتے ہیں: ”مجھے قطعاً تعجب نہ ہوگا کہ اٹھائیس برس گزرنے کے بعد یہ لڑکا انڈیا یا انڈیا سے باہر کسی نہایت اہم محمڈن ریاست کا چیف منسٹر بن جائے۔ نریندرناتھ2-اپریل 1928ئ۔“ (تحریر انگریزی میں ہے) اب ملاحظہ کیجئے اخباردی نیشن بتاریخ 18جولائی1993ءکی خبر : ”صدراسحاق نے جسٹس جاوید کو کیئرٹیکر پرائم منسٹر بنانے کی تجویز رد کردی۔“ واقعہ یہ تھا کہ1993ءمیں میاں نوازشریف وزیراعظم کے استعفے کے موقع پر انہوں نے تجویز دی کہ مجھے نگران وزیراعظم بنا دیا جائے لیکن صدر غلام اسحاق خان نے اس بنا پر یہ تجویز منظور نہ کی کہ میں اُن کے خلاف بیان دیتا رہا ہوں۔ سو میں ہندوستان سے باہر ایک اہم محمڈن ریاست کا وزیراعظم یا چیف منسٹر نہ بن سکا۔لیکن یہ نہیں کہا جاسکتا کہ راجہ نریندرناتھ کی پیش گوئی غلط ثابت ہوئی‘ کیونکہ انہوں نے تو ایک منجم کی حیثیت سے اس میں صرف ایسا ہوسکنے کا امکان ظاہر کیا تھا۔

بہرحال میں ستارہ شناسی کو ایک فرسودہ علم سمجھتا ہوں۔ منجموں کے حساب کتاب پر مبنی پیش گوئیاں عموماً درست ثابت نہیں ہوتیں۔ البتہ ایک اہم سوال ضرور اٹھایا جاسکتا ہے۔ میرے والد‘ انسانی خودی کے استحکام کے داعی اور جبریت کے شدید مخالف ہونے کی حیثیت سے‘ میری جنم پتری بنوانے پر رضامند کیسے ہوگئے؟ انہوں نے تو فرما رکھا ہے ۔
ستارہ کیا مری تقدیر کی خبر دے گا
وہ خود فراخی افلاک میں ہے خواروزبوں

یہ بھی پڑھیں:  محترمہ بے نظیر بھٹوکے بعد آنے والوں کیلئے ان کی جمہوری روایات مشعل راہ ہیں

جیسے میں نے عرض کیا‘ اس کی ایک و جہ تو یہ ہوسکتی ہے کہ انہوں نے راجہ نریندرناتھ کو خوش کرنے کی خاطر اپنی رضامندی کا اظہار کردیا۔ دوسری و جہ شاید یہ ہوکہ اپنے بڑے بیٹے اور میرے سوتیلے بھائی آفتاب سے ان کے تعلقات اچھے نہ تھے۔ اس لیے ممکن ہے وہ جاننا چاہتے ہوں کہ مستقبل میں کہیں میرا چھوٹا بیٹا بھی بڑے کی طرح نافرمان نہ نکلے اور میری دل آزاری کا باعث بنے۔ بعض اوقات ذاتی محرومیاں ایک خود اعتماد انسان کو ضعیف الاعتقاد بنا دیتی ہیں۔اس وقت کوئی ایسا بزرگ زندہ نہیں جو وثوق سے کہہ سکے کہ علامہ اقبال اور اُن کی پہلی بیوی میں علیحدگی کیوں ہوئی۔ اس بارے میں جو کچھ بھی تحریر کیا گیا زیادہ تر قیاس آرائیوں پر مبنی ہے۔ اس زوجہ سے اُن کے ہاں دو بچے پیدا ہوئے۔ معراج بیگم اور بھائی آفتاب۔ معراج بیگم جوانی ہی میںرحلت فرما گئیں اور اپنے دادا دادی کے پہلو میں دفن ہیں۔ بھائی آفتاب کی ولادت1898ءمیں ہوئی اور عمر میں وہ مجھ سے چھبیس برس بڑے تھے۔ باپ بیٹے میں اختلاف کا سبب زوجین کی علیحدگی ہوسکتی ہے‘ کیونکہ ایسے حالات میں بچے عموماً ماں کا ساتھ دیتے ہیں۔ علاوہ اس کے اپنی زندگی کے ابتدائی مراحل میں انہیں سیالکوٹ میںاپنے تایا کے ساتھ رہنا پڑا اور ان کی سختی برداشت کرنا پڑی۔بہرحال انہوں نے اپنے ننھیال کے خرچ پر اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور بیرسٹری کرنے کے بعد پہلے پروفیسری اور بعدازاں وکالت کا پیشہ اختیار کیا۔ مگر والد کی زندگی میں ان کے ساتھ تعلقات استوار نہ ہوسکے۔ ۶۵۹۱ءمیں انگلستان سے میری واپسی کے بعد میرے اور میری بہن منیرہ کے ساتھ ان کے مراسم قائم ہوئے۔ بڑی شفقت سے پیش آتے تھے۔ مگر انہوں نے کراچی میں رہائش اختیار کر رکھی تھی۔اس لیے جب کبھی لاہور آتے تو اُن سے ملاقات ہوجایا کرتی۔ انہوں نے1979ءمیں وفات پائی اور کراچی میں دفنائے گئے۔ اُن کے تین بیٹوں میں سے ایک فوت ہوچکے ہیں۔ بڑے بیٹے آزاد جدہ میں کسی بڑی فرم کے قانونی مشیر ہیں۔ لاہور آئیں تو مجھے مل کر جاتے ہیں۔

تیسری و جہ جو میرے ذہن میں آتی ہے یہ ہے کہ میرے والد صوفیاءکے سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ سے بڑی عقیدت رکھتے تھے۔ شیخ احمد سرہندیؒ کو برصغیر میں مسلم نیشنل ازم کا بانیءاول سمجھتے تھے۔شیخ احمد مجدد الف ثانی بھی کہلاتے ہیں۔آپ سولہویں صدی عیسوی میں صوفیاءکے سلسلہ نقشبندیہ سے متعلق ایک معروف صوفی بزرگ تھے جنہوں نے مغل شہنشاہ اکبر کے اسلام کش اقدام کی مخالفت کی تھی۔ شہنشاہ جہانگیر کے زمانے میں انہوں نے گوالیار کے قلعہ میں قید کی صعوبتیں برداشت کیں۔ ان کا مزار مشرقی پنجاب کے شہر سرہند میں واقع ہے۔ میری ولادت سے کچھ ماہ پیشتر میرے والد سرہند تشریف لے گئے۔ شیخ احمدؒ کے مزار پر حاضری دی اوردعا کی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے انہیں اولادِ نرینہ سے نوازا تو اُسے ساتھ لے کر ان کی خدمت میں حاضر ہوں گے۔ چنانچہ جب میں تقریباً دس برس کا ہوا (29جون1934) تو مجھے ہمراہ لے کر سرہند شیخ احمدؒ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔ مجھے خوب یاد ہے کہ میں ان کی انگلی پکڑے مزار میں داخل ہوا۔ گنبد کے تیرہ و تار ماحول نے مجھ پر ایک ہیبت سی طاری کردی تھی۔ میرے والد تربت کے قریب فرش پر بیٹھ گئے اور مجھے اپنے پاس بٹھا لیا۔ پھر انہوں نے قرآن مجید کا ایک پارہ کھولا اور دیر تک تلاوت کرتے رہے۔ اُس وقت وہاں اور کوئی موجود نہ تھا۔ گنبد کی تاریک فضا میں اُن کی رندھی ہوئی مدہم آواز گونج رہی تھی۔ میں نے دیکھا کہ ان کی آنکھوں سے آنسو امڈ کر رخساروں پر ڈھلک آئے ہیں۔ شاید جنم پتری یہ معلوم کرنے کے لیے بنوائی گئی کہ مستقبل میں اُن کا یہ بیٹا اسلام کی نشاة ثانیہ میں کوئی نمایاں کردار اد اکرنے کے قابل ہوتا ہے یا نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  Historical Images of Pakistan

مجھے کبھی کوئی روحانی تجربہ نہیں ہوا۔ طالب علمی کے زمانہ ہی سے میری زیادہ وابستگی ادب اور فلسفہ سے رہی ہے۔ ویسے آنسو ہمیشہ میرے خاندان میں ہر کسی کی ناک پر دھرے ہوتے ہیں۔ کوئی ذرا سا جذباتی ماحول پیدا کردے تو امنڈ آتے ہیں۔ بنیادی طور پر میں مذہبی سے زیادہ ثقافتی مسلمان ہوں۔ مجھے خواب بھی بہت کم آتے ہیں۔ چند بار اپنے والد کو خواب میں دیکھا ہے۔ مدت ہوئی ایک مرتبہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں سرہند میں شیخ احمدؒ کے مزار کی دیوار کو ہاتھوں سے تھامے زاروقطار رورہا ہوں۔ میرے ایک عزیز دوست شیخ بشیر احمد مرحوم تھے جن کا تعلق سلسلہ نقشبندیہ سے تھا۔بشیراحمد میرے ولی منشی طاہرالدین کے صاحبزادے تھے جو اپنے والد کی وفات کے بعد دیگر ولیوں کی ایما پر میرے اور منیرہ کے گارڈین مقرر ہوئے۔ آپ نے اپنی بیگم کے ساتھ ہماری نگہداشت کی خاطر کچھ مدت تک ہمارے گھر میں بھی قیام کیا۔ آپ مشہور ماہر امراض قلب ڈاکٹر شہریار احمد کے والد تھے۔ انہوں نے اس خواب کی تعبیر کرتے ہوئے بتایا کہ حضرت صاحب کے مزار کی دیوار کو ہاتھوں سے تھامے آہ و زاری کرنے کا مطلب تو یہی ہے کہ تم پر ان کا روحانی فیض جاری و ساری ہے۔ شاید اسی سبب اپنی تمام بشری کمزوریوں اور کوتاہیوں کے باوجود تم عصبیت کے مسلمان ہو۔ مجھے اپنی اسی عصبیت پر یقینا فخر ہے۔بلکہ میں تو اپنے سال ولادت یعنی ۴۲۹۱ءکو بھی عالم اسلام کے لیے نہایت اہم سال سمجھتا ہوں۔ اسی سال ترکی میں خلافت یعنی مسلم سیاسی نظام میں مطلق العنانیت کے فرسودہ تصور کا خاتمہ ہوا اور عالم اسلام کے مختلف ملکوں میں قومی ریاست یا ”نیشن سٹیٹ“ کے قیام کے لیے کوششیں شرو ع ہوئیں۔ برصغیر کے مسلمان بھی دارالحرب‘ دارالاسلام‘ جہاد یا ہجرت کے پرانے نظریوں کو خیرباد کہہ کر دنیائے اسلام کے دیگر ملکوں کی طر ح مسلم قومی شناخت کی بنیاد پر حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے تگ و دو کرنے لگے۔ اسی سال سے ہندی مسلمانوں نے مطالبہ شروع کیا کہ پنجاب اور بنگال کے صوبوں میں ان کی اکثریت کو بروئے کارلایا جائے۔ نیز مسلم اکثریتی صوبوں سرحد اور بلوچستان میں دستوری اصلاحات نافذ کی جائیں اور مسلم اکثریتی سندھ کو بمبئی سے الگ صوبہ بنا دیا جائے۔ اس تحریک کی ابتدا 1924ءہی سے ہوئی جس نے بالآخر1947ءمیں مسلم اکثریتی صوبوں کے الحاق کی صورت میں پاکستان قائم کیا۔ پس میں اپنے سالِ ولادت کو احیائے اسلام کی ابتدا کا سال سمجھتا ہوں‘ جب اندھی تقلید اور تنگ نظری کے بندھنوں سے آزاد ہوکر مذہبی‘ معاشرتی‘ سیاسی‘ اقتصادی اور قانونی سطح پر اجتہاد کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے اسلام کی ایک روشن خیال‘ وسیع النظر‘ کشادہ دل اور روادار تعبیر نے جنم لیا۔

یہ بھی پڑھیں:  سسرال سے عورتوں کو سیکھنا چاہئے

میرا نام جاوید کیسے رکھا گیا؟ میری ولادت کے وقت میرے دادا شیخ نور محمد زندہ تھے۔ وہ ایک صوفی بزرگ تھے جنہیں خواب میں بشارت ہوئی کہ ان کے فرزند محمد اقبال کی اولاد میں سے دو بیٹے اور ایک بیٹی زندہ رہیں گے۔ بعدازاں خواب ہی کے عالم میں ان کے روبرو کسی نے وہ قرآنی آیت پڑھی جس میں شمس‘ قمر اور منیرہ کا ذکر آتا ہے۔ چنانچہ اس خواب کی نسبت سے انہوں نے میرے بڑے بھائی کا نام آفتاب رکھا تھا۔ جب میں پیدا ہوا تو میرا نام قمر الاسلام تجویز کیا مگر یہ نام میرے والد کو پسند نہ آیا۔ انہوں نے قمر الاسلام کی بجائے میرا نام جاویدرکھ دیا۔ اس زمانہ میں برصغیر میں جاوید نام مقبول نہ تھا۔ اس لیے ہندو پاکستان میں شاید کوئی بھی جاوید اقبال نامی شخص مجھ سے عمر میں بڑا نہ ہوگا۔ ایک ایرانی خاتون جنہیں میں مونٹریال (کینیڈا) میں ملا کا نام جاوید بہ وزن ناہید تھا۔

(مرحوم جسٹس جاوید اقبال کی کتاب ”اپنا گریباں چاک کر“ سے اقتباس)