marriym aurangzeb + sheikh rashed

الیکشن کمیشن کی جانب مارچ کریں گے: مریم اورنگ زیب؍ ان کے راستے میں رکاؤٹ نہیں بنیں گے :شیخ رشید

EjazNews

مسلم لیگ ن کی ترجمان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیرملکی فنڈنگ کیس کے فیصلے میں الیکشن کمیشن کی کیا مجبوریاں ہیں؟ اس لیے عوام تحریری طور پر فیصلہ لینے کے لیے اسلام آباد آرہی ہے، آپ فیصلہ لکھنے کی تیاری کرلیں۔ ‘ایک موصوف ہیں جنہیں کل بہت تکلیف ہوئی ہتک عزت کی، ایسے لوگوں کو ہتک عزت سمجھ نہیں آتی جو لوگ صبح دوپہر اور شام کاغذ لہرا کر میڈیا ٹرائل کرتے اور جھوٹے الزامات لگاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا پنڈی سٹی اور اسلام آباد کی سطح پر ریلی کے روٹس کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، پنڈی میں ریلی نواز شریف پارک سے شروع ہوگی جبکہ پی ڈی ایم کی قیادت کشمیر چوک سے قیادت کرے گی جبکہ مسلم لیگ (ن) کی طرف سے مریم نواز قیادت کریں گی۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ جنہوں نے اپنے عزت کی قیمت 50 کروڑ لگائی ہوئی ہے وہ بیرون ملک جا کر اس ڈیل میں سے کمیشن ضرور مانگیں گے جن کی عزت ہی 50 کروڑ کی ہو۔ ان کی عزت ایک کروڑ تک کی ہوجائے تو اُمید ہے کہ کل وہ مزید 50 کروڑ کا ہتک عزت کا نوٹس کریں۔

یہ بھی پڑھیں:  رمضان شوگر ملزم کیس میں میاں حمزہ شہباز شریف کی ضمانت منظور

انہوں نے کہا کہ ایک آمر نے منتخب وزیراعظم کو ہٹانے کے لیے ایک معاہدہ کیا اور پاکستانی خزانے سے 400 کروڑ روپے ادا کیے اور اب اس برطانوی کمپنی سے نیا معاہدہ کرنے جارہے ہیں۔ 2018 سے شہزاد اکبر، نیب بیورو، اور ایک جنرل مسلسل رابطے میں ہیں اس لیے ہتک عزت کا نوٹس بھیجنے کے بجائے ان سوالات کا جواب دیں۔ براڈ شیٹ کے ساتھ معاہدے سے متعلق ڈرافٹ کا عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔ نیب اور شہزاد اکبر سمیت جتنے عہدیداروں نے براڈ شیٹ کمپنی کے ساتھ ملاقاتیں کیں اس کے نکات عوام کے سامنے پیش کیے جائیں۔

دوسری جانب وزیر داخلہ شیخ رشیدکا پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا تمام وزارتی کمیٹیوں نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے اور فروغ نسیم نے قانونی مشورہ دیا ہے کہ الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے اور اسی کے تحت یہ الیکشن میں حصہ لینے جارہے ہیں۔ جس الیکشن اور جس اسمبلی پر انہیں اعتراض ہے اسی میں حصہ لینے جارہے ہیں اور اصلاحات بھی نہیں کر رہے ہیں۔مارچ کے پہلے ہفتے میں اُمید ہے کہ یہ سینیٹ کے انتخابات میں بھی حصہ لیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  منظم دہشت گردی

انہوں نے کہا کہ ہمیں ان سے توقع ہے کہ کسی جگہ امن و امان کا کوئی مسئلہ کھڑا نہیں کریں گے اور الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے جہاں فارن فنڈنگ کیس کی سماعت جاری ہے۔ہم ان کے راستے میں کوئی رکاؤٹ نہیں بنیں گے اور ان سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ بھی حکومت کی اس نیک دلی اور اچھی خواہش کا احترام کریں گے اور قانون اور آئین کے دائرے میں رہ کر اپنا احتجاج کریں گے۔

وزیراعظم ریاست مدینہ کے اعلان کے مطابق چاہتے ہیں کہ یہاں دینی قوتوں کا احترام ہو اور ہم بھی دینی مدرسوں کو پاکستان کا مینار سمجھتے ہیں۔ اسلام آباد میں 562 مدرسے ہیں اور ان میں سے 92 رجسٹرڈ ہیں لیکن ہمیں نئے مدرسے رجسٹر کرنے میں بھی کوئی اعتراض نہیں ہے۔