saudi arbia vs qatar

قطر کے ساتھ عرب ممالک کے تعلقات یونہی بحال ہو گئے ہیں؟

EjazNews

مڈل ایسٹ میں بڑی بڑی تبدیلیاں دیکھنے میں آرہی ہیں ۔ اور یہ تبدیلیاں آنے والے سینیاریو کو شاید سامنے رکھ کر کی جارہی ہیں۔ نہ تو راتوں رات قطر سے عرب ممالک نے تعلقات منقطع کیے تھے اور نہ ہی یہ تعلقات اتنی جلدی جڑے ہیں۔ ان سب تعلقات کے جڑنے میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے (یہودی نژادامریکی )داماد اور مشیر کا بڑا اہم کردار سامنے آرہا ہے۔ شنید ہے کہ کشنر موجودہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ پڑھتے بھی رہے ہیں۔

اب قطر کے ساتھ عرب ممالک نے جو تعلقات بحال کیے ہیں اس کے پیچھے کون سے شرائط ہیں یا معاملات ہیں اس کی کھوج میں شاید اس وقت پوری دنیا کا میڈیا ہے لیکن مستند خبر کسی کے پاس نہیں ہے۔ سال2017 میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے قطر کیساتھ تعلقات ختم کرتے ہوئے کچھ مطالبات رکھے تھے۔ جن میں الجزیرہ میڈیا نیٹ ورک کو بند کرنا بھی شامل تھا۔دونوں عرب ممالک کے تعلقات معمول پر لانے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بڑا ہاتھ ہے۔اور یہ ہاتھ کیوں آگے آیا ہے اس کی ایک کڑی سامنے آچکی ہے باقی ابھی پوشیدہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  بھارتی خطرناک وائرس کا مشرق وسطیٰ کے ممالک میں آنے کا خطرہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر جیئرڈ کشنر نے دسمبر2020 میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی تھی اور اس ملاقات کے بعد وہ قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے بھی ملے تھے۔

قطر پر مبینہ طور پر دہشت گردی کی حمایت کرنے اور ایران کے ساتھ روابط رکھنے کی بنا پرپابندیاں عائد کی گئی تھیں جبکہ قطر نے ان الزامات کو بے بنیاد کہہ کر مسترد کر دیا تھا۔

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے قطر کے ساتھ تجارتی اور سفارتی تعلقات منقطع کر دیا تھا۔ ان ممالک نے قطر کی طرف سے اپنی فضائی، سمندری اور زمینی حدود استعمال کرنے پر بھی پابندی عائد کر رکھی تھی۔
الجزیرہ کے مطابق قطر کو سعودی عرب میں شروع ہونے والے خلیج تعاون کونسل کے 41ویں اجلاس میں بھی مدعو کیا گیا ہے۔اور یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر جیئرڈ کشنر کے خلیجی ممالک کے دورے کے بعد سامنے آئی جو انہوں نے دسمبر2020 میں کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  امریکی صدر اور فرسٹ لیڈی کا کرونا ٹیسٹ مثبت آگیا

دوسری جانب بی بی سی کے مطابق ایک امریکی افسر کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور قطر کے درمیان تنازع کو ختم کرنے کے لیے معاہدے پر دستخط ہوں گے۔