islambad_child

پولیس اہلکاروں نے نوجوان کی جان لی، دہشت گردی کا مقدمہ درج، لیکن کیس تو عدالت میں لگنا ہے

EjazNews

اسلام آباد کے سیکٹر جی 10 میں ایک گاڑی پر پولیس کی فائرنگ سے اسامہ ندیم نامی نوجوان ہلاک ہوگیا تھا۔

اسلام آباد کے تھانہ رمنا میں مقتول نوجوان کے والد کی مدعیت میں درج ایف آئی آر میں اسلام آباد پولیس کے پانچ اہلکاروں کو نامزد کیا گیا ہے۔

واقعہ کے بعد لواحقین نے مقتول کی میت سری نگر ہائی وے پر رکھ سڑک کو بلاک کر دیا ۔ اس احتجاجی مظاہرے میں سول سوسائٹی اور تاجر بھی شریک تھے۔

مقتول نوجوان اسامہ ندیم کے والد نے اسلام آباد کے رمنا تھانے میں درج ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ان کا بیٹا رات دو بجے اپنے دوست کو یونیورسٹی چھوڑنے گیا تھا۔اسامہ ندیم کی ایک روز قبل پولیس اہلکاروں سے تلخ کلامی ہو گئی تھی اور اس بات کا ذکر انہوں نے مجھ سے کیا تھا۔

اسامہ ندیم کے والد کا موقف ہے کہ پولیس اہلکاروں نے ان کے بیٹے کو مزہ چکھانے کی دھمکی دی تھی، گذشتہ رات ان پولیس اہلکاروں نے میرے بیٹے کی گاڑی کا پیچھا کر کے اس پر فائرنگ کر دی جس سے وہ ہلاک ہوگئے۔

یہ بھی پڑھیں:  افغانستان معاملے پر خطے اور علاقائی ممالک سے مشاورت کر رہے ہیں:وزیر اطلاعات

دوسری جانب پولیس کا موقف ہے:
آئی جی اسلام آباد کے مطابق پولیس ڈکیتی کی واردات میں ملوث ایک سفید گاڑی کا پیچھا کر رہی تھی تاہم وہ گاڑی آنکھوں سے اوجھل ہوئی اور اس گاڑی کے شیشے کالے تھے اور پولیس نے سائرن بجا کر اور لائٹس جلا کر گاڑی کو روکنے کی کوشش کی۔ پانچ سے چھ کلومیٹر تک اس گاڑی کا پیچھا کرنے کے بعد پولیس اہلکاروں نے فائر کھول دیا جو کہ ان کی غلطی تھی۔ہم اس واقعہ کو چھپا نہیں رہے بلکہ پانچوں اہلکاروں کو فوری طور پر گرفتار کر کے ان کے خلاف دہشت گردی اور قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ مقتول کے لواحقین کو ہرصورت انصاف دلایا جائے گا۔

ڈی آئی جی وقار الدین سید کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے جو کہ نہ صرف مکمل تفتیش کرے گی بلکہ کیس کو منطقی انجام تک بھی پہنچائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:  زرداری پیشی کے بعد روانہ، حمزہ شہباز کی پھر طلبی

یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے جس میں پولیس کے اہلکار ایسے جرائم میں ملوث پائے گئے ہوں۔ اگر آپ غور کریں تو ایسا ہی ایک واقعہ لاہور میں بھی کچھ عرصہ پہلے رونما ہو ا تھا جس میں پولیس اہلکاروں نے ایک نوجوان کو گولیوں سے چھلنی کر دیا تھا ۔اور اس پر ڈکیتی اور ناجانے کون سے الزامات عائد کر دئیے تھے لیکن بعد میں سی سی ٹی وی فوٹیج نے راز کو افشاں کیا جس میں دیکھا جاسکتا تھا کہ ہاتھ میں اسلحہ تھامے اہلکار کس طرح نوجوان کی جان لے رہے ہیں۔

اسی طرح بہت سے دیگر کئی واقعات ہیں کہ اس قسم کے جرائم کرنے والوں کو کیا ڈر نہیں ہوتا کہ ان کو بھی سزا مل سکتی ہے۔

شاید ہمارے انصاف کے طویل معیار کہ کیس لگے سالوں گزر جاتے ہیں اور ایک نسل کے بعد دوسری نسل جوان ہو جاتی ہے اور پتہ چلتا ہے کہ کیس کا فیصلہ اب ہوا ہے۔ اگر اس قسم کے کیسوں کا جلد فیصلہ ہو جائے اور مجرموں کو قرار واقعہ سزا مل جائے تو ایسے واقعات پر قابو پایا جاسکتا ہے ورنہ مقدمہ درج کروانے والے بھی ایک وقت پر یہ کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ جانے والا تو چلا گیا سالہا سال گزر گئے ہیں اب ہم کیاکریں ۔

یہ بھی پڑھیں:  غلطی سے سرحد پار جانیوالے 2پاکستانی نوجوان بھارتی فوج کی فائرنگ سےجاں بحق

گزشتہ روز کامران شاہد کو دئیے گئے انٹرویو میں بھی وزیراعظم عمران خان نے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ میں چیف جسٹس سے درخواست کر تا ہوں کہ اگر میرے کسی وزیر پر کوئی الزام لگاتا ہے تو ایسے مقدمات کی شنوائی روزانہ کی بنیاد پر کی جائے اگر میرا وزیر مجرم ہے تو اس کو سزا دی جائے اور اگر نہیں ہے تو الزام لگانے والے کو پکڑا جائے کیونکہ اس طرح انصاف کا بول بالا ہوگا۔