feeder feeding child

لیٹ کر فیڈر پلانا انتہائی خطرناک کیوں؟

EjazNews

دوڈھائی برس کے بچوں کو لٹاکر فیڈرنہیں پلانا چاہئے کیونکہ اس پوزیشن میں دودھ خوراک کی نالی میں گرتارہتاہے۔ جراثیم اس طرح بھی تیزی سے پھیلتے ہیں۔ اس لئے کوشش کی جانی چاہئے کہ بچے کو ماں کا دودھ ہی پلایا جائے۔ ماں کا دودھ بہت بڑی نعمت ہے۔ اس کانعم البدل نہیں اسے زیادہ سے زیادہ پلایا جانا چاہئے۔

عالمی ادارہ صحت نے اس بارے میں تجاویز مرتب کی ہیں۔ مدر فیڈنگ کوفروغ دینے والی قوموں کے بچے ناصرف بچپن ہی سے چاک و چوبند ہوتے ہیں بلکہ وہی قومیں صحت مند بھی رہتی ہیں اور ترقی بھی کرتی ہیں۔ یہ کوئی مذاق نہیں، حقیقت ہے کہ ماں کے دودھ کی متوازن توانائی بچوں کو صحت مند رکھتی ہے۔ یہ بچوں میں قوت مدافعت پیدا کرتی ہے اور ماں کو کینسر سے بچاتی ہے۔

بچے اور ماں کے درمیان تعلق بھی انہی قوموں میں زیادہ بہتر ہوتے ہیں۔ اگر آج ہمارے معاشرے میں رشتے کمزور پڑرہے ہیں تو اس کی وجہ بچپن میں گھر کا ماحول اور بریسٹ فیڈنگ کا نہ ہونا ہے۔

اگر مجبوری کی حالت میں بوتل سے دودھ پلانانی پڑ جائے تو کوشش کریں کہ بچے کی گردن سیدھی چت نہ ہو بلکہ بازو کے سہارے پہ ٹکی ہو اور نیم دراز حالت ہو۔ بچے اور ماں دونوں الرٹ رہیں۔ خاص طور پر بچے کو مسلسل تھپکیاں دے کر چوکس رکھا جائے۔ اس طرح بچے کی آنکھ نہیں لگتییعنی وہ جاگتا رہتا ہے۔ لٹا کر بچے کو دودھ پلایا جائے تو بچوں کے ٹانسلز اور ایڈی نائڈز غدود بڑھنا شروع ہوجاتے ہیں جنہیں زیادہ بگڑ جانے کی صورت میں آپریشن سے نکالنا پڑتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  زچگی سے پہلے اور بعد میں ہونے والا ڈپریشن

لیٹ کر دودھ پینے والے بچوں کو سانس کی تکلیف ہوسکتی ہے یوں بھی اس پوزیشن میں دودھ پینے والے بچوں کی خوراک کی نالی میں دودھ پڑارہتاہے کیونکہ یہ نالی ہموارنہیں ہوتی۔ ناک کے پشت والی جگہ کچھ نیچے ہے اور کچھ اوپر ہے توناک کے پچھلے حصے میں کچھ دودھ مستقل پڑارہتا ہے۔ لیٹا ہوا بچہ نہ سانس ٹھیک طرح سے لے پاتا ہے اور دودھ پی پاتا ہے۔ اس طرح چھاتی کا انفیکشن بھی ہوسکتا ہے۔ دمہ بھی اس کا ایک نتیجہ ہے۔ دانتوں کا ٹیڑھا پن ہو جانا بھی ایک عام بیماری ہے۔ اس کی وجہ بھی فیڈر کا دودھ ہے۔ ان سب کو ہمChain of Events کہہ سکتے ہیں لیکن سب ایک دوسرے سے جڑے مسائل ہیں۔ دودھ پلانے کے بعد کندھے سے لگا کر ہلکی ہلکی تھپکیاں دینی چاہئیں اس طرح ساری گیس نکل جاتی ہے اور قے کا امکان ختم ہو جاتا ہے ورنہ سارا دودھ قے کی صورت میں نکل بھی سکتا ہے۔ کھانا ہضم کر کے سونے والوں کو نیند بھی بہتر آتی ہے اور ان کا ہاضمہ بھی ٹھیک رہتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  عورتوں کیلئے کم خرچ میں بہتر کھانا

فیڈرکا نپل کتنا نقصان دہ ہے؟ :
یہ نپل دانت کی نشوونما میں رکاوٹ بنتا ہے۔ یہ بات گزشتہ کئی عشروں سے سائنس نے ثابت کی ہے۔ اس لئے ماں بچے کونرم ترین نپل والے فیڈرسے دودھ پلائے۔ چوسنی بھی مضرصحت ہے اس سے دانت ٹیڑھے ہو سکتے ہیں۔ نپل اور فیڈر کو کھولتے پانی میں ابالنا نہایت ضروری ہے مگر پلاسٹک کی بوتلوں کو نہیں صرف شیشے کی بوتل استعمال کی جانی چاہئیں جنہیں ابالنے یا کھولانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

ڈاکٹر کی رائے میں:
قدرتی دودھ نا صرف بچے کی صحت کے لئے مفید ہے بلکہ ماں کو بھی ذیابیطس، چھاتی اور بیضہ دانی کے کینسر سے محفوظ رکھتا ہے۔
بریسٹ فیڈنگ سے ماوں میں 47 فیصد تک ذیا بیطس اور ان دوسرے مہلک امراض سے بچاﺅ ممکن ہوتا ہے۔

فارمولہ دودھ جسے ایک زمانے میں ماں کے دودھ کا بہترین نعم البدل کہا جاتا تھا صریحاً غلط ثابت ہو چکا ہے۔ یہ مجبوری میں استعمال کیا جانے والا دودھ ہے جس میں قدرتی اجزاءشامل نہیں لہٰذا اسے سپلیمنٹ کہا جائے تو مناسب ہوگا۔ حیرت کا امر یہ ہے کہ پاکستان کی بڑی آبادی اپنے وسائل 42 واں حصہ جو کروڑوں روپے کی شکل میں ہے اس کی تشہیراور استعمال پر صرف کرتی ہے۔ افسوس کا مقام ہے۔ تعلیم یافتہ اور ملازمت پیشہ خواتین میں بھی بریسٹ فیڈنگ کی شرح تسلی بخش نہیں جبکہ دیہات اور قصبوں میں عورت کے چست و چالاک اور صحت مند ہونے کا ایک اہم راز قدرتی دودھ پرانحصارکرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  تمام لڑکیوں کے جسم میں تبدیلیاں آتی ہیں، پریشان نہ ہوں

قدرت کا ایسامنظم نظام ہے کہ ولادت کے بعد عورت کا جسم مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو سکتا ہے مگر بریسٹ فیڈنگ سے جسم نارمل حالت میں آجاتا ہے۔ Uterus نارمل حالت میں واپس آ جاتی ہے، وزن کم ہو جاتا ہے، پیٹ سکڑتا ہے۔ مجموئی صحت بہتر ہوتی ہے۔ ادھر چھ ماہ میں بچے بھی توانا ہونے لگتے ہے۔ قدرتی دودھ میں موجود اینٹی باڈیز بیکٹیریا اور متعدد وائرسیز کو ہلاک کردیتے ہیں۔ ماں کا دودھ پینے والے بچوں میں دمہ اور نظام تنفس کی خرابیاں شاذ و نادر ہی پیدا ہوتی ہیں۔ یہ دودھ بچوں کو اسہال، ہیضہ اور متعدد امراض سے محفوظ رکھتا ہے۔

بشکریہ :ڈاکٹر صدف