australia

آسٹریلیا منتظر ہے آپ کا، انگریزی سیکھئے، ہنر دکھائیے

EjazNews

آسٹریلیا کو جزائر کی سرزمین کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ یہ دنیا کے ان چند اور جدید ترقی یافہ ملکوں میں سے ایک ہے جہاں دنیا بھر سے لوگ تعلیم، روزگار اور مستقل سکونت کے لئے قیام کرنے کا خواب دیکھتے ہیں اور بہت سے لوگ اپنی صلاحیتوں کے بل پر ان خوابوں کی تعبیر پا لیتے ہیں۔

میدان چاہے کھیلوں کا ہویا کرکٹ، ہاکی، فٹ بال، تیراکی، کشتی رانی، سائیکلنگ ، اسکواش ہو یا سائنسیتعلیم اور ٹیکنالوجی کے شعبے ہوں آسٹریلیا کے لوگ اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور کارکردگی کی بنیاد پر ممکن ہی نظر آتے ہیں یہ ایسا ملک ہے جس نے اپنے باشندوں، ذرائع اور وسائل پر شروع سے سائنسی اور جدید انداز میں محنت کر کے پوری دنیا میں اپنی لیاقت، قابلیت اور کارکردگی کی سند حاصل کرلی ہے اور ترقی پذیرملکوں سے افرادی قوت اور ذہین دماغ آسٹریلیامنتقل نہ ہوتے۔

چھ بڑی ریاستیں، ایک فیڈریشن:
آسٹریلیا 6 بڑی ریاستوں پرمشتمل فیڈریشن ہے جس کا دارالحکومت کینبراہے۔ چھ ریاستوں میں نیو ساوتھ ویلیز ، کوئنیز لینڈ، تسمانیہ، وکٹوریہ، ساوتھ آسٹریلیا اور ویسٹرن آسٹریلیا شامل ہیں۔
ماضی میں یہ ملک بھی برطانیہ کی نو آبادی شمار ہوتا تھا اسی لئے آسٹریلیا کامن ویلتھ کا ممتاز رکن ہے۔

چوتھی اہم معیشت :
یہ ملک فی کس آمدنی کے اعتبار سے دنیا کی 9 ویں بڑی اور ملکی تجارت کے اعتبار سے چوتھی بڑی معیشت ہے۔ یہاں صنعتوں اور جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے روزگار اور مستقل سکونت کے مواقع بڑھ رہے ہیں۔ آسٹریلیا کی مشہور برآمدات میں یہاں کا گوشت اور ڈیری کی مصنوعات، طبی آلات، قیمتی دھاتیں سونا، چاندی، یورنیم اور قیمتی پتھر وغیرہ شامل ہیں۔

آسٹریلیا کو جزائر کی سرزمین کہا جائے تو غلط نہ ہوگا

آسٹریلیا کا سہانا موسم :
سال کے بارہ مہینے یہاں موسم بہت خوشگوارمگر مرطوب رہتا ہے۔

تعلیمی معیار اور بین الاقوامی رینگنگ:
آسٹریلیا کی یونیورسٹیوں کو دنیا بھر میں ممتاز حیثیت حاصل ہے۔ پوری دنیا میں یہاں کے تعلیمی اداروں سے حاصل کردہ ڈگریوں اور ڈپلوموں کو جانا اور تسلیم کیا جاتا ہے ظاہر ہے اس کا سبب ان کا اعلیٰ معیار اور کوالٹی کی تعلیم ہے۔ آسٹریلیا کی اچھی ڈگری یا ڈپلوے کا مطلب ہے اپنے مستقبل کو نہ صرف روشن بلکہ محفوظ کر لینا اور اگر ملازمت درکار ہے تو تردد کا مسئلہ نہیں ہوتا۔ نوجوان اگر آسٹریلیا جانا چاہتے ہیں تو یہ صفحات انہی کی رہنمائی کے لئے حاضر ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا بھر میں سب بڑے یونیورسٹی رینگنگ کے ادارےاQS World Rankingکی پہلی 100 یونیورسٹیوں میں سے 16 یونیورسٹیاں آسٹریلیا کی ہیں۔ اسی طرح دنیا بھر کی یونیورسٹیوں کے ایک اور بڑے ادارےTimes Higher Education کی پہلی 100 یو نیورسٹیوں کی لسٹ میں سے 10 کاتعلق بھی اسی ملک سے ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  جس نے مادام تسائو میوزیم نہیں دیکھا، اُس نے لندن نہیں دیکھا

انگریزی زبان کا راج:
یہاں سب سے زیادہ بولی اور سمجھی جانے والی زبان انگریزی ہی ہے۔ تمام یونیورسٹیوں میں بھی قریبی تعلیم انگریزی ہی ہے۔ لہٰذا یہاں جانے والے ہر طالب علم کو انگریزی زبان میں مہارت کا ثبوت TOEFL اور LETS Iجیسے مشہور ٹیسٹ پاس کرنا ضروری ہے۔ TOEFL کا امتحان امریکی ادارہ ایجوکیشن ٹیسٹنگ سروس منعقد کراتا ہے۔ جبکہ IELTS بھیInternational English Language Testing Systemکا امتحان برطانیہ کے ادارے کیمبرج یونیورسٹی منعقد کراتی ہے۔ اس امتحان میں اچھے اسکور سے دنیا بھرمیں کہیں بھی با آسانی داخل ہو جاتا ہے۔

فنی و پیشہ ورانہ تعلیم قابل ترجیح:
آسٹریلیا میں فنی تعلیم اورمختلف کورسز میں داخلہ لینا آسان ہے مگر وہاں پہنچ کر سیٹ ہونے کے لئے بھی فنی و پیشہ ورانہ تعلیم قابل ترجیح ہے۔ عام طور پر پہلے سال ہی آپ کو اپنے تعلیمی اخراجات برداشت کرنے کے لئے جاب کرنا پڑتی ہے۔ یہاں ہر طالب علم کو گھنٹوں تک کام کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔ جس میں کم سے کم معاوضہ 15 سے 18 ڈالر فی گھنٹہ ہوتے ہیں اگر آپ کی فنی علم کے ماہر ہیں تو یہ معاوضہ دو گنا بھی ہوسکتا ہے۔ اگر صرف ٹائپنگ یا کمپوزنگ ہی کی رفتار اچھی ہو تو چالیس سے پچاس ڈالر فی گھنٹہ کما سکتے ہیں۔ خاص کر کمپیوٹر سائنس، ٹیکنالوجی اور تحقیق کے میدان میں یہاں اچھے مواقع اور بہتر مشاہرے دستیاب ہیں۔ بلاشبہ آسٹریلیا ایسا ملک ہے جہاں صرف ہنر دکھا کر یا اس کا چھوٹا سا امتحان پاس کر کے ڈگری حاصل کر سکتے ہیں اور بطور ماہر اپنی رجسٹریشن کرواسکتی ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ نے پاکستان سے شیف کا ڈپلومہ یا ڈگری حاصل کی ہے وہ مزید تربیت کے لئے رجوع کر سکتی ہیں۔ جس کی فیس چند سو ڈالر ہے۔ اسی طرح میکینک، مستری، گلاس فٹر، الیکٹریشن اور بڑھئی وغیرہ کاڈ پلومہ بھی بے حد کارآمد ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  سندھ میں ہندو مذہب کے مقدس مقامات

طلبہ کے لئے متعلقہ معلومات :
پاکستان سے آسٹریلیا جانے والے طلبہ کو زیادہ مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ ویزہ حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ کے پاس آسٹریلیا کی یونیورسٹی، کالج یاکسی ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ میں داخلے کا ثبوت، 18 سے 20 لاکھ روپے کی بینک اسٹیٹمنٹ، انگریزی کے امتحان کا اچھے نمبروں کا سرٹیفکیٹ ہو۔ اگر آپ شادی شدہ ہیں تو مزید 6 سے 8 لاکھ روپے بینک میں ہونے چاہئیں کیونکہ حکومت آپ کی بیوی، بچوں یا شوہر کے سالانہ طعام و قیام کے اخراجات کی تسلی چاہتی ہے۔
آپ اسکالرشپ کے حقدار بھی ہو سکتے ہیں۔یہ Australian Government Endeavour Scholarship کہلاتی ہے۔ یہی آسٹریلیا کی سب سے اعلیٰ اور شاندار اسکالرشپ ہے جسے حکومت تعلیمی شعبے کی تربیت کی مدد سے پوری دنیا کے لوگوں کو اپنے یہاں تعلیم تحقیق کے فروغ اور ترقی پذیر ممالک میں تعاون کے لئے دیتی ہے۔ اس سہولت کے لئے ہر شعبے، مضمون کورس اور ڈگری یاڈپلومے کے لئے طالب علم Apply کر سکتے ہیں۔ یاد رکھئے کہ یہ اسکالرشپ ہر سال اپریل سے مئی تک اخبارات میں اشتہارات کے ذریعے آفر کی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  گلگت بلتستان میں بہت کچھ ہے دیکھنے کیلئے
australia_brige
یہ سڈنی کی طویل ترین سڑک ہے جومختلف شہروں کو آپس میں ملاتی ہے۔ ۔

آسٹریلیا میں قابل دید مقامات:
یہاں یوں تو بے شمار تفریحی مقامات سیاحوں کی دلچسپی کا باعث ہیں مگر Sydney میں اوپرا ہاوس، ہاربر برج، نیشنل پارک اور طویل ساحلی پٹی Bundi Beachدیکھنے کے لائق ہے۔

Victoria Road:
یہ سڈنی کی طویل ترین سڑک ہے جومختلف شہروں کو آپس میں ملاتی ہے۔ یہاںIron Cave پل دوشہروں Rozelle اور Drummoyne کو باہم ملاتا ہے۔

Perth
یہ آسٹریلیا کا دارالحکومت ہے اور مغربی آسٹریلیا میں واقع ہے۔ یہاںSwanRver Colonyقابل دید منظر ہے۔

Adelaide
یہ جنوبی آسٹریلیا کا شہر ہے اور ثقافتی و سماجی طور پر رنگارنگ مقام ہے۔

Melbourne
یہاںFederation Square, Crown Casino اور میوزیم قابل دید مقامات ہیں۔

Great Barrier Reef
یہ آسٹریلیا کا ایسا مقام ہے بلکہ جزیرہ ہے جو 1998 سے اس خطے کا پسندیدہ ترین جزیرہ ہے اور مسلسل نمبرون کی پوزیشن پر قائم ہے۔یہ قیمتی پتھر مرجان کی چٹانوں سے بنے ہوئے۔ 900 جزائر پر مبنی انوکھا سلسلہ ہے۔ یہ پہلا ایسا ڈھانچہ ہے جو سمندری مخلوق نے از خودتعمیر کیا ہے، ہے نا دلچسپ بات ! مرجانی چٹانوں کا ایسا وسیع وبے نظیر نظام دنیا میں ہیں اور نظر نہیں آئے گا۔ سیاح اسے خلا سے دیکھنے کے لئے چارٹر طیارے میں سفر کرتے ہیں اور زمینی راستوں سے بھی یہاں پہنچنا آسان ہے۔ یہاں انواع و اقسام کے آبی جانور اور انسانی بقاءکی بنیادی سہوتیں یکجا ہیں۔ کہتے ہیں کہ آسٹریلین حکومت کو صرف ان جزائر ہی سے سالانہ کئی ارب ڈالرز کی آمدنی ہوتی ہے۔ بہرحال شاندار آسٹریلیا بحر ہند اور پیسیفک اوشنز کا خوبصورت ترین جزیرہ ہے۔

26 جنوری چونکہ یہاں یوم استقلال کے طور پر منایا جاتا ہے، کہتے ہیں کہ اس روز سیاحوں کو خصوصی رعایت دے کر آسٹریلیاد یکھنے کا موقع دیا جاتا ہے۔