asad_umar

عوامی اجتماعات میں 3 سو سے زائد افراد اکٹھے کرنے کی پابندی ہے، اس فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہو رہا:وفاقی وزیر

EjazNews

وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا ہے این سی او سی میں ہماری ذمہ داری یہ نہیں ہے کہ ہم پیچھے کی طرف دیکھیں کہ کیا ہو چکا ہے، ہماری اولین ذمے داری یہ ہے کہ ہم آگے دیکھیں۔ قوم کی صحت اور روزگار کے دفاع کی ذمہ داری سونپی گئی ہے این سی او سی کو جس کے لیے ہم تمام ڈیٹا سائنس کا استعمال کرتی ہے اور ماہرین صحت ان کی رائے کو اہمیت دیتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کسی بھی طرح سے دیکھ لیں کیسز میں چار گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے، یہ صرف دو ماہ میں ہوا ہے اور یہ اس کے باوجود ہوا کہ ہم نے جو کچھ فیصلے کیے تھے ان پر عملدرآمد شروع ہو گیا ہے لیکن بدقسمتی عملدرآمد اس طریقے سے نظر نہیں آ رہا جس طریقے سے پہلی لہر میں نظر آیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اندر جو شادیاں ہو رہی تھیں ان پر پابندی لگا دی گئی، باہر کی شادیوں میں 300 کی حد رکھ دی گئی، اسی طرح ریسٹورنٹ میں بند کمروں میں کھانا کھانے پر پابندی لگا دی گئی اور یہ سارے تکلیف دہ فیصلے ہیں۔ اسی طرح میرج ہالز، ریسٹورنٹس اور ہزاروں لوگ ہیں جن کی نوکریاں ان سے جڑی ہوئی ہیں، ان سب کو بھی معاشی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا، لیکن ہمیں یہ مجبوری میں اس لیے کرنا پڑ رہا ہے کہ اگر ہم ایک آدمی کی معاشی بندش کی وجہ سے 100 آدمیوں کی معاشی بندش کو روک سکیں تو یہ منطقی بات ہے کہ ہم یہ فیصلہ کریں۔

یہ بھی پڑھیں:  ریکوڈیک کیس میں وزیر اعظم نے ذاتی دلچسپی لی:وزیر قانون

ان کا کہنا تھا کہ سب سے اہم فیصلہ عوامی اجتماعات میں 300 سے زائد افراد اکٹھے کرنے کی پابندی ہے، اس فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہو رہا، اس کی وجہ سے ایک نقصان یہ ہو رہا ہے کہ براہ راست وبا پھیل رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا ہمیں پاکستان کے بچوں کی تعلیم کی بھی فکر ہے، ہمیں پتہ ہے کہ بہت سارے تعلیمی ادارے کم قیمت اور کم فیس چارج کر کے بچوں کو تعلیم دیتے ہیں اور ان بندشوں سے ایسے تعلیمی اداروں کا بہت نقصان ہوا ہے۔

وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ اگر ایک جگہ پر 10 یا 20 ہزار لوگ جمع ہوں گے تو وبا کا پھیلاو بڑھے گا لیکن اس سے زیادہ خطرناک چیز یہ ہو رہی ہے کہ جب ملک کے لوگ اپنے لیڈرز کو یہ کہتے سنتے ہیں کہ جلسہ کرنے سے کرونا بھاگ جائے گا، وبا کے پھیلاو کا اس سے کوئی تعلق نہیں، یہ تو سیاسی بات کی جا رہی ہے کہ وبا پھیل رہی ہے اور اس کے نتیجے میں لوگ اپنی حفاظتی پر عمل کرنا کم کردیں تو یہ کہیں زیادہ بڑا نقصان ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ابھی مشکل وقت آنا ہے۔ اللہ کا شکر ہے ابھی تک ہمیں بچا کے رکھا ہوا ہے: وزیراعظم