imran_khan_sialkot

وہ ملک ترقی نہیں کرسکتا ہے جہاں چھوٹا سا طبقہ امیر ہوجائے اور باقی ملک غریب ہو:وزیراعظم

EjazNews

سیالکوٹ میں نجی ایئرلائن ایئرسیال کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ائیر سیال کا افتتاح کرنا تو بہانا تھا اصل میں میں سیالکوٹ میں کاروباری برادری سے ملنے آیا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ایئرسیال کا افتتاح تو ایک بہانہ ہے اصل میں میں یہاں کی کاروباری برادری سے ملنا چاہتا تھا، سب سے پہلے تو انہوں نے یہ ایئرپورٹ بنایا جو بہت شانداد ایئرپورٹ ہے جبکہ اپنی ایئرلائن بنانے کا اقدام بہت اچھا ہے اور مجھے امید ہے کہ یہ ایک مثالی ایئرلائن بنے گی۔ اس ایئرلائن سے سیالکوٹ سمیت پاکستان کا ہر طرح سے فائدہ ہے اور آنے والے دنوں میں میرے خیال سے سیالکوٹ برآمدات کا مرکز بننے جارہا ہے اور اس کے لیے ایئرلائن کی ضرورت پڑنی تھی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ جس طرح آپ نے ایئرپورٹ چلایا آپ اسی طرح ایئرلائن چلائیں گے اور پی آئی اے کے لیے بھی مقابلہ پیدا کریں گے۔جو اپوزیشن لاک ڈاون نہ کرنے پر تنقید کرتی تھی وہ اب جلسے کر رہی۔

انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس کی وبا جب پھیلی تو یہ مشکل وقت تھا اور پوری دنیا نے ایک مشکل فیصلہ کرنا تھا کیونکہ اس وائرس کو روکنے کا بہترین طریقہ لاک ڈاون ہے۔لوگوں کو ماسک پہننے کی تاکید کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اللہ نے ہمارے پر بہت کرم کیا اور پہلی لہر میں پاکستان جس طرح کرونا وائرس سے نکلا ہے، اس میں عوام نے ہمارے ساتھ تعاون کیا۔عالمی ادارہ صحت نے 7 ممالک کے بارے میں بتایا جنہوں نے کرونا وائرس کے دوران سب سے بہترین طریقے سے نمٹا اور اپنے لوگوں کا روزگار، کاروبار بچایا اور لوگوں کو کرونا وائرس سے بھی بچا لیا جو ایک مشکل کام تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  کیا اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف برطانوی میگزین پر ہتک عزت کا دعویٰ کریں گے؟

انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات ہے جو اپوزشین مجھ پر مکمل لاک ڈاون نہ کرنے پر تنقید کررہی تھی اور بھارت کی مثال دیتی تھی کہ نریندر مودی نے بھارت میں کس طرح لاک ڈاون کیا، وہی آج جلسے، جلوس کرتے پھرتے ہیں جبکہ کرونا کے کیسز بڑھ رہے ہیں۔ اگر ہم نے صحیح معنوں میں احتیاط نہیں کی تو یہ سردیاں ہمارے لیے بہت مشکل ہوں گی، ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ امریکا میں ہر 4 دنوں میں اتنے لوگ مرتے ہیں جتنے ہمارے یہاں 7 روز میں نہیں مرے یعنی اتنی تیزی سے وہا وبا پھیل رہی ہے، انگلینڈ اور اٹلی میں بھی سخت لاک ڈاون ہے، تاہم اگر ہم ابھی سے احتیاط کریں تو سردی میں ہم اپنے ملک، صنعت اور لوگوں کو بچا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہماری پوری کوشش ہے کاروباری برادری کو مکمل سہولت فراہم کی جائے تاکہ پاکستان میں پھر سے صنعت کاری (انڈسٹریلائزیشن) شروع ہو، 60 کی دہائی میں پاکستان کی صنعتی پیداوار کئی ایشین ٹائیگرز سے زیادہ تھی، تاہم اگر 70 کی دہائی میں کاروبار اور صنعت مخالف پالیسز نہ ہوتیں تو پاکستان کی صنعت کاری کہاں سے کہاں پہنچ جاتی۔ ہماری حکومت کی پالیسی ہے ملک کو صنعت کاری کی طرف لے جانا، کاروباری برادری کو سہولت فراہم کرنا اور کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنا ہے تاکہ سرمایہ کاری بڑھے۔میری حکومت کا سب سے بڑا مقصد ہے کہ لوگوں کو غربت سے نکالا جائے اور پیچھے رہ جانے والے علاقوں پر خاص توجہ دی جائے، گلگت بلتستان، بلوچستان، سابق قبائلی علاقے، پنجاب کے کچھ ضلع پیچھے رہ گئے ہیں۔ ترقی ہمیشہ وسیع پیمانے پر ہوتی ہے، اگر آپ ایک چھوٹے علاقے کو ترقی دیں اور باقی ملک پیچھے رہ جائے تو ملک ترقی نہیں کرسکتا نہ ہی وہ ملک ترقی کرسکتا ہے جہاں چھوٹا سا طبقہ امیر ہوجائے اور باقی ملک غریب ہو۔

یہ بھی پڑھیں:  طالبان وفد نے امن مذاکرات کیلئے پاکستان کی کوششوں کو سراہا :ترجمان دفتر خارجہ

انہوں نے کہا کہ چین نے 30 سے 35 برسوں میں 70 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا ہے اور اب ان علاقوں میں مدد کر رہے جو علاقے پیچھے رہ گئے ہیں، سی پیک کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ مغربی چین جو پیچھے رہ گیا ہے اس کی تجارت سمندر سے جوڑنا چاہتے ہیں، تاہم اب ہم نے بھی پوری کوشش کرنے ہے کہ اپنے ان علاقوں کو اوپر اٹھائیں جو پیچھے رہ گئے ہیں۔ اس سب کے لیے دولت پیدا کرنے کی ضرورت ہے، جب تک ہمارے ملک کی دولت نہیں بڑھے گی ہم ملک کے لوگوں کو غربت سے نہیں نکال سکتے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے بھی چین کا ماڈل اپنانا چاہتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ سیالکوٹ کی صنعت کی پوری مدد کریں کیونکہ جتنی آپ صنعت کاری کریں گے اور برآمدات بڑھائیں گے اس سے پاکستان کا فائدہ ہوگا۔ پاکستان کی 70 سالہ تاریخ میں مسلسل یہ مسئلہ آتا ہے کہ جیسے ہی ہماری ترقی شروع ہوتی ہے ہمارا کرنٹ اکاونٹ خسارہ بڑھنا شروع ہوجاتا ہے، ہم دنیا کو برآمدات کم کرتے ہیں اور درآمدات زیادہ کرتے ہیں اور روپے پر دباو پڑھنا شروع ہوجاتا ہے اور مہنگائی بڑھتی ہے۔ ملک کی ضرورت ہے کہ ہم سیالکوٹ کی مدد کریں، یہی نہیں بلکہ گجرات، گوجرانوالہ، وزیرآباد، کراچی، فیصل آباد برآمدات کے لیے سب سے بہترین علاقہ ہے اور اگر ہم ان کی مدد کریں گے تو ملک کا فائدہ ہوگا۔چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار سے متعلق بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ کاروبار سب سے زیادہ روزگار فراہم کرتی ہیں، ہماری سب سے زیادہ نوجوان آبادی ہے جن کے لیے ہم نے نوکریاں پیدا کرنی ہے جو صنعتوں سے ہوتی ہیں۔ہماری پوری کوشش ہے کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کو جو جو مشکلات ہیں اسے وزیراعظم ہاوس، وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر دور کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  سوشل میڈیا کو ملک کے معاملات کو سمجھنا ہو گا تاکہ وہ لوگوں کو بہتر طریقے سے سمجھا سکیں:وزیراعظم

انہوں نے یقین دہانی کروائی کہ ہم پوری طرح اپنی صنعتوں کی مدد کریں گے اور کاروباری برادری کی ہر طرح کی مدد دیں گے اور مجھ سے ملاقات میں آپ کے وہ تمام مسائل جو ایف بی آر، اسٹیٹ بینک اور یوٹیلیز سے ہیں انہیں حل کریں گے۔ہم جو بلدیاتی نظام لارہے ہیں اس میں جو شہری حکومت بنے گی وہ براہ راست منتخب ہوگی اور پوری شہری حکومت ایک ہی جگہ ہوگی جبکہ اور اس میں آپ کو سیالکوٹ کو جدید شہر بنانے میں مدد ملے گی۔