zafarullah khan jamali

آہ!سابق وزیراعظم میر ظفر اللہ خان جمالی بھی نہ رہے

EjazNews

مسلم لیگ (ق) کی جانب سے وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے والے میر ظفراللہ خان جمالی 23 نومبر 2002 سے 26 جون 2004 تک ملک کے وزیر اعظم رہے۔ 2004 میں جنرل (ر) پرویز مشرف نے ان سے استعفیٰ طلب کیا اور ان کی جگہ شوکت عزیز کو وزیر اعظم منتخب کیا۔میر ظفر اللہ خان جمالی نے 2013 کے عام انتخابات بطور آزاد امیدوار کامیابی حاصل کی لیکن بعد میں مسلم لیگ (ن) میں شامل ہوگئے تھے۔

مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے اکتوبر 2017 میں میر ظفراللہ جمالی کو شوکاز نوٹس جاری کیا تھا جب انہوں نے سپریم کورٹ میں پاناما پیپرز کیس میں نااہلی کے باوجود نواز شریف کو پارٹی صدر کا منصب سنبھالنے کے بل پر پارٹی کی پالیسی سے اختلاف کیا تھا۔انہوں نے نے صحت کے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے اسمبلی کی مدت پوری ہونے سے صرف ایک دن قبل قومی اسمبلی سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستانی ٹیم نے 476رنز کا ہدف سری لنکا کو دیا ہے

میر ظفراللہ خان جمالی کو چند روز قبل دل کے دورہ پڑنے کے باعث راولپنڈی کے آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی (اے ایف آئی سی) میں داخل کیا گیا تھا، جہاں انہیں وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا۔

سابق وزیر اعظم اے ایف آئی سی کے سی سی یو بیڈ 19 پر زیر علاج تھے۔
وزیر اعظم عمران خان نے سابق وزیرا عظم میر ظفر اللہ خان جمالی کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔