sindh-govt

سندھ حکومت نے ہجوم کو کم رکھنے کیلئے متعدد پابندیاں عائد کردیں

EjazNews

پورے ملک میں مجموعی کیسز 3 لاکھ 79 ہزار 883 ہوگئے جبکہ 48 افراد کے انتقال کر جانے کے بعد اموات کی تعداد 7 ہزار 744 ہوگئی۔انہی معاملات کو پیش نظر رکھتے ہوئے حکومت سندھ نے عوامی مقامات پر لوگوں کے ہجوم کو کم رکھنے کے لیے دوبارہ متعدد پابندیاں عائد کردی ہیں جو کہ درج ذیل ہیں:

تمام سرکاری یا نجی دفاتر اور عوامی مقامات پر ماسک پہننے پر سختی سے عمل کروایا جائے گا، ماسک نہ پہننے کی صورت میں جرمانہ کیا جائے گا۔
شادی کی اِن ڈور تقریبات پر پابندی ہوگی، شادی کی آوٹ ڈور تقریب میں زیادہ سے زیادہ 200 افراد کو شرکت کرنے کی اجات ہوگی جورات 9 بجے تک جاری رہ سکتی ہے جبکہ تقریب کے دوران بوفے سروس کی اجازت نہیں ہوگی اور کھانا ڈبوں میں دینا ہوگا۔
تمام سرکاری ونجی دفاتر میں نصف عملے کے گھروں سے کام کرنے کی پالیسی پر عمل کیا جائے۔
وائرس کے ہاٹ اسپاٹ علاقوں میں نسبتاً وسیع اسمارٹ لاک ڈاون لگائے جائیں گے جس کے لیے متعلقہ ڈپٹی کمشنرز احکامات دیں گے۔
تمام اجتماعات کے انِ ڈور مقامات، کاروباری مراکز میں انِڈور جمز، کھیلوں کی اِنڈور سہولیات، سینما اور تھیٹر کے علاوہ مزارات بند کردیے جائیں۔
ضروری خدمات کے علاوہ تمام کاروباری مراکز جمعہ اور اتوار کو بند رکھے جائیں۔
کاروبار/مارکیٹوں کے اوقات کار صبح 6 بجے سے رات 6 بجے ہوں گے جبکہ ویک اینڈز پر بند رہیں گے۔
ریسٹورنٹس کو رات 10 بجے تک صرف آوٹ ڈور بٹھا کر کھلانے، کھانا خرید کر لے جانے یا گھروں پر منگوانے کی اجازت ہوگی۔
مذکورہ احکامات23 نومبر کو جاری کیے گئے جو فوری طور پر نافذ العمل ہوں گے اور ان کا نفاذ 31 جنوری 2021 تک جاری رہے گا جن پر عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
خیال رہے کہ وائرس کے پھیلاو میں اضافے کے باعث 21 نومبر کو کراچی کے 4 علاقوں میں 14 روز کے لیے اسمارٹ لاک ڈاون نافذ کیا گیا تھا۔
گزشتہ روز سندھ بھر میں ایک ہزار 322 افراد کے وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی جبکہ 16 مریض انتقال کر گئے۔
24 نومبر کی صبح تک سندھ بھر میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک لاکھ 64 ہزار 651 ہے جن میں ایک لاکھ 46 ہزار 366 صحتیاب ہونے میں کامیاب رہے جبکہ 2 ہزار 845 لقمہ اجل بن گئے۔

یہ بھی پڑھیں:  چاہتا ہوں جیسا آزاد کشمیر میں امن و امان ہے مقبوضہ کشمیر میں بھی ہوں:باکسر عامر خان