Pakistani_school

26جنوری سے24دسمبرتک چھٹیاں ،25دسمبر سے 10جنوری تک چھٹیاں

EjazNews

اسلام آباد میں معاون خصوصی صحت ڈاکٹر فیصل سلطان اور وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے پریس کانفرنس کی، جس میں فیصل سلطان نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں کرونا کے مثبت کیسز کی شرح 7 فیصد سے زائد دیکھی گئی۔

اس موقع پر وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ آج ہونے والے بین الصوبائی وزرائے تعلیم کے اجلاس میں فیصلے کیے گئے کہ 26 نومبر سے ملک کے تمام تعلیمی ادارے سکولز، کالجز، یونیورسٹیز، ٹیوشن سینٹرز بند کردئیے جائیں گے، تعلیمی اداروں میں طلبہ نہیں آئیں گے اور وہ گھروں سے تعلیم جاری رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ جہاں تعلیمی سلسلہ آن لائن ہے وہاں آن لائن جبکہ جہاں یہ سہولت نہیں ہے وہاں اساتذہ ہوم ورک فراہم کریں گے اور اس سلسلے میں صوبائی حکومتیں فیصلہ کریں گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ تمام حکومتوں کی جانب سے یہ کوشش کی جائے گی کہ گھروں میں تعلیم کا سلسلہ جاری رہے لیکن طلبہ کی سکولز، کالجز اور یونیورسٹیز کے اندر کوئی کلاسز نہیں ہوں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ 26 نومبر سے 24 دسمبر تک گھروں سے پڑھائی کا سلسلہ جاری رہے گا جبکہ 25 دسمبر سے 10 جنوری تک موسم سرما کی تعطیلات ہوں گی اور اس دوران تمام تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  جب خواتین کو فنانشل سسٹم میں لے کر آتے ہیں تو غربت کم ہوتی ہے:وزیراعظم

وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ 11 جنوری کو حالات کی بہتری پر تمام تعلیمی ادارے دوبارہ کھول دئیے جائیں گے تاہم جنوری کے پہلے ہفتے میں ایک جائزہ اجلاس ہوگا۔

امتحانات سے متعلق ان کا کہنا تھا دسمبر کے دوران ہونے والے امتحانات کو ملتوی کردیا گیا اور اب یہ 15 جنوری اور اس کے بعد ہوں گے، تاہم اس میں کچھ ایسے امتحانات ہیں جو جاری رہیں گے۔

اس حوالے سے معاون خصوصی ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ کچھ انٹرنس امتحانات جیسے ایم ڈی کیٹ وغیرہ جو انٹری کے لیے ہیں وہ معمول کے مطابق جاری رہیں گے کیونکہ ان کا ایس او پیز اور ماسک کے ساتھ انتظام کرنا ممکن ہے اور اسے احتیاط کے ساتھ منعقد کیا جاسکتا ہے۔ اساتذہ یا کسی اور بھرتیوں کے سلسلے میں ہونے والے امتحانات جاری رہیں گے لیکن طلبہ کے دسمبر میں ہونے والے امتحانات کو جنوری کے وسط تک ملتوی کردیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  روسی وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان،کس سے کیا بات ہوئی؟

وفاقی وزیر تعلیم نے بتایا کہ ہائر ایجوکیشن یونیورسٹیز فوری طور پر آن لائن تعلیم شروع کردیں گی جبکہ جامعات کے ہاسٹلز میں طلبہ کا ایک تہائی حصہ رہے گا، جس میں وہ طلبہ ہوں گے جو بیرون ملک سے آئے ہوئے یا جہاں انٹرنیٹ کی سہولیات میسر نہیں ہیں۔

اس کے علاوہ ان کا کہنا تھا کہ پی ایچ ڈی طلبہ یا جنہیں لیب کا کام کرنا ہے تو انہیں یونیورسٹی بلانے سے متعلق جامعہ خود فیصلہ کریں گی۔ ہنرمند ادارے جہاں ریگولر کلاسز کا طریقہ کار موجود نہیں ہے وہاں تعلیمی سلسلہ جاری رہے گا۔

شفقت محمود نے کہا کہ جب تک گھروں سے پڑھائی کا سلسلہ جاری رہے گا تب تک سکولز اساتذہ کو ضرورت کے مطابق بلانے کا فیصلہ کریں گے تاہم طلبہ کا وہاں داخلہ منع ہوگا۔

اجلاس میں کیے گئے مزید فیصلوں سے متعلق انہوں نے بتایا کہ ہماری سفارش ہے کہ مارچ اور اپریل میں ہونے والے بورڈ امتحانات کو مئی اور جون میں لے جایا جائے تاکہ طلبہ کو اپنا کورس ورک مکمل کرنے کا وقت مل جائے، اس کے علاوہ سرکاری سکولوں میں تعلیمی سال کا آغاز اپریل کے بجائے اگست میں کیا جائے، اس سلسلے میں گرمیوں یا مارچ کی چھٹیاں کم کردی جائیں۔

یہ بھی پڑھیں:  دہشت گرد تنظیم داعش کو بھارت کی مکمل اور بھرپور مدد اور حمایت حاصل ہے :وزیراعظم

انہوں نے کہا کچ تمام معاملات کا جائزہ لیا جاتا رہے گا اور جنوری کے وسط میں تعلیم کا سلسلہ باقاعدہ طور پر دوبارہ شروع ہوجائے گا۔

26 نومبر سے 24 دسمبر تک تمام تعلیمی ادارے بند ہوں گے۔
اس ایک ماہ کے عرصے میں گھروں سے تعلیم کا سلسلہ جاری رہے گا۔
اساتذہ کو سکولز بلانے کی اجازت ہوگی۔
آن لائن کی سہولت جہاں موجود نہیں وہاں اساتذہ ہوم ورک فراہم کریں گے۔
25 دسمبر سے 10 جنوری تک موسم سرما کی تعطیلات ہوں گی۔
11 جنوری سے تعلیمی ادارے دوبارہ کھولنے سے قبل ایک جائزہ اجلاس ہوگا۔
جامعات کے ہاسٹلز میں ایک تہائی طلبہ رہ سکیں گے۔
دسمبر میں ہونے والے امتحانات کو وسط جنوری تک ملتوی ہوں گے۔
پی ایچ ڈی طلبہ کو جامعات بلاسکیں گی۔