Islam_Allaha_ki_raraf_lotkar_jana_ha

اللہ تعالیٰ کی طرف ہی لوٹنا ہے

EjazNews

(سورۃ القصص۲۸)
۷۰۔ وہی اللہ ہے ا س کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں، دنیا اور آخرت میں اسی کی تعریف ہے۔ اسی کے لیے فرمانروائی ہے اور اسی کی طرف تم سب پھیرے جائو گے۔
۸۸۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہ پکارنا بجز اللہ تعالیٰ کے کوئی اور معبود نہیں، ہر چیز فنا ہونے والی ہے مگر اسی کا منہ۔ (اورذات) اسی کے لیے فرمانروائی ہے اور تم اسی کی طرف لوٹائے جائو گے۔

(سورۃ العنکبوت ۲۹)
۸۔ ہم نے ہر انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی نصیحت کی ہے۔ ہاں اگر وہ یہ کوشش کریں کہ آپ میرے ساتھ اسے شریک کرلیں جس کا آپ کو علم نہیں تو ان کا کہنا نہ مانئیے، تم سب کا لوٹنا میری ہی طرف ہے پھر میں ہر اس چیز سے جو تم کرتے تھے تمیں خبر دوں گا۔
۱۷۔ تم تو اللہ کے سوا بتوں کی پوجا پاٹ کر رہے ہو اور جھوٹی باتیں دل سے گھڑ لیتے ہو۔ سنو! جن جن کی تم اللہ تعالیٰ کے سوا پوجا پاٹ کر رہے ہو وہ تو تمہاری روز ی کے مالک نہیں پس تمہیں چاہیے کہ تم اللہ تعالیٰ ہی سے روزیاں طلب کرو اور اسی کی عبادت کرو اور اسی کی شکر گزاری کرو اور اسی کی طرف تم لوٹائے جائو گے۔
۲۱۔ جسے چاہے عذاب کرے جس پر چاہے رحم ، سب اسی کی طرف لوٹائے جائو گے۔
۵۷۔ ہر جاندار موت کا مزہ چکھنے والا ہے اور تم سب ہماری ہی طرف لوٹائے جائو گے۔

(سورۃ الروم ۳۰)
۱۱۔ اللہ تعالیٰ ہی مخلوق کی ابتدا کرتا ہے پھر وہی اسے دوبارہ پیدا کرے گا پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جائو گے۔

(سورۃ لقمان۳۱)
۱۴۔ ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے متعلق نصیحت کی ہے، اس کی ماں نے دکھ پر دکھ اٹھا کر اسے حمل میں رکھا اور اس کی دودھ چھڑائی دو برس میں ہے کہ تو میری اور اپنے ماں باپ کی شکر گزاری کر، (تم سب کو) میری ہی طرف ہی لوٹ کرآنا ہے۔
۱۵۔ اور اگر وہ دونوں تجھ پر اس بات کا دبائو ڈالیں کہ تو میرے ساتھ شریک کرے جس کا تجھے علم نہ ہو تو تو ان کا کہنا نہ ماننا، ہاں دنیا میں ان کے ساتھ اچھی طرح بسر کرنا اور اس کی راہ چلنا جو میری طرف جھکا ہوا ہو تمہارا سب کا لوٹنا میری طرف ہے تم جو کچھ کرتے ہو اس سے پھر میں تمہیں خبردار کر دوں گا۔
۲۳۔ کافروں کے کفر سے آپ رنجیدہ نہ ہوں، آخر ان سب کا لوٹنا تو ہماری جانب ہی ہے پھر ہم ان کو بتائیں گے جو انہوں نے کیا ہے، بے شک اللہ تعالیٰ سینوں کے بھیدوں تک واقف ہے۔

(سورۃ السجدۃ ۳۲)
۱۱۔ کہہ دیجئے ! کہ تمہیں موت کا فرشتہ فوت کرے گا جو تم پر مقرر کیا گیا ہے پھر تم سب اپنے پروردگار کی طرف لوٹائے جائو گے۔

(سورۃ فاطر۳۵)
۴۔ اور اگر یہ آپ کو جھٹلائیں تو آپ سے پہلے کے تمام رسول بھی جھٹلائے جا چکے ہیں۔ تمام کام اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں۔
۱۸۔ کوئی بھی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ اگر کوئی گراں بار دوسرے کو اپنا بوجھ اٹھانے کے لیے بلائے گا تو وہ اس میں سے کچھ بھی نہ اٹھائے گا گو قرابت دار ہی ہو۔ تو صرف انہی کو آگاہ کر سکتا ہے جو غائبانہ طور پر اپنے رب سے ڈرتے ہیں اورنمازوں کی پابندی کرتے ہیں اور جو بھی پاک ہو جائے وہ اپنے ہی نفع کے لیے پاک ہوگا۔ لوٹنا اللہ تعالیٰ ہی کی طرف ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  زہد و قناعت

(سورۃ یٰسین ۳۶)
۲۲۔ اور مجھے کیا ہو گیا ہے کہ میں اس کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا اور تم سب اسی کی طرف لوٹائے جائو گے۔

(سورۃ یٰسین۳۶)
۲۲۔ اور مجھے کیا ہو گیا ہے کہ میں اس کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا اور تم سب اسی کی طرف لوٹائے جائو گے۔
۸۳۔ پس پاک ہے وہ اللہ تعالیٰ جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی بادشاہت ہے اور جس کی طرف تم سب لوٹائے جائوگے۔

(سورۃ الزمر ۳۹)
۷۔ اگر تم ناشکری کرو تو (یاد رکھو کہ) اللہ تعالیٰ تم (سب سے)بے نیاز ہے، اور وہ اپنے بندوں کی ناشکری سے خوش نہیں اور اگر تم شکر کرو تو وہ اسے تمہارے لیے پسند کرے گا اور کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھاتا پھر تم سب کا لوٹنا تمہارے رب ہی کی طرف ہے۔ تمہیں وہ بتلا دے گا جو تم کرتے تھے۔ یقیناً وہ دلوں تک کی باتوں کا واقف ہے۔
۴۴۔ فرما دیجئے ! کہ تمام سفارش کا مختار اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ تمام آسمانوں اورزمین کا راج اسی کے لیے ہے تم سب اسی کی طرف پھیرے جائو گے۔

(سورۃ المومن۴۰)
۳۔ گناہ کا بخشنے والا اور توبہ کا قبول فرمانے والا سخت عذاب والا انعام و قدرت والا، جس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی کی طرف واپس لوٹنا ہے۔
۴۳۔ یہ یقینی امر ہے کہ تم مجھے جس کی طرف بلا رہے ہو وہ تو نہ دنیا میں پکارے جانے کے قابل ہے نہ آخرت میں ، اور یہ (بھی یقینی بات ہے) کہ ہم سب کا لوٹنا اللہ تعالیٰ کی طرف ہے اور حد سے گزر جانے والے ہی (یقیناً) اہل دوزخ ہیں۔
۷۷۔ (اے حبیب !) آپ (ان کی نازیبا حرکتوں پر) صبر فرمائیے، اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے سو ہم خواہ آپ کو دکھائیں اس عذاب کا کچھ حصہ جس کا ان سے ہم نے وعدہ کیا ہے یا (اس سے پہلے ہی) آپ کو دنیا سے اٹھا لیں (یہ بچ نہیں سکتے) آخر کار ہمار ی طرف ہی لوٹائے جائینگے۔

(سورۃ حم السجدۃ ۴۱)
۲۱۔ یہ اپنی کھالوں سے کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف شہادت کیوں دی، وہ جواب دیں گی کہ ہمیں اس اللہ تعالیٰ نے قوت گویائی عطا فرمائی جس نے ہر چیز کو بولنے کی قوت بخشی ہے، اس نے تمہیں اول مرتبہ پیدا کیا اور اس کی طرف تم سب لوٹائے جائو گے۔

(سورۃ الشوریٰ ۴۲)
۱۵۔ پس آپ لوگوں کو اسی طرف بلاتے رہیں اور جو کچھ آپ سے کہا گیا ہے اس پر مضبوطی سے جم جائیں اور ان کی خواہشوں پر نہ چلیں اور فرمادیں کہ اللہ تعالیٰ نے جتنی کتابیں نازل فرمائی ہیں میرا ان پر ایمان ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تم میں انصاف کرتا رہوں ۔ ہمارا اور تم سب کا پروردگار اللہ تعالیٰ ہی ہے ہمارے اعمال ہمارے لیے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لیے ہیں، ہم تم میں کوئی کٹ حجتی نہیں اللہ تعالیٰ ہم (سب) کو جمع کرے گا اور اسی کی طرف لوٹنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  کفر اور ایمان کا معرکہ:غزوۂ بدر

(سورۃ الزخرف ۴۳)
۸۵۔ اور وہ بہت برکتوں والا ہے جس کے پاس آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی بادشاہت ہے، اور قیامت کا علم بھی اسی کے پاس ہے اور اسی کی جانب تم سب لوٹائے جائو گے۔ [جہاں وہ ہر ایک کو اس کے عملوں کے مطابق جزا اور سزا دے گا ۔ (تفسیر از شاہ فہد قرآن)]

(سورۃ الجاثیۃ ۴۵)
۱۵۔ جو نیکی کرے گا وہ اپنے ذاتی بھلے کے لیے اور جو برائی کرے گا اس کا وبال اسی پر ہے، پھرتم سب اپنے پروردگار کی طرف لوٹائے جائو گے۔

(سورۃ النجم ۵۳)
۴۲۔ اور یہ کہ آپ کے رب ہی کی طرف پہنچنا ہے۔ [ہر چیز کو روز محشر اپنے رب کی بارگاہ میں پیش ہونا ہے ۔ کوئی شخص کہیں چھپ نہیں سکے گا اور کوئی شخص کہیں بھاگ کر روپوش نہیں ہو جائے گا۔ نبی کریمﷺ ایک روز ایک ایسی قوم کے پاس سے گزرے جو ذات الٰہی میں غورو فکر کر رہے تھے تو حضور نے انہیں ارشاد فرمایا مخلوق میں تو بے شک غورو فکر کیا کرو، لیکن ذات خالق کو اپنی سوچ کا موضوع مت بنائو کیونکہ یہ چیز تمہاری طاقت اور قدرت سے ماورا ہے۔ حضرت ابوذرؓ سے بھی اسی سے ملتی جلتی حدیث منقول ہے: حضور ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کی مخلوق میں تو غورو فکر کیا کرو ، لیکن اس کی ذات میں فکر نہ کیا کرو، ورنہ ہلاک ہو جائو گے۔ (تفسیر از ضیاء القرآن)]

(سورۃ الجمعۃ ۶۲)
۸۔ کہہ دیجئے !کہ جس موت سے تم بھاگتے پھرتے ہو وہ تو تمہیں پہنچ کر رہے گی پھر تم سب چھپے کھلے کے جاننے والے (اللہ) کی طرف لوٹائے جائو گے اور وہ تمہیں تمہارے کیے ہوئے تمام کام بتا دے گا۔

(سورۃ التغابن ۶۴)
۳۔ اسی نے آسمانوں کو اورزمین کو عدل و حکمت سے پیدا کیا، اسی نے تمہاری صورتیں بنائیں اور بہت اچھی بنائیں اور اس کی طرف لوٹنا ہے۔[ان دو باتوں سے جو بیان کی گئی ہیں بالکل ایک منطقی نتیجہ کے طور پر وہ تیسری بات خود بخود نکلتی ہے جو آیت کے تیسرے فقرے میں ارشاد ہوئی ہے کہ ’’اسی کی طرف آخر کار تمہیں پلٹنا ہے۔ ’’ظاہر بات ہے کہ جب ایسے ایک حکیمانہ اور بامقصد نظام کائنات میں ایسی ایک بااختیار مخلوق پیدا کی گئی ہے تو حکمت کا تقاضا ہرگز یہ نہیں ہے کہ اسے یہا ں شتر بے مہار کی طرح غیر ذمہ دار بنا کر چھوڑ دیا جائے ، بلکہ لازماً اس کا تقاضا یہ ہے کہ یہ مخلوق اس ہستی کے سامنے جوا بدہ ہو جس نے اسے ان اختیارات کے ساتھ اپنی کائنات میں یہ مقام و مرتبہ عطا کیا ہے۔ ’’پلٹنے‘‘ سے مراد اس آیت میں محض پلٹنا نہیں ہے بلکہ جواب دہی کے لیے پلٹنا ہے، اور بعد کی آیات میں صراحت کر دی گئی ہے کہ یہ واپسی اس زندگی میں نہیں بلکہ مرنے کے بعد دوسری زندگی میں ہوگی اور اس کا اصل وقت وہ ہوگا جب پوری نوع انسانی کو از سر نو زندہ کر کے بیک وقت محاسبہ کے لیے اکٹھا کیا جائے گا اور اس محاسبے کے نتیجے میں جزا و سزا اس بنیاد پر ہو گی کہ آدمی نے خدا کے دئیے ہوئے اختیارات کو صحیح طریقے سے استعمال کیا یا غلط طریقے سے ۔ رہا یہ سوال کہ یہ جواب دہی دنیا کی موجودہ زندگی میں کیوں نہیں ہو سکتی ؟ اور اس کا صحیح وقت مرنے کے بعد دوسری زندگی ہی کیوں ہے؟اور یہ کیوں ضروری ہے کہ یہ جواب دہی اس وقت ہو جب پوری نوع انسانی اس دنیا میں ختم ہو جائے اور تمام اولین و آخرین کو بیک وقت دوبارہ زندہ کر کے اکٹھا کیا جائے؟آدمی ذرا بھی عقل سے کام لے تو وہ سمجھ سکتا ہے کہ یہ سب کچھ بھی سراسر معقول ہے اور حکمت و دانش کا تقاضا یہ ہے کہ محاسبہ دوسری زندگی ہی میں ہواور سب انسانوں کا ایک ساتھ ہو۔ اس کی پہلی وجہ یہ ہے کہ انسان اپنے پوری کارنامہ حیات کیلئے جوابدہ ہے ۔ اس لیے اس کی جواب دہی کا صحیح وقت لازماً وہی ہونا چاہئے جب اس کا کارنامہ حیات مکمل ہو چکا ہو اور دوسری وجہ اس کی یہ ہے کہ انسان ان تمام اثرات و نتائج کے لیے ذمہ دار ہے جو اس کے افعال سے دوسروں کی زندگی پر مرتب ہوئے ہوں، اور وہ اثرات و نتائج اس کے مرنے کے ساتھ ختم نہیں ہو جاتے بلکہ اس کے بعد مد تہائے دراز تک چلتے رہتے ہیں ۔ لہٰذاصحیح محاسبہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب پوری نوع انسانی کا کارنامہ حیات ختم ہو جائے اور تمام اولین و آخرین بیک وقت جواب دہی کے لیے جمع کیے جائیں۔ (از تفسیر نمبر ۷تفہیم القرآن) ]

یہ بھی پڑھیں:  بد عورتوں کا بیان

(سورۃ الملک ۶۷)
۱۵۔ وہ ذات جس نے تمہارے لیے زمین کو پست و مطیع کر دیا تاکہ تم اس کی راہوں میں چلتے پھرتے رہو اور اللہ کی روزیاں کھائو (پیو) اسی کی طرف( تمہیں )جی کر اٹھ کھڑا ہونا ہے ۔ [یاد رکھو یہ دنیا اور اس کا مال و متاع سب فانی ہے۔ ایک روز آئے گا اور یقیناً آئے گا جب تم اللہ تعالیٰ کے حضور میں پیش کیے جائو گے اور تم سے حساب لیا جائے گا۔ کیا تم نے اس روز کے لئے کچھ تیاری کرلی ہے۔ (از تفسیر ۲۰ ضیاء القرآن)]

اللہ تعالیٰ کی ناراضی

(سورۃ فاطر ۳۵)
۳۹۔ وہی ایسا ہے جس نے تم کو زمین میں آباد کیا، سو جو شخص کفر کرے گا اس کے کفرکا وبال اسی پر پڑے گا اور کافروں کے لیے ان کا کفر ان کے پروردگار کے نزدیک ناراضی ہی بڑھنے کا باعث ہوتا ہے اور کافروں کے لیے ان کا کفر ان کے پروردگار کے نزدیک ناراضی ہی بڑھنے کا باعث ہو تا ہے اور کافروں کے لیے ان کا کفر خسارہ ہی بڑھنے کا باعث ہوتا ہے۔

(سورۃ المومن ۴۰)
۳۵۔ جو بغیر کسی سند کے جو ان کے پاس آئی ہو اللہ تعالیٰ کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں، اللہ تعالیٰ کے نزدیک اور مومنوں کے نزدیک یہ تو بہت بڑی ناراضی کی چیز ہے، اللہ تعالیٰ اسی طرح ہر ایک مغرور سرکش کے دل پر مہر کر دیتا ہے۔