islam_quran_Allha ki sunat

اللہ تعالیٰ کی سنت(دستور)

EjazNews

(سورۃ البقرۃ ۲)
۲۵۱۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہوں نے جالوتیوں کو شکست دے دی اور (حضرت) دائود(علیہ السلام) کے ہاتھوں جالوت قتل ہوا اور اللہ تعالیٰ نے دائود(علیہ السلام) کو مملکت و حکمت اور جتنا کچھ چاہا علم بھی عطافرمایا۔ اگر اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو بعض سے دفع نہ کر تا تو دنیا میں فساد پھیل جاتا ، لیکن اللہ تعالیٰ دنیا والوں پر فضل و کرم کرنے والا ہے۔ [اس میں اللہ تعالیٰ کی ایک سنت الٰہی کا بیان ہے کہ و ہ انسانوں کے ہی ایک گروہ کے ذریعے سے، دوسرے انسانی گروہ کے ظلم و اقتدار کا خاتمہ فرماتا ہے ۔ اگر وہ ایسا نہ کرتا اور کسی ایک ہی گروہ کو ہمیشہ قوت و اختیار سے بہرہ ور کیے رکھتا تو یہ زمین ظلم و فسادسے بھر جاتی۔ اس لیے یہ قانون الٰہی اہل دنیا کیلئے فضل الٰہی کا خاص مظہر ہے۔ اس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورۃ حج کی آیت ۳۸ اور۴۰ میں بھی فرمایا ہے۔ (تفسیر از شاہ فہد قرآن)]

(سورۃ بنی اسرائیل ۱۷)
۱۵۔ جو راہ راست حا صل کر لے وہ خود اپنے ہی بھلے کیلئے راہ یافتہ ہوتا ہے اور جو بھٹک جائے اس کا بوجھ اسی کے اوپر ہے، کوئی بوجھ والا کسی اور کا بوجھ اپنے اوپر نہیں لادے گا اور ہماری سنت نہیں کہ رسول بھیجنے سے پہلے ہی عذاب کرنے لگیں۔

یہ بھی پڑھیں:  شجرکاری :اسلامی تعلیمات کی روشنی میں

(سورۃ الحج ۲۲)
۳۸۔ سن رکھو! یقیناً مومنوں کے دشمنوں کو خود اللہ تعالیٰ ہٹا دیتا ہے۔ کوئی خیانت کرنے والا ناشکرا اللہ تعالیٰ کو ہرگز پسند نہیں۔ [جس طرح ۶ہجری میں کافروں نے اپنے غلبے کی وجہ سے مسلمانوں کو مکہ جا کر عمرہ نہیں کرنے دیا، اللہ تعالیٰ نے دو سال کے بعد ہی کافروں کے اس غلبے کو ختم فرما کر مسلمانوں سے ان کے دشمن کو ہٹا دیا اور مسلمانوں کو ان پر غالب کر دیا۔(تفسیر از شاہ فہد قرآن)]
۳۹۔ جن (مسلمانوں) سے(کافر) جنگ کر رہے ہیں انہیں بھی مقابلے کی اجازت دی جاتی ہے کیونکہ وہ مظلوم ہیں۔ بیشک ان کی مدد پر قادر ہے۔
۴۰۔ یہ وہ ہیں جنہیں نا حق اپنے گھروں سے نکالا گیا ، صرف ان کے اس قول پر کہ ہمارا پروردگار فقط اللہ ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو آپس میں ایک دوسرے سے نہ ہٹاتا رہتا تو عبادت خانے اور گرجے اور مسجدیں اور یہودیوں کے معبد اوروہ مسجدیں بھی ڈھا دی جاتی جہاں اللہ کانام بکثرت لیا جاتا ہے۔ جو اللہ کی مدد کرے گا اللہ بھی ضرور اس کی مدد کرے گا۔ بیشک اللہ تعالیٰ بڑی قوتوں والا غلبے والا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ناجائز تجارت کا بیان

(سورۃ الاحزاب۳۳)
۶۲۔ان سے اگلوں میں بھی اللہ تعالیٰ کا یہی دستور جاری رہا اور تو اللہ تعالیٰ کے دستور میں ہرگز ردو بدل نہ پائے گا۔[یہ اللہ تعالیٰ کا دستور ہے کہ جو لوگ اس کے رسول کے ساتھ منافقانہ رویہ اختیار کرتے ہیں اور مار آستین بن کر مسلمانوں کو اذیت پہنچاتےرہتے ہیں ان کے ساتھ ایسا ہی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ (تفسیر از ضیاء القرآن)]
[یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی شریعت کا ایک مستقل ضابطہ ہے کہ ایک اسلامی معاشرے اور ریاست میں اس طرح کے مفسدین کو کبھی پھلنے پھولنے کا موقع نہیں دیا جاتا جب بھی کسی معاشرے اور ریاست کا نظام خدائی شریعت پر قائم ہوگا اس میں ایسے لوگوں کو پہلے متنبہ کر دیا جائے گا تاکہ وہ اپنی روش بدل دیں اور پھر بھی وہ باز نہ آئیں گے تو سختی کے ساتھ ان کا استیصال کر ڈالا جائے گا ۔ (تفسیر از تفہیم القرآن)]

(سورۃ فاطر ۳۵)
۴۲۔ اور ان کفار نے بڑی زور دار قسم کھائی تھی کہ اگر ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آئے تو وہ ہر ایک امت سے زیادہ ہدایت قبول کرنے والے ہوں۔ پھر جب ان کے پاس ایک پیغمبر آ پہنچے تو بس ان کی نفرت ہی میں اضافہ ہوا۔
۴۳۔ دنیا میں اپنے کوبڑا سمجھنےکی وجہ سے ، اور ان کی بری تدبیروں کی وجہ سے اور بری تدبیروں کا وبال ان تدبیروالوں ہی پر پڑتا ہے، سو کیا یہ اسی دستور کے منتظر ہیں جو اگلے لوگوں کے ساتھ ہوتا رہا ہے۔ سو آپ اللہ تعالیٰ کے دستور کو کبھی منتقل ہوتا ہوا نہ پائیں گے۔
۴۴۔ اور کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں جس میں دیکھتے بھالتے کہ جو لوگ ان سے پہلے ہو گزرے ہیں ان کا انجام کیا ہوا؟ حالانکہ وہ قوت میں ان سے بڑھے ہوئے تھے اور اللہ تعالیٰ ایسا نہیں ہے کہ کوئی چیز اس کو ہرا دے نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں۔ وہ بڑے علم والا، بڑی قدرت والا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  اللہ تعالیٰ کو بھول جانا

(سورۃ الفتح ۴۸)
۲۳۔ اللہ تعالیٰ کے اس قاعدے کے مطابق جو پہلے سے چلاآیا ہے، تو کبھی بھی اللہ تعالیٰ کے قاعدے کو بدلتا ہوا نہ پائے گا۔ [یعنی اللہ کی یہ سنت اور عادت پہلے سے چلی آرہی ہے کہ جب کفر و ایمان کے درمیان فیصلہ کن معرکہ آرائی کا مرحلہ آتا ہے تو اللہ تعالیٰ اہل ایمان کی مدد فرما کر حق کو سر بلندی عطا کرتا ہے، جیسے اس سنت اللہ کے مطابق بدر میں تمہاری مدد کی گئی۔ (تفسیر از شاہ فہد قرآن)]