India_neelumvalley

اقلیتوں کیخلاف ریاستی امتیاز کا مرتکب بھارت ہے

EjazNews

انڈیا دنیا کا شاید وہ واحد ملک ہو گا اس ماڈرن ورلڈ میں جہاں باقاعدہ ریاستی سطح پر اقلیتوں کیخلاف کام کیا جارہا ہے۔ ریاستی ادارے باقاعدہ طور پر اقلیتوں کو دبانے کیلئے طرح طرح کے قوانین پاس کر رہے ہیں جس کا عملی مظاہرہ گزشتہ کچھ عرصے میں ہم دیکھ بھی چکے ہیں۔

انڈیا کی پر تشدد حکومت نے ایسا قانون پاس کیا جس کیخلاف انڈیا کی تمام اقلیتیں ایک دیوار بن کر کھڑی ہو گئیں کیونکہ وہاں پر وہ اپنی ہی اقلیتوں کو کسی طرح سے ختم کرنے کے چکروں میں ہیں۔

آپ اس بات کا بھی اکثر و بیشتر مشاہدہ کرتے ہیں کہ انڈیا کی موجود حکومت اس قدر پر تشدد ہے کہ اس کی شئے پر آئے دن کسی نہ کسی مسلمانوں کو سر عام مارا جاتا ہے اور کوئی پولیس یا کوئی اور ادارے کے اہلکاروں میں اتنی جرأت نہیں ہوتی کہ وہ اس معصوم اور بے گناہ شخص کو بچا سکے کیونکہ مارنے والے کو پتا ہوتا ہے وہ آزاد ی سے جو چاہے کر سکتا ہے اس کا کوئی کچھ نہیں بگا ڑ سکتا۔

دہلی میں ہونے والے فسادات میں سب نے دیکھا کہ کس طرح سے مسلمانوں کو ٹارگٹ بنا کر ان کی دکانیں ، گھر بار لوٹے گئے اور انہیں قتل کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان قائم ہوا

ترجمان وزارت خارجہ نے بھارتی ہم منصب کی جانب سے اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک اور دہشت گردی سے متعلق لگائے گئے الزامات کو جھوٹا اور من گھڑت قرار دیا۔ ‘مقبوضہ کشمیر میں بلاروک ٹوک ریاستی دہشت گردی اور اپنی اقلیتوں کے خلاف مسلسل ریاستی امتیاز کے مرتکب کی حیثیت سے بھارت اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ کہیں اور اقلیتوں کے حقوق کے مسئلے پر رائے دے سکے۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ بھارت کے من گھڑت الزامات لگانے سے جھوٹ، سچ میں تبدیل نہیں ہوجائے گا۔ بھارت کی اس طرح کی مایوس کن کوششیں اس کی اپنی داخلی اور خارجہ پالیسی کے ناکام ہونے سے توجہ ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوسکیں گی، اگر اس طرح کا کچھ بھی ہوتا ہے تو ایک ذمہ دار ملک کی حیثیت سے بھارت کی ساکھ کو مزید نقصان پہنچے گا یا اس کی ساکھ مزید کمزور ہوجائے گی۔

دفتر خارجہ کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت کو دہشت گردی کو ریاستی آلے کے طور پر استعمال کو روکنا چاہیے، اسے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور تشدد کو ختم کرنا چاہیے۔ بھارت کو کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق حل کرنا چاہیے اور اپنے ملک میں اقلیتوں کے تحفظ کو یقینی بنانے سمیت انہیں ان کی مذہبی عبادت گاہوں میں جانے کی آزادی کو یقینی بنانا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:  کیوں کورونا وائرس کو لے کر سنجیدگی دکھائی نہیں دیتی؟

واضح رہے یہ بیان رواں ہفتے کی ابتدا میں پشاور میں ایک ادھیڑ عمر احمدی شخص کے قتل کے واقعہ پر بھارتی بیان کے ردعمل میں سامنے آیا ہے، بھارتی بیان میں کہا گیا تھا ‘یہ واقعہ پاکستان میں اقلیتوں کی افسوسناک حالت کی عکاسی کرتا ہے۔

افسوس اس بات کا ہے کہ ڈھٹائی اور بے شرمی کی بھی کوئی شاید انتہا ہوتی ہو گی کہ اپنے ہاں اقلیتوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں اور دوسروں کو بتایا جارہا ہے کہ آپ کے ہاں اقلیتیں کتنی غیر محفو ظ ہیں حالانکہ پاکستان میں اگر کوئی بھی شخص قانون کو ہاتھ میں لیتا ہے تو وہ قانون کی گرفت میں بھی آتا ہے۔جب کے اس کے برعکس انڈیا میں جتنا بڑا قاتل اور چور ہوتا ہے اتنا ہی بڑا عہدہ ہوتا ہے ۔
نہیں یقین آتا تو سب سے بڑی پوزیش پر بیٹھے شخص کو دیکھ لو ۔ ایک وقت تھا انڈیا کے پرائم منسٹر کو امریکہ نے ویزہ دینے سے صرف اس لیے انکار کر دیا تھا کہ مودی نے منصوبہ بندی کے تحت گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام کروایا تھا۔
سمجھوتہ ٹرین میں آگ لگانے والا شخص رہا ہو کر معزز ترین شخص بنا بیٹھا ہے۔ امت شاہ کو اگر انڈیا کا کنگ میکر کہا جائے تو اس وقت بیجا نہ ہوگا۔ یہ کنگ میکر کتنے ہندو مسلم فسادات کروانے والوں کے گلوں میں ہار پہناتا ہوا پایا گیا ہے۔ اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی ادیتا ناتھ کی تو آج بھی سوشل میڈیا پر ویڈیوز موجود ہیں جس میں وہ مسلمانوں کیخلاف وہ زبان استعمال کرتے پائے جاتے ہیں جو شاید اس سے پہلی کسی یوگی نے سوچی بھی نہ ہوگا۔
ایسے مہا پرش دے رہے ہیں پاکستان کو اقلیتوں کی حفاظت کا درس ۔ حالانکہ پاکستان میں اقلیتیں وہاں سے کروڑہاگنا زیادہ محفوظ ہیں۔ اسلام آباد میں ہندو مظاہرہ کرتے ہیں کہ پاکستان سے جانے والے ایک ہندو خاندان کو زہر دے کر وہاں قتل کیاگیا اس کی تحقیقات کی جائیں۔ وہ آزادی سے اپنی عبادت بھی کرتے ہیں اور خوشی سے رہتے بھی ہیں۔ اگر کہیں پر جرم ہو تا ہے تو مجرم کو سزا بھی ملتی ہے کیونکہ یہ پاکستان ہے انڈیا نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  یونیورسٹیاں روزگار کے ذرائع ہیں یا پھر علم کی روشنی کے مینار