Peak Adam's

دنیا میں پائے جانے والے چند مقدس پہاڑ

EjazNews

آسمانی احکام میں سے بیشتر بلندیوں پراترے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے وعظ کے لئے ایک پہاڑی کو پسند کیا اور ہمارے محبوب سرکاردوعالم حضرت محمد ممصطفی صلی اللہ علیہ وسلم بھی جبل نور کی چوٹی پر پوشیدہ غارحرا کے مقیم ہوئے۔ گئے وقتوں میں لوگ دور دراز کے خطوں تک کے لئے پہاڑوں کا سفر کرتے تھے، جیسے چینی راہب فاہیان نے پاکستان کے قراقرم کے سلسلے کوعبور کیا اورٹیکسلا گیا۔ محمود غزنوی نے کوہ ہندوکش اس لئے عبور کیا کہ ہندوستان تک پہنچ سکے ۔ ہینی بال نے اپنے درجن بھر ساتھیوں کے ہمراہ پیرانیز سلسلہ کوہ کو عبور کر کے روم کوتباہ کردیا۔ دیو ہیکل پہاڑ انسان کے لئے حیرت اور دلچسپی کا باعث رہے ہیں۔ ابتدائی دور کی تہذبوں کا انسان کم علمی کے باعث ان سے خوفزدہ رہتاتھا لیکن آج وہ انہی پہاڑوں کے سینے میں کیلیں ٹھونک کر چوٹیاں سر کررہاہے۔ پچھلے وقتوں میں بھی لوگ ان کی پوجا کیا کرتے ،انہیں مقدس سمھا کرتے تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ اگر وہ ان کا احترام نہیں کریں گوان پردیوتاوں کا قہر نازل ہوسکتا ہے۔ بعض قوموں کا عقیدہ ہے کہ یہ پہاڑدیوتاوں کا مسکن ہیں۔ جہاں وہ قیام کرتے ہیں اور بعض کے نزدیک خاتمہ بالخیراور جنت میں جانے کا راستہ میں سے ہوکر گزرتا ہے۔خوف، اعتماد اور امید کے ملے جلے جذبات کے ساتھ صدیوں سے ان پہاڑوں کو مقدس سمجھا جارہا ہے۔ بعض سیاح ناسمجھی یالا علمی کے باعث ان جگہوں پرنازیبا حرکات کے مرتکب ہو جائیں تو مقامی باشندے قانون بھی اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  پٹریوں کے بغیر دوڑنے والی ٹرین

حضرت آدم علیہ السلام کی چوٹیPeak Adam’s
سری لنکا کے دار الحکومت کو لمبو سے 40 میل جنوب مشرق میں واقع یہ چوٹی7630فٹ بلند ہے۔ پہاڑی چوٹی پر ہموار ہے۔ جس پر 5 فٹ 4 انچ لمبا اور 16 انچ چوڑ انسانی پاوں نقش ثبت ہے۔ ہندومت میں اسے شیوارجی جبکہ مسلمان آدم علیہ السلام کا نقش پا خیال کرتے ہیں۔ یوں تو اس بات کا تاریخی ثبوت ناپید ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام اور بی بی حوا جنت سے نکالے جانے کے بعد جب دنیا میں اتارے گئے تو وہ جگہ سیلون ( سری لنکا) ہی تھی۔ تاہم دونوں مذاہب کے ماننے والے جب بھی سری لنکا جاتے ہیں تو عقیدت اورتجسس کے طور پر اسے دیکھنے کے لئے پہاڑی پر ضرور چڑھتے ہیں۔ حکومت نے سیاحوں کی دلچسپی دیکھتے ہوئے اور سہولت کے پیش نظر پہاڑی کی چوٹی تک زینے بنادئیے ہیں۔ یہاں بھی لوگ دعائیں مانگتے ہیں۔ خالق کائنات کو جس آن اور جس جگہ سے پکارا جائے دعا کی جائے قبول ہوسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  7کروڑ برس قبل انسان زمین پر موجود تھے :سائنس دانوں کا دعویٰ

کوہ کیلاشMount Kailash
یہ پہاڑی سلسلہ تبت میں واقع ہے۔ یہ چار مذاہب عالم یعنی بدھ مت ،جین مت، ہندومت اورلون پو (بدھ مت سے الگ ہونے والا تبتی فرقہ ) کے نزدیک مقدس حیثیت رکھتا ہے۔ ہندوﺅں کی دیومالائی داستانوں کے مطابق کوہ کیلاش بر شو دیوتا کا گھر ہے۔ لوگوں کا عقیدہ ہے کہ اس پہاڑ میں مافوق الفطرت طاقتیں ہیں جن کے ذریعے کوئی بھی شخص اپنی عمربھر کے گناہ دھوسکتا ہے۔ جین مت کے نزدیک اس پہاڑ پران کے روحانی پیشوا کو نروان ملا تھا۔ لون پو فرقے کے نزدیک اس پہاڑ پر ہوا کی دیوی بسیراکرتی ہے۔
کوہ کیلاش کی اونچائی تقریبا6,638 میٹر ہے۔ اس پہاڑ کی مذہبی حیثیت کی وجہ سے اسے آج تک کسی کوہ پیما نے سرنہیں کیا۔

Mount Kailash
کوہ کیلاشMount Kailash

کوہ اولمپس Mount Olympus
یہ اونچی پہاڑی یونان میں واقع ہے اس کی اونچائی 2919 (9570فٹ) ہے۔ یہ یونان کے دوسرے بڑے شہر سالونیکا سے 100 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ یونانی دیو مالا کے مطابق کوہ اولمپس خداﺅں کا گھر ہے۔ جس پر بلخصوص 12 دیوتا یعنی جوپیٹر، زہرہ، اپالو، مارس، ڈائنا ،مینو، مرکری اور دوسرے دیوتا بسیرا کرتے ہیں۔ آج بھی قدامت پرست یونانی اس پہاڑ کو احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  دنیا کی 10 تیز ترین کاریں
Mount Olympus
کوہ اولمپس Mount Olympus

کوہ کویاسانMount Koya_San
اس جاپانی پہاڑ کو شاہی خاندان کے نزدیک مقدس حیثیت حاصل تھی اور آج بھی اس کے دامن میں جاپان کی سب سے مقدس خانقاہ قائم ہے۔ جس کی بنیاد 9 ویں عیسوی میں بدھ بھکشو Kulkai نے رکھی تھی۔ کہتے ہیں کہ ہر بدھ روحانی راہنما ہونے کے ساتھ شاعر، مصور اور انجینئر بھی تھے۔ یہ بدھ اپنے نام کے بجائےKobo Dashi کے نام سے زیادہ معروف ہیں۔ جاپانی ثقافت کے ابتدائی خدوخال واضح کرنے میں اس کا خاص عمل دخل تھا۔ جاپانی بدھوں کا عقیدہ ہے کہ کو بوداشی آج بھی زندہ ہے اور بدھا کے ساتھ مل کر بھٹکے لوگوں کو سیدھی راہ دکھاتا ہے۔ اس لئے اس کے عقیدت مند خواہش کرتے ہیں کہ مرنے کے بعد انہیں اس خانقاہ کے قریب دفنایا جائے۔

Mount Koya_San
کوہ کویاسانMount Koya_San

کوہ فیوجی Mount Fuji
یہ پہاڑ بھی جاپان کا مقدس مقام سمجھا جاتا ہے۔ اس کے دامن میں شنٹومذہب کے ماننے والوں کی بہت سی خانقاہیں ہیں، جن میں پہاڑ کی پوجا کی جاتی ہے۔ لوگوں کا عقیدہ ہے کہ Sengem_Sama نامی دیو کا مسکن ہے جس کے اعزاز میں یہاں ہرسال آگ کا میلہ منعقد کیا جاتا ہے۔ ہر برس 40 ہزارعقیدت مند یہاں زیارت کرنے آتے ہیں پہاڑ پر چڑھ کر منتیں مانتے ہیں۔

Mount Fuji
کوہ فیوجی Mount Fuji