zahid hafeez chaudary

پاکستان بھارت سے مطالبہ کرتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر سے اپنا غیرقانونی قبضہ فوری ختم کرے:ترجمان دفتر خارجہ

EjazNews

ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا کہ بھارت کو جنوبی ایشیا میں پائیدار امن و استحکام کے لیے ہمسایہ ملکوں کے ساتھ مسئلہ کشمیر سمیت تمام معاملات کو پرامن طریقے سے حل کرنا چاہیے۔ بھارتی قیادت کو پاکستانی قوم کے عزم و صلاحیت اور ہماری مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت اور جنگی تیاریوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ پوری قوم بھارت کے کسی بھی مذموم مقاصد کے خلاف متحد ہے۔

گزشتہ ماہ کے آخر میں پاکستان نے گلگت بلتستان میں آئندہ انتخابات سے متعلق بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے غیرضروری اور غیر ذمہ دارانہ بیان کو یکسر مسترد کر دیا۔

ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ نے کہا کہ بھارت کے پاس اس معاملے میں مداخلت کا کوئی قانونی، اخلاقی یا تاریخی جواز نہیں، بھارت کی جانب سے جھوٹے اور من گھڑت دعوے نہ تو حقائق کو تبدیل کرسکتے ہیں اور نہ ہی مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی غیر قانونی کارروائیوں اور انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹا سکتے ہیں۔پاکستان بھارت سے مطالبہ کرتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر سے اپنا غیرقانونی قبضہ فوری ختم کرے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق آزادانہ اور غیرجانبدارانہ استصواب رائے کے ذریعے کشمیریوں کو اپنے حق خود ارادیت کے استعمال کا حق دے۔
بھارت میں سوشل میڈیا میں پاکستان کے بارے میں بدنیتی پر مبنی اور من گھڑت خبروں اور پروپیگنڈا مہم کا بھی نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی ۔ آر ایس ایس حکومت کے اشارے پر پاکستان مخالف بھارتی میڈیا کی ایسی کوششیں مخصوص ذہنیت کی عکاس ہیں۔ بھارت، پاکستان کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا مہم اور فرضی کہانیوں سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور کشمیریوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے سمیت دیگر غیر قانونی اقدامات سے متعلق عالمی توجہ نہیں ہٹا سکتا۔ مقبوضہ کشمیر میں 444 دن سے محاصرہ جاری ہے جبکہ گزشتہ ماہ بھارتی قابض فورسز نے 18 بےگناہ کشمیریوں کو شہید کیا۔

یہ بھی پڑھیں:  میاں شہباز شریف کوجوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا

زاہد حفیظ چوہدری نے کہا کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں غیر انسانی مظالم کو اجاگر کرتا رہے گا۔بھارت میں 80 کروڑ سے زائد افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں، پڑوسی ملک کو اپنے خطرناک اسٹرٹیجک عزائم پر عملدرآمد کے بجائے ملکی سماجی و اقتصادی بہتری پر توجہ دینی چاہیے۔