bilawalbhutto_1

جو وعدہ میں نے 2018کے انتخابات میں کیا تھا وہی آج 2020 میں بھی ہے:بلاول بھٹو زرداری

EjazNews

سکردو میں ورکرز کنوینش سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ میں ایسا سیاستدان نہیں ہوں کہ اپنے وعدے سے مکر جاؤں جو وعدہ میں نے 2018کے انتخابات میں کیا تھا وہی آج 2020 میں بھی ہے اور انتخابات جیتنے کی صورت میں پیپلز پارٹی پہلے روز ان وعدوں کو گلگت بلتستان اسمبلی سے قرارداد کی صورت میں منظور کروا کر قومی اسمبلی، سینیٹ بھجوائے گی۔گلگت بلتستان کو حقوق دلوانا پڑیں، کب تک یہاں کے عوام کو محروم رکھ سکتے ہیں، کب تک عوام کی آواز کو اسلام آباد سے دور رکھا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ جو قیادت یہاں کے عوام کے مسائل سن سکتے تھے وہ بانی پی پی پی ذوالفقار علی بھٹو تھے، پاکستان پیپلز پارٹی وہ واحد جماعت ہے جو روزگار دیتی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے نہ صرف گلگت بلتستان بلکہ پورے ملک میں صنعتیں لگائی روزگار کے مواقع پیدا کیے اور روزگار فراہم کیا اور یہیں اگر نوجوانوں کے مطالبات مکمل نہیں ہوسکے تو انہیں مفت پاسپورٹ دلوا کر دیگر ممالک سے بات چیت کر کے وہاں ان کے لیے روزگار کا بندو بست کروایا۔

یہ بھی پڑھیں:  وزیراعظم نے عرفان صدیقی کی رہائی میں اہم کردار ادا کیا:ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان

ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں بے روزگاری، جامعات اور ہسپتال تعمیر نہ ہونے کی وجہ ہے کہ اسلام آباد میں بیٹھے لوگ ان کے لیے فیصلے کرتے ہیں یکن ان کی بات نہیں سنتے، جو بات نہیں سن سکتے وہ مسائل کیا حل کریں گے۔

چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ پورے پاکستان کے ہر گلی کوچے میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کام کررہی ہیں جو نہ صرف آپ کی صحت کا خیال رکھ رہی ہیں بلکہ کما کر اپنے گھر بھی چلا رہی ہیں لیکن اس ظالم حکومت نے انہیں بھی نہیں چھوڑا اور اب وہ بھی اسلام آباد میں سراپا احتجاج ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آصف علی زداری کے دور صدارت میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام شروع کیا گیا تا کہ ملک کی غریب ترین خواتین کی مدد کی جائے جو آج تک جاری ہے۔ آج سرکاری ملازمین پینشنرز،تنخواہوں کی عدم ادائیگی، اضافہ نہ ہونے پر سراپا احتجاج ہیں کیونکہ مہنگائی تاریخی طور پر بڑھتی جارہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان کو فخر ہے کہ وہ ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کا حصہ ہے: وزیراعظم عمران خان

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ اگر ہم نے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع دینے ہیں تو سب کے لیے تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے، ہم اس صوبے کے کونے کونے میں جامعات اور کیمپس قائم کریں گے۔

گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کی 24عام نشستوں پر انتخابات 15 نومبر کو ہوں گے۔