Maryam Nawaz

پی ڈی ایم کا پہلا پاور شو

EjazNews

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ، 20 ستمبر کو اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس کے بعد تشکیل پانے والی 11 سیاسی جماعتوں کا اتحاد ہے جو رواں ماہ سے شروع ہونے والے ایکشن پلان کے تحت 3 مرحلے پر حکومت مخالف تحریک چلانے کے ذریعے حکومت کا اقتدار ختم کرنے کی کوشش کرے گی۔ایکشن پلان کے تحت پی ڈی ایم نے رواں ماہ سے ملک گیر عوامی جلسوں، احتجاجی مظاہروں، دسمبر میں ریلیوں اور جنوری 2021 میں اسلام آباد کی طرف ایک فیصلہ کن لانگ مارچ کرنا ہے۔

مولانا فضل الرحمن پی ڈی ایم کے پہلے صدر ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کے راجہ پرویز اشرف سینئر نائب صدر ہیں اور مسلم لیگ (ن) کے شاہد خاقان عباسی اس کے سیکرٹری جنرل ہیں۔

اپوزیشن کی 11 جماعتوں کے اس اتحاد میں بڑی اپوزیشن جماعتوں پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی)، جمعیت علمائے اسلام (ف) سمیت دیگر جماعتیں شامل ہیں اور اپوزیشن کا گوجرانوالہ کے جلسے کو موجودہ حکومت کو گھر بھیجنے کے حوالے سے سنگ بنیاد کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
گوجرانوالہ کے جناح سٹیڈیم میں ہونے والے پی ڈی ایم کے پہلے جلسے میں اپوزیشن جماعتوں کے کارکنان جلسہ گاہ گاہے باگہے پہنچتے رہے۔

یہ بھی پڑھیں:  کُرۂ ارض کے درجۂ حرارت میں اضافے کے سبب گلیشیئرز پگھلنے سے سمندروں کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے

مریم نواز قافلے کے ہمراہ رات تقریباً ساڑھے 9 بجے گوجرانوالہ کے جناح سٹیڈیم پہنچیں، جبکہ بلاول بھٹو زرداری کا قافلہ گوجرانوالہ میں مریم نواز کے بعد پہنچا۔

شام کو 6 بجے کے بعد کیے گئے اپنے ٹوئٹ میں مریم نواز نے کہا تھا کہ وہ گوجرانوالہ کے لیے دوپہر 2 بجے روانہ ہوئی تھیں اور اب تک لاہور کے باہر شاہدرہ پہنچی ہیں۔

دوسری جانب مولانا فضل الرحمٰن کا قافلہ سب سے آخر میں پہنچا اور کارکنان کی بڑی تعداد ان کے ہمراہ موجود تھی۔
خواجہ آصف کی قیادت میں لیگی قافلہ جلسہ گاہ میں داخل ہوا اور (ن) لیگ کے رہنما کارکنوں کے ہمراہ پیدل جلسہ گاہ پہنچے۔

گوجرانوالہ مسلم لیگ (ن) کا ایک مضبوط گڑھ ہے لیکن پارٹی صرف اسی پر انحصار نہیں کر رہی بلکہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے پنجاب بھر میں اپنے ورکرز اور سپورٹرز کو متحرک کیا اور انہیں جلسے کے مقام پر پہنچنے کیہدایات کیں۔

گوجرانوالہ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم پاکستان کی سیاست کو مقید نہیں دیکھنا چاہتے اور سیاست کوکسی کی حاکمیت کا غلام نہیں دیکھنا چاہتے، ہم پاکستان کی سیاست کو قوم کے ہاتھوں میں دینا چاہتے ہیں، ووٹ پاکستان کےعوام کا حق ہے اور یہ حق چھینا گیا ہے، اس پرڈاکہ ڈالاگیا ہے، ہم اس حق کو عوام کے ہاتھ میں دینا چاہتے ہیں اس لیے عوام کو میدان میں آنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:  12ربیع الاول کو آزادی مارچ سیرت طیبہ کانفرنس میں تبدیل ہوگا:مولانا فضل الرحمن

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر نے مزید کہا کہ میں آج آپ کے پاس میڈیا کی زبان بندی کا مقدمہ لے کر آئی ہوں ، آج میڈیا کو جکڑا ہوا ہے اس لیے تمہاری کرپشن کی بات نہیں ہوتی، جو لوگ سچائی کے ساتھ چلتے تھے انہیں نوکریوں سے نکلوادیا گیا، لیڈی ہیلتھ ورکرز اسلام آباد کی سڑکوں پر رل رہی ہیں، ان کا مقدمہ لے کر آئی ہوں۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ جہاں منہگائی بڑھ رہی وہاں بیروزگاری بھی بڑھ رہی ہے، غریب غریب تر ہوتا جا رہا ہے، سفید پوش کا جینا حرام ہو چکا ہے، محنت کش کے چولہے بند، تاجروں کی دکانیں،مل والوں کی ملیں بند ہیں، یہ ہے عمران اور عمران کے سلیکٹرز کی تبدیلی۔