islam_allaha-7

اللہ تعالیٰ قریب ہے ، قرب اللہ

EjazNews

(سوة البقرة۲)
۵۱۱۔ اور اللہ ہی کا ہے مشرق بھی اور مغرب بھی سو جس طرف بھی تم رخ کرو اسی طرف ہے رخ اللہ کا۔ بیشک اللہ بڑی وسعت والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔
۶۸۱۔ اور جب پوچھیں تم سے (اے محمد ﷺ) میرے بندے میرے بارے میں تو بیشک میں تو قریب ہی ہوں جواب دیتا ہوں میں پکارنے والے کی پکار کا جب پکارتا ہے وہ مجھے۔ تو چاہئے کہ وہ حکم مانے میرا اور یقین رکھیں مجھ پر تاکہ وہ راہ راست پالیں۔

(سورة الانفال ۸)
۴۲۔ اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ اور رسول( ﷺ )کا حکم مانو جب وہ تمہیں اس بات کی طرف بلائے جو تمہیں زندگی بخشتی ہے اور جان لو کہ اللہ آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہے اور یہ کہ اسی کی طرف تم اکٹھے کئے جاﺅ گے۔

(سورة یونس ۰۱)
۱۶۔ اور تو جس حال میں بھی ہو اور تو اس بارے میں جو قرآن بھی پڑھتا ہو اور تم لوگ جو کام بھی کرتے ہو ہم تمہیں دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ جب تم اس میں مشغول ہوتے ہو اور تیرے رب سے ذرہ برابر شے نہ زمین میں چھپتی ہے اور نہ آسمانوں میں اور نہ اس سے چھوٹی اور نہ بڑی ، مگر وہ ایک واضح کتاب میں ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  آداب لباس

(سورة ھود۱۱)
۱۶۔ اور ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح ؑ کو (بھیجا )۔ اس نے کہا۔ اے میری قوم ! اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں۔ اسی نے تمہیں زمین سے پیدا کیا ہے اور تمہیں اس میں بسایا ہے۔ پس اس سے بخشش مانگو پھر اس کی طرف رجوع کرو۔ بے شک میرا رب قریب ہے اور دعا کو قبول کرنے والا ہے۔

(سورة الاحقاف ۶۴)
۷۲۔ اور یقینا ہم نے تمہارے آس پاس کی بستیاں تباہ کر دیں اور طرح طرح کی ہم نے اپنی نشانیاں بیان کر دیں تاکہ وہ رجوع کر لیں۔
۸۲۔ پس قرب الٰہی حاصل کرنے کے لیے انہوں نے اللہ کے سوا جن جن کو اپنا معبود بنا رکھا تھا انہوں نے ان کی مدد کیوں نہ کی؟ بلکہ وہ تو ان سے کھو گئے، (بلکہ دراصل ) یہ ان کا محض جھوٹ اور (بالکل) بہتان تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  عفوو درگزر ،تحمل و برداشت کی اہمیت

(سورة ق۰۵)
۶۱۔ ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور اس کے دل میں جو خیالات اٹھتے ہیں ان سے ہم واقف ہیں اورہم اس کی رگ جان سے بھی زیادہ اس سے قریب ہیں۔ [یعنی ہماری قدرت اور ہمارے علم نے انسان کو اندر اور باہر سے اس طرح گھیر رکھا ہے کہ اس کی رگ گردن بھی اس سے اتنی قریب نہیں ہے جتنا ہمارا علم اور ہماری قدرت اس سے قریب ہے۔ اس کی بات سننے کے لیے ہمیں کہیں سے چل کر نہیں آنا پڑتا، اس کے دل میں آنے والے خیالات کو ہم براہ راست جانتے ہیں۔ اسی طرح اگر اسے پکڑنا ہوگا تو ہم کہیں سے آکر اس کو نہیں پکڑیں گے، وہ جہاں بھی ہے ہر وقت ہماری گرفت میں ہے، جب چاہیں گے اسے دھر لیں گے۔ (تفسیر از تفہیم القرآن)]

(سورة الواقعة ۶۵)
۳۸۔ پس جبکہ نرخرے تک پہنچ جائے۔
۴۸۔ اورتم اس وقت آنکھوں سے دیکھتے رہو۔
۵۸۔ ہم اس شخص سے بہ نسبت تمہارے بہت زیادہ قریب ہوتے ہیں لیکن تم نہیں دیکھ سکتے۔ [یعنی اپنی جہالت کی وجہ سے تمہیںاس بات کا ادراک نہیں کہ اللہ توتمہاری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے یا روح قبض کرنے والے فرشتوں کو تم دیکھ نہیں سکتے۔ (تفسیر از شاہ فہد قرآن)]
۲۹۔ لیکن اگر کوئی جھٹلانے والوں گمراہوں میں سے ہے۔
۳۹۔ تو کھولتے ہوئے گرم پانی کی مہمانی ہے۔
۴۹۔ اور دوزخ میں جانا ہے۔
۵۹۔ یہ خبر سراسر حق اور قطعاً یقینی ہے۔
اللہ تعالیٰ قوت والا زبردست ہے

یہ بھی پڑھیں:  عفت و پاکدامنی کی فضیلت

(سورة الحدید ۷۵)
۵۲۔ یقینا ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی دلیلیں دے کر بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان (ترازو) نازل فرمایا تاکہ لوگ عدل پر قائم رہیں۔ اور ہم نے لوہے کو اتارا جس میں سخت ہیبت و قوت ہے اور لوگوں کے لیے اور بھی (بہت سے)فائدے ہیں اور اس لیے بھی کہ اللہ تعالیٰ جان لے کہ اس کی اور اس کے رسولوں کی مدد بے دیکھے کون کرتا ہے، بیشک اللہ تعالیٰ قوت والا اور زبردست ہے۔