islam_allaha_6

اللہ تعالیٰ فرشتوں کے جلوس میں میدان محشر میں جلوہ فرما ہوں گے

EjazNews

(سورة البقرة ۲)
۰۱۲۔ کیا انتظار کرتے ہیں یہ لوگ اس با ت کا کہ آجائے ان کے پا س خود اللہ، ابر کے سائبانوں میں فرشتے ساتھ لیے اور فیصلہ کر ڈالا جائے معاملہ کا اور اللہ ہی کی طرف لوٹا ئے جانے والے ہیں سارے معاملات۔

(سورة الفرقان ۵۲)
۵۲۔ اور جس دن آسمان بادل سمیت پھٹ جائے گا اور فرشتے لگاتار اتارے جائیں گے۔ [اس کا مطلب یہ ہے کہ آسمان پھٹ جائے گا اور بادل سایہ فگن ہو جائیں گے، اللہ تعالیٰ فرشتوں کے جلو میں، میدان محشر میں، جہاں ساری مخلوق جمع ہو گی، حساب کتاب کے لیے جلوہ فرما ہوگا، جیسا کہ سورة بقرة، آیت ۰۱۲ سے بھی واضح ہے۔ (تفسیر از شاہ فہد قرآن)]
۶۲۔ اس دن صحیح طورپر ملک صرف رحمن کا ہی ہوگا اور یہ دن کافروں پر بڑا بھاری ہوگا۔

(سورة الزمر ۹۳)
۹۶۔ اورزمین اپنے پروردگار کے نور سے جگما اٹھے گی، نامہ اعمال حاضر کیے جائیں گے، نبیوں اورگواہوں کو لایا جائے گا اور لوگوں کے درمیان حق حق فیصلے کر دئیے جائیں گے اور وہ ظلم نہ کیے جائیں گے۔ [نبیوں سے پوچھا جائے گا کہ تم نے میرا پیغام اپنی اپنی امتوں کو پہنچا دیا تھا؟ یا یہ پوچھاجائے گا کہ تمہاری امتوں نے تمہاری دعو ت کا کیا جواب دیا، اسے قبو ل کیا یا اس کا انکار کیا؟امت محمدیہ کو بطور گواہ لایا جائے جو اس بات کی گواہی دے گی کہ تیرے پیغمبروں نے تیرا پیغام اپنی اپنی قوم یا امت کو پہنچا دیا تھا جیسا کہ تو نے ہمیں اپنے قرآن کے ذریعے سے ان امور پر مطلع فرما یا تھا۔ (تفسیر از شاہ فہد قرآن)]
۰۷۔ اور جس شخص نے جو کچھ کیا ہے بھرپور دے دیا جائے گا، جو کچھ لوگ کر رہے ہیں وہ بخوبی جاننے والا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  دین اسلام اور نماز کی اہمیت

(سورة الفجر ۹۸)
۲۲۔ اور تیرا رب (خود) آجائے گا اور فرشتے صفیں باندھ کر (آجائیں گے) [لیکن ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو نے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا، اس لئے لا محالہ اس کو ایک تمثیلی انداز بیان ہی سمجھنا ہوگا جس سے یہ تصور دلانا مقصود ہے کہ اس وقت اللہ تعالیٰ کے اقتدار اور اس کی سلطانی و قہاری کے آثار اس طرح ظاہر ہوں گے جیسے دنیا میں کسی بادشاہ کے تمام لشکروں اور اعیان سلطنت کی آمد سے وہ رعب طاری نہیں ہوتا جو بادشاہ کے نفس نفیس خود دربار میں آجانے سے طاری ہوتا ہے۔ (از تفسیر ۶۱ تفہیم القرآن )]
۳۲۔ اور جس دن جہنم بھی لائی جائے گی اس دن انسان کو سمجھ آئے گی مگر آج اس کے سمجھنے کا فائدہ کہاں ؟۔
۴۲۔ وہ کہے گا کہ کاش کہ میں نے اپنی اس زندگی کے لیے کچھ پیشگی سامان کیا ہوتا ۔
۵۲۔ پس آج اللہ کے عذاب جیسا عذاب کسی کا نہ ہوگا۔
۶۲۔ نہ اس کی قید و بند جیسی کسی کی قید و بند ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:  ہاتھ اور انگلی کے اشارے سے سلام کرنا اورجواب دینا درست نہیں ہے

اللہ تعالیٰ قدر دان ہے

(سورة فاطر ۵۳)
۲۳۔ پھر ہم نے ان لوگوں کو (اس ) کتاب کا وارث بنایا جن کو ہم نے اپنے بندوں میں سے پسند فرمایا۔ پھر بعضے تو ان میں اپنی جانوں پر ظلم کرنے و الے ہیں اور بعضے ان میں متوسط درجے کے ہیں اور بعضے ان میں اللہ کی توفیق سے نیکیوں میں ترقی کیے چلے جاتے ہیں۔ یہ بڑا افضل ہے۔
۳۳۔ وہ باغات میں ہمیشہ رہنے کے جن میں یہ لوگ داخل ہوں گے سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے اور پوشاک ان کی وہاں ریشم کی ہوگی۔
۴۳۔ اور کہیں گے کہ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے جس نے ہم سے غم دور کیا۔ بیشک ہمارا پروردگار بڑا بخشنے والا بڑا قدر دان ہے۔
۵۳۔ جس نے ہم کو اپنے فضل سے ہمیشہ رہنے کے مقام میں لا اتارا جہاں نہ ہم کوئی تکلیف پہنچے گی اور نہ ہم کو کوئی خستگی پہنچے گی۔

یہ بھی پڑھیں:  ان شاءاللہ

(سورة الشوریٰ ۲۴)
۳۲۔ یہی وہ ہے جس کی بشارت اللہ تعالیٰ اپنے ان بندوں کو دے رہا ہے جو ایمان لائے اور (سنت کے مطابق)نیک عمل کیے تو فرما دیجئے ! کہ میں اس پر تم سے کوئی بدلہ نہیں چاہتا مگر محبت رشتہ داری کی، جو شخص کوئی نیکی کرے ہم اس کے لیے اس کی نیکی میں اور نیکی بڑھا دیں گے۔ بیشک اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا (اور) بہت قدر دان ہے۔