health_feature

صحت کبھی بھی ہماری ترجیحات کا حصہ نہیں رہی

EjazNews

صحت کبھی بھی ہماری ترجیحات کا حصہ نہیں رہی، ہماری تمام تر توجہ دکھائی دینے والے منصوبوں پر رہی، سڑکیں بنوا لو، درخت اگوا لو یا ٹرینیں چلوا لو یہ سب چیزیں آنکھوں سے دکھائی دیتی ہیں لیکن انسانی جسم میں پنپنے والی بیماری نظر نہیں آتی۔ اس کا علاج چیخ چیخ کر بیان نہیں دیتا کہ وہ حکومت کی کوششوں سے ٹھیک ہو گیا ۔ لیکن سڑکوں پر چیختی چنگارتی بسیں سرکاری سرمایہ کاری کی جیتی جاگتی مثال دیتی ہیں۔ اسی لیے انسان کے پیپ میں پلنے والا وائرس کبھی حکمرانوں کو دلچسپی نہیں رہی۔

سابق وزیراعظم بھٹو کا آبائی شہر لاڑکانہ ایک لمبے عرصے تک ایچ آئی وی ایڈز کی لپیٹ میں رہا ۔ساڑھے چار سو سے زائد نوزائیدہ بچوں کے والدین ایک ایک گولی کیلئے ترستے اور تڑپتے پھر رہے ہیں۔ 3 وزراءاعظم کے شہر میں ایڈز کسی آسیب کی طرح پھیلا اور اب تک ہمیں نہیں معلوم کہ کل کتنے بچے اور بڑے اس مرض کا شکاررہ کر ٹھیک ہوئے ہیں یا پھر کس حالت میںہیں۔

سرکاری رپوٹوں میں ایڈز کا ذمہ دار سرنجوں کو بھی قرار دیا گیا تھا۔غریب اور مجبور انسان 20روپے کی نئی سرنج لینے کیلئے پرانی سرنجیں استعمال کرتے رہے اگر ان باتوں کوسچ مان لیا جائے تو پھر ایڈز ہی کیوں پھیلی۔ سرنجوں سے پھیلنے والے دوسرے امراض کی لپیٹ میں نوزائیدہ اور معصوم بچے کیوں نہیں آئے، خدانخواستہ ہمارے کہنے کا یہ مقصد ہر گز نہیں کہ دوسرے امراض بھی پھیلناچاہیے ہم تو یہ ثابت کرناچارہے ہیں کہ ایڈز ایک دانستہ سازش کے تحت پھیلا یا گیا ورنہ ایڈز کی جگہ ہیپا ٹائٹس یا کوئی اور مرض بھی پھیل سکتا تھا۔

ایچ آئی وی ایڈز سے وہی انسان نجات پاسکتا ہے جسے اس کے پھیلاﺅ کی وجوہات کا علم ہو اگر کسی کو یہ معلوم ہی نہ ہو کہ ایچ آئی وی ایڈز کس وجہ سے پھیل رہی ہے تو اسے روکنا محال ہے۔ یہ کسی کے کنٹرول میں نہیں آسکتا۔ اس کے پھیلاﺅ کے دو اہم اسباب ہیں ۔ بہت سے لوگ اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ ایچ آئی وی شاید کوئی چھوت کی بیمار ی ہے مریض نے صحت مند کو ہاتھ لگایا نہیں کہ وہ ایچ آئی وی ایڈز میں مبتلا ہوگیا،ایسا نہیں ہے۔ اسی لیے ایچ آئی وی کے مریض کیلئے خوف کھانے کی ضرورت نہیں اسے پیار ، محبت اور صحت مندانہ انداز میں سنبھالنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں ایچ آئی وی کے پھیلاﺅ کا سب سے بڑا سبب سرنجوں کا غیر صحت مندانہ استعمال ہے۔ ڈاکٹر کئی سو روپے سے کئی ہزار روپے تک فیس تو لے لیتے ہیں مگر 10روپے کی سرنج بدلنا گوارا نہیں کرتے۔ ایک سرنج درجنوں افراد کی نبض کو چھوتی ہوئی نکل جاتی ہے۔ ایک انار سو بیمار کا محاورہ سرنجوں پر صادق آتا ہے، لاڑکانہ میں تو یہ اٹل حقیقت کی طرح ہمارے سامنے ہے۔

اگرچہ ایم آئی سی ایس پنجاب کی 2018ءکی رپورٹ بھی منظر عام پر آچکی ہے مگر ہم یہاں 2014ءکی رپورٹ کا حوالہ دینا زیادہ مناسب خیال کرتے ہیں کیونکہ اس وقت جن مریضوں میں ایچ آئی وی ایڈز کا پھیلاﺅ پایا جاتا ہے۔ اس کے پھیلاﺅ کی وجوہات دو تین سال پرانی ہیں۔

2014 ءکے اعدادو شمار کے مطابق کسی ایک شادی شدہ عورت کو بھی ایڈز کے بارے میں صحیح حقائق کا علم نہ تھا۔ انہیں نہیں پتہ تھا کہ اس طرح کا کوئی مرض ہے اور وہ جان لیوا ہے۔ غیر شادی شدہ بچیوں اور بچوں کے ساتھ اس موضوع پر گفتگو کرنا شجرع ممنوعہ ہے اور ہونا بھی چاہیے یہ مرض ایک لعنت ہے جو جہنمی شخص یا گناہ کبیرہ کے نتیجے میں پھیلتا ہے۔ اس کی ابتداءگناہ سے شروع ہو تی ہے البتہ پھیلاﺅ معصوم بچوں میں بھی ہو سکتا ہے جیسا کہ حکومت کے مطابق لاڑکانہ میں ہوا۔

2014ءکے سروے کے مطابق پنجاب میں39فیصد 15سے 49سال کی شادی شدہ خواتین ایڈز کے لفظ سے ہی نا آشنا تھیں۔ شہروں میں یہ تناسب 7فیصد تھا۔ دیہات میں 28فیصد یعنی دیہات میں خواتین نے کبھی کبھار زندگی میں ایک بار ایڈز کا لفظ سنا تھا۔ راولپنڈی ڈویژن میں آدھی سے زیادہ خواتین ایڈز کے لفظ سے ناواقف تھیں جبکہ ڈی جی خان میں 10میں سے ایک عورت کو پتہ تھا کہ اس طرح کا کوئی مرض ہوتا ہے۔ غریب ترین طبقہ اس مرض سے سراسر لا علم پایا گیا۔صرف 8فیصد کو اس مرض سے واقفیت تھی۔ جب مرض سے ناواقفیت کا یہ عالم ہے تو وہ بچاﺅ کی ترکیب بھلا کیسے ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:  انسانی زندگی میں مطالعے کی اہمیت

جہاں تک 2018ءکا تعلق ہے تو پنجاب میں مجموعی طورپر 26فیصد اس مرض سے واقف تھے جبکہ ماﺅں میں اس مرض سے واقفیت نہ ہونے کے برابر تھی۔ بہاولپور ڈویژن میں 16فیصد، ڈیرہ غازی خان میں 14فیصد، فیصل آباد میں 24فیصد، گوجرانوالہ میں 29فیصد، لاہور میں 36فیصد، ملتان میں18فیصد، راولپنڈی میں 44فیصد، ساہیوال میں 14فیصد اورسرگودھا میں 24فیصد نے اس کا لفظ سن رکھا تھا۔ باقی سب لوگ ناواقف تھے۔ بعض شہروں میں اس کا تناسب سنگل ڈیجٹ میںتھا۔ تقریباً 60سے 70فیصد لوگ اسے چھوت کی خطرناک بیماری سمجھ کر مرض سے قطع تعلق کر لیا یہ تمام شہروں میں ایک عام سی عادت ہے۔ جس میں بھی ایچ آئی وی ایڈز مثبت نکل آیا اس کا ناطقہ بند ہوگیا۔ ایک شاپ کیپر کو یہ مرض ہوا تو سبھی نے اس سے سودا سلف لینا چھوڑدیا۔ تقریباً 32سے 50فیصد خواتین کا خیال ہے کہ ایسے بچوں کو سکولوں میں داخلے کا کوئی حق نہیں۔ 60فیصد بچوں نے امتیازی سلوک کی شکایت کی۔ تقریباً 65فیصد لوگ اس قسم کے ٹیسٹ سے بھاگتے ہیں۔ زندہ درگور ہو جائیں گے ، معاشرہ کیا سوچے گا۔ لوگ کیا کہیں گے۔ یہ سوچ کر بہت سے لوگ ٹیسٹ ہی نہیں کرواتے۔ ایسے لوگوں کا تناسب سے کم میانوالی میں ہے اور یہ 48فیصد تک ہے۔ سب سے زیادہ ملتان اور ساہیوال میں 84فیصد لوگ ایڈز کا ٹیسٹ کروانا ہی نہیں چاہتے۔ پنجاب میں مجموعی طور پر 85فیصد لوگ ایڈز ٹیسٹ میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے اور اتنے ہی لوگوں کا خیال ہے کہ ایڈز کے مریضو ں کو جینے کا کوئی حق نہیں یہ لوگ قابل گرفت اور موت کے حقدار ہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ کتنے ہی لوگ سرنجوں وغیرہ کے ذریعے سے اس مرض میں مبتلا ہوئے۔ یہ لوگ معاشرے میں بے وقت اور بے حیثیت ہو جاتے ہیں۔ ایچ آئی وی ایڈز کا شکار 62فیصد لوگوں نے انہیں بتایا کہ پنجاب بھر میں انہیں نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ یہ چبتی ہوئی نظریں صوبے کے ہر شہر میں ہیں البتہ کہیں کم اور کہیں زیادہ۔ میانوالی میں 39فیصد افراد کے خیال میں اس مرض میں مبتلا لوگ اپنا مقام کھو دیتے ہیں۔ نارووال ، شیخوپورہ ، بھکراور ننکانہ صاحب کے اضلاع میں ایسی ہی صورتحال ہے ۔البتہ ساہیوال، جہلم اور لاہور جیسے پڑھے لکھے اضلاع میں لوگوں کے خیال میں بے گناہ آدمی بھی گناہگاروں کے اس مرض میں شامل ہو سکتا ہے۔ لاڑکانہ نے ان لوگوں کی آنکھیں کھول دی ہیں۔ برائی تو برائی ہے۔ خواہ کوئی بھی پھیلائے اسی لیے بہت سے شہروںمیں لوگ اس مرض میں مبتلا لوگ سودہ سلف خریدتے ہوئے بھی گھبراتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ چھوت کی یہ بیماری کہیں انہیں بھی اپنی لپیٹ میں نہ لے لے اور وہ بھی معاشرے میں منہ دکھانے کے قابل نہ رہیں۔ مرض اپنی جگہ خطرناک ہے مگر اس سے بچاﺅ اور حفاظت کی کئی تدابیر موجودہیں ہمارے تین وزراءاعظم کے شہر ہی نہیں بلکہ گاﺅں میں بھی اس مرض نے اپنے ڈیرے ڈالے ہیں۔

وفاقی اورصوبائی حکومتیں مختلف امراض کے بارے میں کبھی کبھار ڈیٹا اکٹھا کرتی رہتی ہیں ہمیں لگتا ہے کہ یہ ڈیٹا بالکل ترو تازہ ہے حقیقتاً ایسا نہیں ہوتا۔ 2015ءکی ایک رپورٹ کے مطابق پمز ہسپتال اسلام آباد میں 1652افراد نے ایچ آئی وی ایڈز کے حوالے سے رجوع کیا۔ مزید دوسرے افراد کو ملا لیں تو کل تعداد تقریباً 2ہزار بنتی ہے ان میں سے 894 کو اے آر ٹی پر رکھا گیا۔ ان میں بچے ، بڑے اور خواتین سبھی شامل تھیں۔
ٹرانس جنڈر بھی کچھ تعداد میں پمز ہسپتال اسلام آباد میں علاج کیلئے آئے۔ 1652 میں سے 306خواتین شامل تھیں۔ میو ہسپتال لاہور سے رجوع کرنے والے مردو خواتین کی تعداد 390تھیں ، سروسز ہسپتال سے 250سو ،شوکت خانم سے سوا دوسو افراد نے ٹیسٹ کروایا ۔ نیشنل ایڈز پروگرام کے تحت ڈی ایچ کیو سرگودھا سے 390، ڈی جی خان سے 787 ، الائیڈ ہسپتال فیصل آباد سے 501، عزیز بھٹی ہسپتال گجرات سے 420 لوگوں نے علاج کروایا۔ سندھ میں صورتحال پنجاب سے خراب تھی۔ نیشنل ایڈز کنٹرو ل پروگرام کے تحت 2015ءمیں ایچ آئی وی ٹریٹمنٹ سنٹر سے ساڑھے تین ہزار سے زائد لوگوں نے رجوع کیا۔ سول ہسپتال کراچی میں 2345 ،انڈس ہسپتال کراچی میں 297، چاند کا میڈیکل کالج لاڑکانہ میں 612مرد خواتین اور بچے ایڈز پروگرام کے تحت رجسٹرڈ ہوئے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب ملک میں میاں نواز شریف کی حکومت تھی اور پیپلز پارٹی کے ساتھ ان کی گہری دوستی تھی۔ تب بھی لاڑکانہ میں 612افراد کا ایڈز میں مبتلا ہونا کوئی نئی اور انوکھی بات نہیں سمجھی گئی۔ پیپلز پارٹی کے ہر دور میں سندھ میں لاڑکانہ سمیت دوسرے شہروں میں ایڈز کی کم و بیش یہی صورتحال رہی ہے۔ یہی حال خیبر پختونخوا کا ہے، پچھلے چند برسوں سے خیبر پختونخوا نے پی ٹی آئی کا سورج اپنے جوبن پر ہے۔ اس کا اقتدار بلا شرکت غیرے ہے۔ اگر کوئی چیلنج درپیش ہے تو وہ فضل الرحمن کی جانب سے نہیں بلکہ ایڈز کی طرف سے ہے۔ حیات آبادمیڈیکل کمپلیکس پشاور میں ایڈز کنٹرول پروگرام کے تحت 1144افراد شامل ہوئے۔ ان میں بچوں کی تعداد بھی ناقابل بیان یا تشویشناک حد تک زیادہ تھی۔ بلوچستان بھی اس سے مختلف نہیں۔ بولان میڈیکل کمپلیکس میں بچوں سمیت 207افراد اس ایک مہینے میں سامنے آئے۔ یعنی 2015ءکے جنوری تک ایڈز کنٹرول پروگرام کے تحت 10ہزارسے زائد افراد رجسٹرڈ کیے گئے۔ اس کے باوجود بھی حکمرانوں کو ہوش نہ آئی سب کچھ پہلے کی طرح چلتا رہا۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان اور انڈیا کی ترقی کا راز

سندھ میں پیپلز پارٹی، پنجاب میں میاں نواز شریف، خیبر پختونخوا میں عمران خان اور بلوچستان میں مخلوط حکمران صحت مند معاشرے کے قیام کیلئے روز نت نئے دعوے کرتے ۔ لیکن اگلے ہی مہینے میں یعنی فروری 2015ءمیں ایڈز کے مریض 6سو اضافہ کے ساتھ 10ہزار 739ہو گئے۔ اب آیا اپریل ، اپریل میں ملک بھر میں ایڈز کے مریضوں نے مزید سوا تین سو کا اضافہ ہوگیا۔ اور تعداد 1161پر پہنچ گئی۔ حکمرانوں میں انسانیت نام کی کوئی چیز موجود ہوتی تو شاید وہ اس کی سنگینی کو پہچان لیتے۔ کیونکہ تیسرے ہی مہینے میں ایڈز میں مبتلا افراد اور بچوں کی تعداد 11390ہو گئی۔ جون میں مزید 3سو کا اضافہ ہوا اورہم ایک لفظ کہتے ہیںکہ ریکارڈ ٹوٹ گیافلاں بیریر کراس کرگئی۔ خوشی نہیں غم کی بات ہے کہ اگست 2015ءمیں ملک بھر میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد 12395ہو گئی۔ ملک بھر میں ہونے والا اضافہ تشویشناک تھا۔ پمز ہو یا جناح ہسپتال لاہور یا ڈی جی خان،سول ہسپتال کراچی ہو یا حیات آباد میڈیکل کمپلیکس ، ہر جگہ ایڈز کے رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد بڑھتے بڑھتے 12662ہو گئی۔

جنوری 2017ءمیں ایڈز کے مریضوں کی تعداد بھی ملک بھر میں 17ہزار ہو گئی۔ پمز اسلام آباد میں بچوںاور عورتوں سمیت مریضوں کی تعداد 26554، سی ایم ایچ میں 38، میو ہسپتال لاہور میں 1079، سروسز ہسپتال میں 512، سروسز ہسپتال کے پیڈ ریاٹی یونٹ میں 299، شوکت خانم میں 492، جناح ہسپتال میں 1525، ڈی ایچ کیو سرگودھا میں 658، ڈی ایچ کیو ڈی جی خان میں 2238، الائیڈ ہسپتال فیصل آباد میں 1325، عزیز بھٹو ہسپتال گجرات میں 1092، اور سول ہسپتال ملتان میں 28مریض رجسٹرڈ تھے۔ اب سندھ چلتے ہیں ۔ تین مرتبہ وزراءاعظم اور کئی مرتبہ مہاجرین صدرکو برسر اقتدار لانے والا کراچی ایڈز زدہ شہر بننا شرو ع ہوا۔ جہاں مردو خواتین سمیت 4541افراد سول ہسپتال کراچی میں داخل تھے۔ سول ہسپتال کے پیڈریاٹ یونٹ میں 124، انڈس ہسپتال میں 667، آغا خان ہسپتال میں 50اور چانکا میڈیکل کالج میں 1518مریض ایڈز کنٹرول پروگرام کے تحت رجسٹرڈ ہوئے۔ 2017ءکا سورج ایڈز کے مریضوں کی تعداد میں تقریباً 4ہزار مریضوں کی اندوہناک خبر کے ساتھ طلوع ہوا۔پی ٹی آئی کے زیر انتظام شہر پشاور میں 2587 ، اور کے ڈی اے ہسپتال کوہاٹ میں 360مریض رجسٹرڈ ہوئے۔ بولان میڈیکل کالج میں کوئٹہ میں 470مریضوں کو طبی سہولت مہیا کی گئی۔ اے آر ٹی سنٹر تربت میں بھی 255افراد بھیج دئیے گئے۔ یوں ملک کے چاروں صوبوں میں زیر علاج مرد ، عورت اوربچوں کی تعداد22512ہو گئی۔

یہ بھی پڑھیں:  قاری عبدالباسط (جن کی آواز آج بھی پورے عالم اسلام میں گونجتی ہے)

دیکھتے ہیں کہ 2018ءمیں کیا ہوا۔ 2018ءمیں حکومت کی تبدیلی کے علاوہ ایڈز کے مریضوں کی تعداد بھی تبدیل ہوئی۔ کوئی 5-6ہزار کا فرق آیا۔ ایڈز زدہ افراد کی تعداد ساڑھے بائیس ہزار سے بڑھ کر تقریباً 29ہزارہو گئی ۔ تفصیل میں جائیں تو پمز اسلام آباد میں ایڈز کنٹرول پروگرام کے تحت 2854افراد رجسٹرڈ ہوئے۔ سی ایم ایچ راولپنڈ ی میں 90،میو ہسپتال میں 1630، سروسز 584، پیڈریاٹک سروسزیونٹ ہسپتال میں 1613،شوکت خانم ہسپتال میں 526، جناح ہسپتال لاہور میں 1761،ڈی ایچ کیو سرگودھا میں 16 سو ،ڈی ایچ کیو ڈی جی خان میں 2561، الائیڈ ہسپتال میں فیصل آباد میں 1783، عزیز بھٹی ہسپتال گجرات میں 1459، سول ہسپتال ملتا ن میں 444، بی بی شہید ہسپتال راولپنڈ میں 277، ڈی ایچ کیو ہسپتال شیخوپورہ میں 73، شیخ زائد ہسپتال رحیم یار خان میں 243،سپیشل کلینک چنیوٹ میں 12مریض داخل کیے گئے۔ ان میں خواتین بھی شامل تھیں۔ سندھ میں سول ہسپتال کراچی میں 5564، پیڈریاٹک یونٹ سول ہسپتال میں 184، انڈس ہسپتال میں 868، آغا خان ہسپتال میں 47، آغا خان کے پیڈریاٹک ہسپتال میں 60اور چانکامیڈیکل کالج ہسپتال میں 1935مریض شامل تھے۔
اسی دور میں حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پشاور میں 3320، کے ڈی اے ہسپتال کوہاٹ میں 409، بولان میڈیکل کمپلیکس کوئٹہ میں 623اور اے آر ٹی سنٹر تربت میں 290مریض رجسٹرڈ ہوئے۔ ملک بھر میں ایڈز زدہ افراد کی تعد28884ہو گئی۔

حکومت کے پاس دستیاب اعداد و شمار 2018ءتک کے ہیں جن کے مطابق ملک بھر میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد 32026ہے۔ ان میں ٹرانس جنڈر 438 اور 1130 بچے بھی شامل ہیں۔ یعنی ایڈز کسی تاریکی میں راتوں رات نہ پھیلااو ر نہ ہی کسی ایک آدمی نے اسے جنم دیا بلکہ یہ برسہا برس سے اپنی جڑیں مضبوط کر رہا ہے اور قوم کی جڑیں کمزور کر رہا ہے۔ ہماری نسلیں بحران کا شکار ہو رہی ہیں۔ صحت کے بحران کا۔ جسمانی عوارض نئی نسل کیلئے چیلنج بنے ہوئے ہیں حکومت کے بقول اوست عمر2015 ءمیں 67سال تھی اور اب شاید 69برس بتائی جائے گی۔ لیکن آج بھی عوام پر بیماریوں کا بوجھ ہے، یہ کسی طرح کم نہیں ہو پارہا۔ ذیباطیس میں پاکستان ساتویں نمبر پر ہے۔ غم کی بات ہے کہ ہر 18برس کی عمر کو چھونے والا بچہ ہائیپر ٹینشن کا شکار ہے۔ 38فیصد مرد اور 7فیصد خواتین سگریٹ نوشی میں اپنا غم مٹاتی ہیں۔ آج بھی ملک کی بڑی آبادی کو صحت عامہ کی کوئی سہولت میسرنہیں۔ تقریباً 42فیصد بچے ڈاکٹروں کے ہاتھوں میں جنم نہیں لیتے۔ زچگی کے بعد صرف 2فیصد خواتین کو بہتر علاج معالجے کی سہولت میسر ہوتی ہے۔ رہے حفاظتی ٹیکے تو یہ ناقابل بیان حد تک کم ہیں۔ 54فیصد کو یہ سہولت میسر ہے، ملک میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کی تعداد 1لاکھ سے زیادہ ہے۔ لیکن دوائی میسر نہ ہو ، انجکشن کی سرنج بار بار استعمال ہو تو لیڈی ہیلتھ ورکرز کیا کریں۔ ان کے پاس کوئی راستہ نہیں۔