بپسی سدھوا:پاکستانی نژاد انگریزی ناول نگار

EjazNews

پاکستان میں کیا رکھا ہے ؟ بات طنز کی نہیں دکھ کی ہے۔ ہماری پہچان کسے ہونا چاہئے ؟ دہشت گردی، نسلی فسادات یا پھر ہمارے فنکاروں، ادیبوں یا بیرون ملک منتقل ہو کر پاکستان کے لئے بڑا، کام کرنے والی شخصیتوں کو ؟ اگر آپ کی سوچ مثبت ہو گی تو جواب بھی مایوسی کے کہرے میں دبا نہیں ہوگا۔

بپسی سدھوا 1936ء میں پیدا ہوئیں، بی اے کی ڈگری انہو ں نے کنیرڈ کالج برائے خواتین یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔1991ءمیں انہیں ستارہ امتیازسے نوازا گیا ۔

1978ء کی بات ہے جب بپسی سدھو کا پہلا اول The Crow Eaters پہلے لندن اور پھر بھارت سے شائع ہوا۔ اس کے بعد The Pakistan Brid نے تہلکہ مچا یا اس کے بعد CrackingIndia پھر اس کے بعد An American Bratاور پھر Waterاور اس کے بعدCity of Sin And Splandour شائع ہوئے۔ ایک منافقانہ اور حاسد معاشرے کے کرداروں پر غیر جانبدار انہ اور گہرائی سے جس طرح انہوں نے لکھا دل سے ان کی قدر کرنے کو جی چاہنے لگا۔

ہندوستان میں دیپا مہتا کمال کی ہدایت کارہ نے ان کے دوناولوں پر ارتھ اور واٹر ، بنائیں ’’فائر‘‘ کا مرکزی خیال بھی بپسی کے ناول سے اخذ کیا گیا اس ناول کا نام بھی Earthہی ہے۔

Novel_list
بپسی سدھوا کے ناول

کسی پاکستانی نژاد ادیب کی تخلیقات اہل مغرب سراہیں تو اسے غیر معمولی سند قرار دیا جاتا ہے آپ کو یہ پروفائل کیسا لگا؟:
یہ سچائی ہے، ہمارے ہاں بینا شاہ اور شاندانہ منہاس کے علاوہ کئی مرد ادیب بھی انگریزی زبان میں ناول، کہانیاں اور نثر پارے تخلیق کر رہے ہیں اب تو کئی لوگوں کو اچھا رسپانس مل رہا ہے۔ شروع میں ہمارے پبلشنگ ہائوسز نے دلچسپی نہیں لی صرف آکسفورڈ پریس ، سما اور الحمراء انگریزی کی کتابیں چھاپتا ہے۔ اب بھی لوگ سمجھتے ہیں کہ انگریزی کتابیں پڑھنے والے کم ہیں اور یہ مالی طور پر منفعت بخش کاروبار نہیں اس لئے بہت سے انگریزی قواعد اور زبان جاننے والے لکھنے سے کتراتے ہیں کہ کتاب فروخت نہ ہوئی تو نقصان ہوگا۔

پاکستان میں فیڈ بیک (بعد از فروخت یا چھپائی کے حوصلہ افزاء نتائج اور قارئین) نہ ملنے کی وجہ؟:
’’ویسا فیڈ بیک ملتا ہی نہیں جس کے ہم حقدار ہیں آخر انگریزی اخبار بھی تو چھپتے ہیں۔ رسالے بھی ہیں اورانگریزی ادیبوں کی تصانیف بھی دستیاب ہوجاتی ہیں۔میرے ساتھ پہلی کتاب Crow Eaters کی اشاعت کے بعد خاصے مسائل ہوئے پہلے تو پروف ریڈنگ کے لئے مناسب لوگ نہیں ملے پھر کتاب چھپی تو فروخت کرنے والے نہیں ملے لوگوں کو ٹائٹل پر اعتراض تھا۔ پھر میں یہ کتاب لندن لے گئی وہاں خوب پذیرائی ہوئی یوں میری محنت وصولی ہوگئی۔

یہ بھی پڑھیں:  شادی سے پہلےایک ٹیسٹ کروا کر آنے والی نسل کو اس مرض سے بچایا جاسکتا ہے

’’The Crow Eaters‘‘ خالصتاً پارسی مذہب پر طنز و مزاح کے انداز میں لکھی جانے والی تحریر تھی کیا آپ کو مخالفت کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہوگا؟:
بہت مخالفت ہوئی مگر ایک فائدہ بھی ہوا اور وہ یہ کہ جنوبی ایشیا کے ادیبوں کو تحریک ملی کہ آپ مذہب کے حوالے سے ہلکے پھلکے انداز سے بھی کچھ لکھ سکتے ہیں مگر مذاق کی ایک حد ہوتی ہے پاکستان میں مجھے اسی کتاب پر ستارہ امتیاز ملا تو سارے لوگ ٹھنڈے پڑ گئے۔

آخر آپ کو اتنے بولڈ اور خطرناک قسم کے موضوعات پر لکھنے کی تحریک کیسے ہو جاتی ہے ؟:
یہ آپ میری جوانی کے قصے لے بیٹھیں ۔دراصل میں نے یورپئین انگریزی ادیبوں کو پڑھا ہے اور وہ بہت سچے ، بے باک اور کھرے لکھنے والے ہیں، جیسے اپنی عصمت آپا بھی ، میں نے بے خیالی میں بھی بے دھڑک اور نڈر ہو کر لکھ لیا ہے اب سوچتی ہوں تو دوبارہ جنس پر اتنا بھرپور نہیں لکھ سکتی اور پھر مجھے بتائو کہ بولڈ موضوعات پر کیوں نہ لکھا جائے ؟ چند برس پہلے تہمینہ درانی نے MY Feudal Lord لکھ کر کمال کر دیا کیسے کیسے چہروں سے پردہ نہیں اٹھا دیا۔ میرے خیال میں غیر ادیبہ نے ادیبہ سے بڑھ کر کمال کا ہنر دکھا دیا ۔ آپ خیالات کے ریلے کو روکنے کی ضد نہ کریں اسے روکا ہی نہیں جاسکتا زیر بحث لا کر سیدھی راہ پر لگا دیں یہ آپ کا کام ہے۔

ایک طرف اگر اچھا کام ہو رہا ہے تو دوسری طرف 9/11اور فیصل شہزاد جیسے کیسز بدنام بھی کر رہے ہیں بطور ادیبیہ آپ کیا تبصرہ کریں گے؟:
یہ مسلمانوں کے خلاف سیاسی ایجنڈا ہے۔ اس میں ہمارا قصور یہ ہے کہ ہم غلطیوں پر غلطیاں کرتے جارہے ہیں اور انہیں تنقید کا موقع دے رہے ہیں۔ہمارے ملائوں نے بھی اسلام کو مشکل بنا دیا۔ قائداعظم نے سیکولر پاکستان کا سوچا تھا مگر یہ تو مذہبی ملک بن گیا اور اب انتہا پسند ی کی طرف جاہا ہے یہ ہماری چیز نہیں ہماری چیز تو اسلام ہے ہمیں اسی پر قائم رہنا چاہئے تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  نفرتوں کے دور میں پنپنے والی محبت

کیا آپ اتنی اردو نہیں جانتیں کہ اردو میں لکھیں اور عام طبقہ تک آپ کی تحریروں کی رسائی ہو؟:
میں واقعی کام چلانے والی اردو جانتی ہوں ،ہو سکتا ہے اس میں قدر ادبی چاشنی اور اردو کا مخصوص رس نہ ہو لیکن اگر کوئی ترجمہ کر لے تو میں معاونت کے لئے تیار ہوں ۔ ایک مرتبہ ایسی کوشش ہوئی تو پبلشر گھبرا گیا کہ اس کا کاروبار ختم نہ کر دیا جائے اور اس کا پبلشنگ ہائوس نہ جلا دیا جائے۔

bapsi-sidhwa_1
بپسی سدھوا ایک تقریب میں

معاف کیجئے گا میں یہ اعتراض نہیں مانتی، حال ہی میں خشونت سنگھ کی ’’کمپنی آف وومن‘‘ بھی اردو میں ترجمہ ہوئی ہے اور وہ پبلشنگ ہائوس سلامت ہے ؟:
اچھا تو پھر کوئی اردو یا پنجابی ادیب آگے بڑھے اور کر ڈالے ترجمہ اس میں تو پنجابی ثقافت اور پاکستانیت دونوں موضوعات کا ر چائو موجود ہے۔ میرا تو دل چاہتا ہے کہ اردو میں ترجمہ ہو مگر میں خود لکھ نہیں پائوں گی۔

آپ کا کیا خیال ہے ہر زبان میں کمرشل رائٹر ہونے چاہئیں جیسے ہمارے ہاں ڈائجسٹ اوربھارت میں شوبھاڈے وغیرہ ہیں؟:
ضرور ہونے چاہئیں، پوری دنیا میں ہر زبان میں ایسا ہوتا ہے یہ بہت زیادہ فروخت ہوتے ہیں لیکن خالص ادب کو نظر انداز کرنے کی روایت نہیں ہونی چاہئے۔ یہ رویہ ادیب کو متاثر کرتا ہے۔ اچھا ادب ہر دور میں پڑھا گیا اور پڑھا جائے گا کیونکہ پڑھنے کی پیاس تو خالص ادب پڑھ کر ہی بجھتی ہے۔

دیپا مہتا کو کیسے خیال آیا کہ آپ کے ناولوں میں اس قدر کشش ہے اور یہ فلم کے میڈیم کے لئے بہتر ین انتخاب ہو سکتے ہیں؟:
جب پنگوئن انڈیا (پبلشنگ ادارہ) نے میرا ایک ناول Cracking India شائع کیا تو ہندوستانی ادیبوں میں اس پر بات چیت ہوئی دیپا نے مجھے فون کیا کہ میں اس پر فلم بالوں، کچھ عرصہ تک مشاورت چلتی رہی پھر جیسے اسے سمجھ میں آیا فلم بنالوں ، کچھ عرصہ تک مشاورت چلتی رہی پھر جیسے اسے سمجھ میں آیا فلم بنالی۔ میں بھی سمجھ گئی کہ فلم کا میڈیا بہت علیحدہ سا میڈیا ہے اس میں نثر جیسی بات نہیں۔ ہدایت کار کا اپنا نظریہ اور زاویہ نگاہ ہو سکتا ہے۔ فلمیں اچھی بنیں اس میں شک نہیں مگر یہ دیپا مہتا کے قطعی ذاتی تخیل کا کارنامہ ہے لیکن میں نے کبھی ذاتی طور پر ایسی کوشش نہیں کی۔

یہ بھی پڑھیں:  سیاست میں کچھ حرف آخر نہیں ہوتا:میر عبدالقدوس بزنجو

ہمارے پاکستانی نژاد انگریز ی مصنفین ادبی انعامات کے اعزازات سے اب تک محروم ہیں اور بات صرف نامزدگی تک پہنچی ہے۔ آپ اس ضمن میں کچھ کہنا پسند کریں گی؟:
ہمارے ہاں نامزد ہونا بھی اعزاز سے کم نہیں کم از کم ہم رجسٹر ہوتے ہی لوگ ہمیں پڑھ تو لیتے ہیں اگر اس قدر پذیرائی بھی نہ ملتی تو کیا ہوتا اس لئے تھوڑا صبر سے کام لینا چاہئے، ملے گا ہمیں بھی اعزاز ملے گا ہمارے ادیب انگریزی میں بہت اچھا لکھ رہے ہیں مثلاً محمد حنیف کا ناول بہت مزے کا ہے۔

ایک گھسا پٹا سوال ہے کہ کیا انگریزی میں لکھنا فیشن بن رہا ہے ؟:
نہیں ہرگز نہیں۔ جسے جس زبان میں آسانی سے بیان کرنے کی صلاحیت نظر آئے وہ وہی زبان اختیار کرلیتا ہے پھر آپ کی فکر، تخیل ، موضوعات اور اپنا ماحول سب کچھ گرفت میں آنے لگتا ہے۔ اگر لوگ ہمیں زیادہ پڑھیں تو ہم حوصلہ افزا حالات پا کر زیادہ لکھیں گے ورنہ ہماری کتابیں کوئی پبلشر نہیں شائع کرے گا۔ پاکستان سے باہر انگریزی میں لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی بہت ہوتی ہے او روہ شہرت بھی جلدی حاصل کر رہے ہیں لہٰذا ہمیں بھی اپنے لکھاریوں کی اسی طرح حوصلہ افزائی کرنا چاہئے اگر ہمیں ادب کو فروغ دینا ہے تو اس کے لئے زمان و مکان ، زبان اور شہرت منافقانہ طرز فکر سے مبرا ہونا پڑے گا۔

بشکریہ انٹرویو شاہین ملک