room no 9

کمرہ نمبر 9

EjazNews

سائوتھ ویلز بلندی پر واقع سر سبز اور پر رونق قصبہ تھا۔ یہاں کچھ تفریح کے مقامات تھے۔ اس لئے مختلف جگہوں سے لوگ یہاں آتے اور اس کی سیر سے لطف اندوز ہوتے یہاں ایک چھوٹا سا ریلوے اسٹیشن تھا۔ جہاں گاڑی چند منٹ کے لئے رکتی اور پھر اپنے سفر پر روانہ ہو جاتی۔

شام رخت سفر باندھ رہی تھی۔ سورج مغرب کی آغوش میں سمٹ چکا تھا۔ گلیوں میں گاڑھا گاڑھا دھند کا غبار پھیلا ہوا تھا۔ ریلوے اسٹیشن پر ایک ریل گاڑی رکی اور اس میں سے ایک شخص نیچے اترا یہ ایک جوان العمر اور خوش شکل آدمی تھی۔ صحت بھی بری نہیں تھی نکلتا ہوا قد تھا۔۔۔بار بار اپنے شانوں کو اس طرح جنبش دیتا تھا۔ جیسے اسے خدشہ ہو کہ اس کا کوٹ شانو ں سے ڈھلک کر نیچے آجائے گا لگتا تھا یہ اس کی پرانی عادت ہے کیونکہ و ہ کم از کم ہر دو منٹ کے بعد اپنے شانوں کو اسی طرح جنبش دیتا تھا۔

سردی کی وجہ سے اس نے اوور کوٹ کے کالر کھڑے کر لئے تھے۔
اس نے اسٹیشن ماسٹر سے کہا۔
کیا آپ مجھے کسی ہوٹل کا پتہ بتا سکتے ہیں۔ دراصل میں اس قصبے میں نو وارد ہوں۔
آپ اس سڑک سے سیدھے چلے جائیں ،پہلے ہی دائیں موڑ پر پولیس اسٹیشن سے آگے ایک ہوٹل ہے۔ شکر یہ اس نے مسکراتے ہوئے کہا اور اپنا سامان اٹھا کر آگے بڑھ گیا۔

سردی بپھری ہوئی تھی، جسم تھر تھرا رہا تھا ،ہوا میں تیزی اور کاٹ تھی وہ تھر تھراتی کہر کی دھند میں لپٹا آگے بڑھتا رہا۔
ہوٹل کی عمارت پرانی وضع قطع کی تھی اور بورڈ پر بڑے حرفوں میں ہوٹل بلومون لکھا تھا۔ ہوٹل کے ارد گرد اکا دکا مکان نظر آرہے تھے۔ وہ سیڑھیاں چڑھتا ہوا اندر داخل ہوگیا ۔
کائونٹر پر ایک پستہ قد گھٹے جسم کا ادھیڑ عمر کا آدمی کھڑا تھا جی جناب فرمائیے۔
جی مجھے دو دن کے لئے ایک کمرے کی ضرورت ہے۔ اس نے اپنا سامان رکھتے ہوئے کہا
بالائی منزل کا کمرہ نمبر 9آپ کو مل جائے گا۔ مگر آپ کو پانچ سو روپے پیشگی جمع کرانے ہونگے۔
جی بہت بہتر ۔ یہ کہہ کر اس نے جیب سے پھولا ہوا بٹوا نکال اور پانچ سو روپے نکال کر اس کے حوالے کر دئیے۔ پستہ قد شخص نے نوٹوں سے بھرا ہوا بٹوا دیکھا تو اس کی آنکھوں میں چمک پیدا ہو گئی اور اس نے نہایت نرم لہجے میں کہا۔ آئیے ! میں آپ کو کمرہ دکھائوں۔
بالائی منزل پر تین کمرے قطار میں تھے۔ کمرہ کافی صاف ستھرا اور کشادہ تھا۔ درمیان میں ایک پرانے طرز کا پلنگ پڑا تھا۔ اس کے برابر میں میز پر ٹیلی فون ، جگ گلاس اور لیمپ رکھے تھے ۔ کونے میں چھوٹا سا آتش ان تھا۔ جس میں تازی لکڑیاں پڑی ہوئی تھیں ۔ اس کے برابر میں غسل خانہ تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  وزیر چکما کھا گیا

اگر کسی چیز کی ضرورت ہو تو یہ بیل بجا دیجئے گا فوراً نوکر حاضر ہو جائے گا۔
اچھا ابھی تو فی الحال مجھے آرام کرنا ہے۔ نوجوان نے کہا۔
اور پستہ قد دوڑتا ہوا واپس روانہ ہو گیا ۔ غسل وغیرہ سے فارغ ہو کر اس نے کھانا کھایا اور اسے خلاف معمولی نیندستانے لگی وہ روزانہ نیند کے لئے ٹیبلٹ لیا کرتاتھا مگر نجانے کیوں نیند اس پر ہوا چاہتی تھی، لہٰذا وہ جلد ہی پلنگ پر دراز ہوگیا۔
رات کا نجانے کون سا پہر تھا جب اس کی آنکھ کھلی چاند کی چاندنی کھڑکی سے چھن چھن کر اندر آرہی تھی۔ اس کا سر چکرا رہا تھا۔
اس نے اٹھ کر میز سے گلاس اور جگ اٹھایا اور میز پر بیٹھے بیٹھے پانی پینے لگا ابھی اس نے ایک گھونٹ پیا ہوگا کہ اسے ایک دھماکا سنائی دیا اس نے مڑ کر پلنگ کی طرف دیکھا اور شدد رہ گیا کیونکہ پلنگ کے بیچ میں خلا ہو گیا تھا اور اس کے تختے دروازے کے پٹ کی طرح نیچے کھلے ہوئے تھے۔ اس نے نیچے جھانک کر دیکھا اور اس کی ریڑھ کی ہڈی سے سرد لہر دوڑ گئی۔ کیونکہ نیچے انگارے دہک رہے تھے۔ وہ تو دست قدرت کا دخل تھا کہ وہ عین وقت پر وہاں سے ہٹ چکا تھا۔ ورنہ گدے کے ساتھ وہ بھی اب تک پک چکا ہوتا۔
اتنے میں کسی کے سیڑھیاں چڑھنے کی آواز سنائی دی وہ جلدی سے دروازے کی اوٹ میں ہوگیا۔ دروازہ آہستہ آہستہ کھلنے لگا اور دوآدمی اندر داخل ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں:  شہزادے قمر الزمان اور ملکہ بدور کی واپسی

اس نے برق رفتاری سے لمپ کو روشن کر دیا اور ان پر ٹوٹ پڑا وہ اس کی اچانک افتاد سے بوکھلا گئے اور ایک بوکھلاہٹ اس کے زندہ رہنے کی بھی تھی ۔ اس نے دونوں کو مکوں اور لاتوں پر اٹھائے رکھا اور وہ دونوں کو پہچان چکا تھا۔ ایک تو پستہ قد تھا اور دوسرا اسٹیشن ماسٹر تھا دونوں جلد کسی تھکے ہوئے گدھے کی طرح ہانپنے لگے۔ اس نے جلدی سے پستول نکال کر ان پر تان لیا اور کہا اگر ذرا بھی گڑ بڑ کی تو پستول کی گولی تمہیں چیرتی ہوئی نکل جائے گی۔ سمجھے۔

اور وہ دونوں آنکھیں پھاڑے حیرت سے اسے دیکھ رہے تھے۔ اس نے اپنے بیگ سے ر سی نکالی اور دونوں کو باندھنے لگے۔
لگتا ہے آج صبح ہی صبح تم نے ایک دوسرے کا منہ دیکھ لیا ہوگا جب ہی آج اپنی کم بختی کی وجہ سے پولیس کے ہتھے چڑھ گئے۔
ہماری پولیس کافی عرصے سے لوگوں کے غائب ہونے پر پریشان تھی ۔ کتنے ہی پولیس والے بھی تمہارے اس گھنائونے منصوبے کا شکار ہوئے، شاید میں آج نہ بچتا خیر۔ تم دونو ں نے اچھا سوانگ رچایا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  قاہرہ کا سوداگر

انسپکٹر ہمیں معاف کر دو۔۔۔سب کچھ لے لو جتنا مال ہم نے لوٹا ہے سب لے لو خدا کے واسطے ہمیں چھوڑ دو۔
مگر انسپکٹر تھا نے میں فو ن کر چکا تھا۔

کیٹاگری میں : بچے