baldia factory

جے آئی ٹی نے سانحہ بلدیہ ٹاﺅن سے متعلق کیا سفارشات کیں تھیں؟

EjazNews

1۔ فیکٹری میں آتشزدگی کوئی حادثہ نہیں تھا بلکہ منصوبہ بندی کے تحت آگ لگائی گی جو تخریب کاری تھی اور جو فیکٹری مالکان کی جانب سے ایم کیو ایم کے رحمن بھولا اور حماد صدیقی کو 20 کروڑ روپے بھتہ اور منافع میں حصہ دار نہ بنانے پر لگائی گئی۔

2۔ واقعہ سے غیر ذمہ دارانہ طریقے سے نمٹا گیا اور کسی فائدے کے لیے اسے اس طرح ہینڈل کیا گیا جس سے متاثرین کے بجائے مجرمان کو فائدہ پہنچا، واقعہ کے مقدمے کا اندراج اور تحقیقات ناصرف بدنیتی پر مبنی تھی بلکہ اندرونی و بیرونی سطح پر اسے شدید دباو کا بھی سامنا تھا، ایف آئی آر میں واقعہ کو پہلے ایک عام قتل کی طرح پیش کیا گیا پھر حادثے کی شکل دے دی گئی، جبکہ اس میں بھی اصل مجرمان کی بجائے فیکٹری مالکان اور اس کی انتظامیہ کو شامل کیا گیا۔

واقعہ کی جس طرح تحقیقات کی گئی اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس زیر اثر تھی، اس لیے مقدمے اور پہلی تحقیقات میں کہیں بھتے کا ذکر نہیں کیا گیا، حالانکہ جے آئی ٹی کا ماننا ہے کہ یہی اس دردناک واقعے کی بنیادی وجہ تھی۔

یہ بھی پڑھیں:  سابق صدرآصف زرداری کی درخواست پر عدالت نے میڈیکل بورڈ بنادیا

3۔ تحقیقاٹی ٹیم کی طرف سے ریاست سے 2012 کی ایف آئی آر واپس لیتے ہوئے تعزیرات پاکستان اور انسداد دہشت گردی قانون کی متعلقہ شقوں کے تحت رحمن بھولا، حماد صدیقی، زبیر عرف چریا، زبیر کے چار نامعلوم ساتھیوں، عمر حسان قادری، ڈاکٹر عبدالستار، علی حسان قادری اور اقبال ادیب خانم کے خلاف نیا مقدمہ درج کرنے کی سفارش کی گئی۔

4۔ تحقیقاتی ٹیم نے محمد زبیر سے واقعہ میں اس کے کردار کے متعلق تحقیقات کی کوشش کی کیونکہ تمام شواہد واقعہ میں اس کے ملوث ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہیں، اس سلسلے میں جے آئی ٹی نے سعودی عرب میں موجود محمد زبیر کے والد محمد نذیر کو تحقیقات کا حصہ بننے کی پیشکش کی لیکن انہوں نے انکار کردیا، تحقیقات میں مزید پیشرفت کا محمد زبیر سے تفتیش پر بہت انحصار ہے جو پہلے ہی ملک سے فرار ہے اور اس کے پاسپورٹ کی منسوخی لے لیے ڈی جی امیگریشن اینڈ پاسپورٹ کو تین خطوط بھی لکھے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  اپوزیشن لیڈر اورسابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کوبھی کرونا ہوگیا

5۔ رپورٹ میں محمد زبیر کو ملک واپس لانے اور گرفتار کرنے کی سفارش کی گئی۔
6۔ تمام مفرور ملزمان کے پاسپورٹ منسوخ کرنے اور ان کے نام فوری طور پر ای سی ایل میں ڈالے کی سفارش کی گئی۔
7۔ کیس کے تمام گواہان کو متعلق قانون کے تحت تحفظ فراہم کرنے کی بھی سفارش کی گئی۔
8۔ بھتے کی رقم سے حیدر آباد میں خریدی گئی جائیداد قانونی طریقے سے فیکٹری مالکان کو منتقل کرنے کی سفارش کی گئی۔