health+home

عام بیماریوں سے بچائو کی گھریلو تدابیر

EjazNews

کسی علاقے یا گھر میں اگر گندے پانی کی نکاسی کا مناسب انتظام نہ ہو، گھروں، گلیوں اور بازاروں میں کوڑے کرکٹ کے ڈھیر ہوں، مکھیوں ، لال بیگ اور چوہوں کی ہر طرف یلغار ہو تو بیماریوں کا پھیلنا ایک لازمی سی بات ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دیہات یا شہروں کی کچی آبادیوں اور کم آمدنی والے لوگوں کے محلوں میں ملیریا، نزلہ، زکام ، اسہال، موسمی بخار اور روز مرہ کی دوسری بیماریاں اکثر بیمار کی جان لے کر ہی ٹلتی ہیں۔ اس افسوسناک صورتحال سے بچنے کے لئے اول تو ہمیں ا پنے ماحول ، ارد گرد کے علاقے اور گھر کو صاف ستھرا رکھنے کی پوری کوشش کرنی چاہئے۔ بیماریوں اور ان سے ہونے والی ہلاکتوں سے محفوظ رہا جاسکتا ہے، بشرطیکہ ہم حفظان صحت کے اصولوں پر عمل کریں، ماحول کو آلودگی سے بچائیں اور متوازن غذااستعمال کریں۔

ملیریا:
ملیرا کسی بھی ایسے بڑے یا بچے کو ہو سکتا ہے جسے ملیریا کے مچھر نے کاٹ لیا ہو۔ مچھر چونکہ گندی نالیوں ، گندے پانی کے جوہڑوں اور برساتی پانی کے تالابوں پر پرورش پاتے ہیں اس لئے ملیریا سے بچائو کے لئے گھر اور اس کے ارد گرد کے ما حول کی صفائی کا خاص خیال رکھا جا ئے۔

ملیریا کے مریضوں کو ہونے والا تیز بخار، شدید درد ا ور ہذیانی کیفیت کے علاوہ مریض کے جسم میں دوسری بہت سی پیچیدگیاں بھی پیدا کر دیتا ہے، جن میں خون کی شدید کمی سے لے کر گردوں کا ناکارہ ہو جانا اور تلی کا پھٹ جانا بھی شامل ہے۔

آپ کے گھر میں اگر کسی کو سردی لگ کر تیز بخار ، شدید درد اور ہذیانی کیفیت کے علاوہ مریض کے جسم میں دوسری بہت سی پیچیدگیاں بھی پیدا کر دیتا ہے جن میں خون کی شدید کمی سے لے کر گردوں کا ناکارہ ہوجانا اور تلی کا پھٹ جانا بھی شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  صحت اور زندگی سے بھرپور مستقبل

آپ کے گھر میں اگر کسی کو سردی لگ کر تیز بخار چڑھے، ہذیاتی کیفیت طاری ہو جائے، سر میں شدید درد کے ساتھ پیٹ میں بھی درد ہو، الٹیاں ہو رہی ہوں تو ڈاکٹر سے فوراً رابطہ کریں اور طبی امداد کے ملنے تک مریض کا بخار زیادہ نہ بڑھنے دیں۔ اس کے لئے مریض کے سر پر برف کی پٹیاں رکھیں اور ٹھنڈے پانی سے بدن کی مالش کریں اور فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

کالی کھانسی:
یہ چھوٹ کی ایک نہایت بری بیماری ہے اور عموماً چھوٹے بچوں کو ہوتی ہے۔ کالی کھانسی کا علاج کا اگر فوراً نہ کروایا جائے تو بچوں کو تشنج کے دورے پڑنے لگتے ہیں، نمونیہ بھی ہو جاتا جس کے بعد بچے کا بچنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ اس لئے چھوٹے بچوں کو کالی کھانسی کے حفاظتی ٹیکے لگوانے چائیں اور مریض بچے کو گھر کے دوسرے بچوں کے ساتھ قطعاً رابطے میں نہ آنے دیں۔

نزلہ اور زکام:
نزلے اور زکام کے جراثیم بھی مریض سے دوسرے لوگوں کو فوراً لگ جاتے ہیں۔ یہ جراثیم سانس کے ذریعے منتقل ہوتے اور مریض کا استعمال شدہ تولیہ، لباس اور بستر وغیرہ کے استعمال کے ذریعے بھی لگ جاتے ہیں۔ نزلہ کے جراثیم ہاتھ ملانے سے اور چیزوں کو چھونے سے بھی دوسروں کو منتقل ہو جاتے ہیں۔ اس لئے درج ذیل احتیاطی تدابیر ضروری ہیں۔
مریض کے استعمال میں جو بستر، چادر ، تکیہ یا تولیہ ہے، اسے کوئی دوسرا استعمال نہ کرے۔
جس کمرے میں نزلے کا مریض سوئے یا آرام کرے اس کی کھڑکیاں کھلی رکھنی چاہئیں اور کوشش کرنی چائے کہ کوئی دوسرا اس کے قریب نہ سوئے یا اس کے برابر نہ بیٹھے۔
نزلہ و زکام کے مریض اپنے ہاتھ کو گرم پانی اور صابن سے اچھی طرح دھوئی اور پھر کسی تولیہ یا کپڑے سے خشک کریں۔
آرام کریں اور گرم یخنی ، جو شاندہ اور دار چینی کی چائے وغیرہ استعمال کریں۔ ثقیل کھانے سے پرہیز کریں۔

یہ بھی پڑھیں:  جذام ۔جلد اور اعصاب متاثر کرنے والامرض (طبی معلومات)

اسہال:
دنیا بھر میں ہر سال اسہال کی بیماری سے ہزاروں بچے ہلاک ہو جاتے ہیں یہ ایک ایسی بیماری ہے جس کا علاج اور جس سے بچائو دونوں یہ ممکن ہیں۔ اسہال وہ اجا بت ہے جو 24گھنٹوں میں تین سے زیادہ ہوں۔ بعض اوقات اس کے ساتھ ہی الٹی، بخار، پیٹ میں مروڑ اور جس ٹوٹنے کی شکایت بھی ہوتی ہے۔
دستوں سے بچائو کے لئے ضروری ہے کہ پانی ابال کر استعمال کیا جائے ۔ کھانے پینے کی چیزیں اچھی طرح ڈھک کر رکھی جائیں تاکہ ان پر مکھیاں نہ بیٹھیں۔ کچی سبزیاں اور پھل دھو کر استعمال کئے جائیں، کھانا ہمیشہ گرم کر کے کھایا جائے اور اس سے بھی زیادہ بہتر یہ ہے کہ تازہ کھانا کھایا جائے۔ بچے ہوں یا بڑے ، اسہال شروع ہوتے ہی نمکول کا استعمال شروع کر دینا چاہئے۔

نمکول بنانے کا طریقہ:
نمکول تیار حالت میں کسی بھی میڈیکل سٹور سے مل سکتا ہے ، تاہم اگر تیار نمکول دستیاب نہ ہو تو اسے گھر پر بھی تیار کیا جاسکتا ہے۔ گھر پر نمکول درج ذیل ترکیب کے مطابق تیار کیا جاسکتا ہے۔
ایک لیٹر یا چار گلاس پانی ابالنے کے بعد ٹھنڈا کر کے اس میں آٹھ چائے کے چمچ چینی ڈال دیں۔ پھر اس میں ایک چمچ نمک اور ایک چٹکی میٹھا سوڈا اورذائقے کے لئے (اگر دستیاب ہو تو) ایک لیموں یا کینو کا رس ڈال دیں۔ ان کو اچھی طرح مکس کر کے مریض کو وقفے وقفے سے پلاتے رہیں۔ چوبیس گھنٹو ں کے دوران یہ پانی ختم کر دیں۔ ا گر کسی وجہ سے ختم نہ ہو تو پھر دوسری مرتبہ پلانے کے لئے نیا نمکول بنائیں۔

یہ بھی پڑھیں:  جدید ٹیکنالوجی کے بے جا استعمال سے گردن اور ریڑھ کی ہڈی کے بڑھتے مسائل

یرقان:
اگر گھر میں کسی کو یرقان ہو جائے یا یرقان کا مرض پھیلا ہو تو اس بچائو کی تراکیب اختیار کی جائیں۔ درج ذیل حفاظتی تراکیب پر عمل کر کے آپ نہ صرف خود کو بلکہ اپنے اہل خانہ کو بھی اس مرض سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

پینے کے پانی کو ابال کر پینا چاہئے۔ پانی ابالنے سے یرقان کے جراثیم ہلاک ہو جاتے ہیں۔
بازاری اشیاء آلو چھولے، دہی بڑے ، گنے کا رس وغیرہ استعمال کرنے سے پرہیز کریں، کیونکہ یہ چیزیں عموماً مکھیوں کے بیٹھنے سے آلودہ ہو چکی ہوتی ہیں۔
بازاری اشیاء آلو چھوٹے، دہی بڑے، گنے کا رس وغیرہ استعمال کرنے سے پرہی کریں، کیونکہ یہ چیزیں عموماً مکھیوں کے بیٹھنے سے آلودہ ہو چکی ہوتی ہیں۔
اجابت سے فارغ ہو نے کے بعد، کھانا پکانے اور کھانا کھانے سے پہلے ہاتھ صابن سے اچھی طرح دھو لیں۔
تمام سبزیاں اور پھل استعمال سے پہلے اچھی طرح دھو لیں۔

معمولی بیماریوں مثلاً نزلہ، زکام، کھانسی ، بخار وغیرہ جن میں انجکشن لگانا ضروری ہو وہاں اس بات کا خیا ل رکھنا چاہئے کہ ہر بار نئی سرنج استعمال کی جائے۔
اگر کسی شخص کو خون کی ضرورت ہو تو خون دینے سے پہلے یہ اطمینان کر لیں کہ دیا جانے والا خون یرقان کے وائرس سے پاک ہے۔

اگر گھر میں کسی کو یرقان ہو جائے:

مریض اور اس کے زیر استعمال چیزوں کو چھونے کے بعد اچھی طرح ہاتھ دھوئیں۔
مریض کے ذاتی استعمال کی اشیاء مثلاً صابن، تھرما میٹر، تولیہ، گلاس، پلیٹ، چمچ وغیرہ کوئی دوسا فرد استعمال نہ کرے۔ مریض کے استعمال شدہ برتنوں کو فوراً اچھی طرح دھو کر انہیں اچھی طرح دھوپ میں خشک کر لیا جائے۔
ازدواجی تعلقات میں احتیاط برتی جائے۔

کیٹاگری میں : صحت