animal jungle

نمک کا تھیلا

EjazNews

ایک مرتبہ شیر، چیتا، زیبرا، سانپ، سارس اور ریچھ نے ایک جگہ اکٹھے ہو کر ادھر ادھر کی باتیں کیں، باتیں کرنے کے بعد وہ پانی پینے کے لئے ندی کی طرف روانہ ہو گئے۔ راستے میں شیر کی نظر کسی چیز پر پڑی وہ ایک چھوٹا سا تھیلا تھا جو زمین پر پڑا تھا۔
وہ دیکھو ایک تھیلا، شیر نے کہا۔

چیتے نے اس تھیلے کو دیکھ کر کہا نمک کی خوشبو معلوم ہوتی ہے۔
ریچھ نے تھیلے کو کھولنے کی کوشش کی مگر وہ کامیاب نہیں ہو سکا۔
سارس کو اپنی لمبی چونچ سے سوراخ کردینا چاہئے، زیبر ے نے کہا۔
سارس نے تھیلے میں سوراخ کر دیا اور تب سانپ نے آگے بڑھ کر نمک کا مزہ چکھا اور کہا ، یشک یہ نمک ہی ہے۔
اس کے بعد ان سب نے نمک چکھا ، کیونکہ جنگل میں نمک کہیں نہیں ملتا تھا اس لئے وہ اسے پا کر بہت خوش ہوئے اور انہوں نے سوچا کہ اب روز نمک کا مزہ چکھا کریں گے۔ سب سے پہلے شیر نے دھاڑ کر کہا۔

یہ بھی پڑھیں:  سند باد کا چوتھا سفر

نمک میرا ہے کیونکہ میں نے اسے سب سے پہلے دیکھا ہے۔
نہیں یہ میرا ہے کیونکہ میں نے سونگھ کر بتایا تھا کہ اس میں نمک ہے۔
چیتے نے شیر کو غصے سے گھورتے ہوئے کہا۔
لیکن بھئی یہ میرا کیوں نہیں ہے؟۔ ریچھ نے ہنستے ہوئے کہا۔ کیا میں نے تھیلا کھولنے کی کوشش نہیں کی تھی؟۔
مگر تم ناکام رہے تھے ؟۔ زیبرے نے کہا ۔ جناب یہ میں تھا جس نے سارس سے تھیلے میں سورا خ کرنے کو کہا تھا۔ اس لئے نمک میرا ہے۔
اوہو۔۔۔۔سوراخ میں نے کیا اور مالک آپ بن رہے ہیں؟ ۔ سارس نے کہا نمک میرا ہے اور صرف میراہے۔

نہیں نہیں! سانپ نے پھنکار مارتے ہوئے کہا میں نے نمک کا ذائقہ چکھ کر بتایا تھا اور اگر تم میں سے کسی نے بھی گڑ بڑ کرنے کی کوشش کی تو میں اس کو ڈس کر ختم کر دوں گا۔
اس کے بعد ان جانوروں کی آپس میں لڑائی ہونے لگی اور کسی طرح ختم ہونے میں نہ آئی۔تو اتفاق سے ادھر ایک گیدڑ آنکلا اور اس نے ان سے پورا واقعہ پوچھا شیر نے شروع سے آخر تک پوری کہانی سنا دی۔

یہ بھی پڑھیں:  ایک نو عمر شکاری کی رحم دلی

گیدڑ نے خاموشی سے قصہ سنا اور پھر کہا۔
دیکھو بھائیو! میں ایک ترکیب بتاتا ہوں اور وہ یہ کہ تم سب آنکھیں بند کر کھڑے ہو جائو اور سو تک گنتی گنو۔ اتنی دیر میں میں تھیلے کو چھپادوں گا پھر جو سب سے پہلے اسے تلاش کرے گا بس وہی اس کا مالک ہوگا۔

یہ سن کر سب جانور راضی ہو گئے اور انہوں نے آنکھیں بند کر لیں سو تک گنتی گننے کے بعد انہوں نے آنکھیں کھولیں اور تھیلا تلاش کرنا شروع کر دیا مگر تھیلے کو نہ ملنا تھا نہ ملا۔ آخر وہ تھک گئے اور انہوں نے گیدڑ کو آوازیں دینا شروع کر دیں تاکہ اسی سے تھیلے کا پتا معلوم کر کے ڈھونڈیں۔
مگر گید ڑ وہاں کہاں تھا؟ وہ تو اپنی کھوہ میں بیٹھا ہوا نمک کے چٹخارے لے رہا تھا اور جنگل کے چھ بڑے بے وقوفوں کامذاق اڑا رہا تھا وہ کہہ رہا تھا۔
اگر وہ جانور اتفاق کر لیتے اور نمک کے چھ برابر حصے کر لیتے تو نمک سے ہاتھ نہ دھوتے اور اگر مجھ کو جج نہ بناتے تو میں ان کے پورے نمک پر قبضہ کیسے کرتا۔
ادھر ان چھ بڑوں نے ارادہ کیا کہ اگر گیدڑ کبھی ان کے سامنے آگیا تو وہ اس کو زندہ نہیں چھوڑیں گے مگر گیدڑ بعد میں کبھی ان کے سامنے نہیں آیا اور وہ نمک کی خواہش اپنے دل میں لئے اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔

یہ بھی پڑھیں:  انبیاء علیہ السلام کا بچپن
کیٹاگری میں : بچے