لگتا ہے کراچی کی سنی گئی ہے

EjazNews

پیپلزپارٹی، تحریک انصاف اور متحدہ قومی موومنٹ مل کر کراچی کی ترقی کے لیے 6 شعبوں میں تعاون کریں گے۔اس حوالے سے مذکورہ رابطہ کمیٹی کا اجلاس کراچی میں وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہوا، جہاں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، صوبائی وزرا سعید غنی اور ناصر حسین شاہ، وفاقی وزیر ترقی و منصوبہ بندی اسد عمر، وزیر برائے سمندری امور علی زیدی اور آئی ٹی اور ٹیلی کام کے وزیر امین الحق شریک ہوئے۔

شہر قائد میں نالوں اور نا جانے کن کن جگہوں کو بیچ دیا گیا ہے اور آپ غور کیجئے وہاں تمام سہولیات بھی موجود ہیں ناکافی انداز میں۔ لوگ رہ رہے ہیں مارکیٹیں بنی ہوئی ہیں لیکن کسی نے پوچھا تک بھی نہیں۔ اور ظاہر ہے ایسی جگہوں کوبیچنے کے اقدامات کوئی کمزور شخص تو کر ہی نہیں سکتا۔ یہ ایک علیحدہ بحث ہے کہ روشنیوں کے اس شہر سے روشنی کیسی چھینی جارہی ہے۔

یہ کوئی پہلی دفعہ نہیں ہوا کہ میڈیا نے کراچی کے شہریو ں کو بارشوں کے بعد سیلاب کی صورت میں گھرا ہوا دکھایا ہوا لیکن یہ پہلا دفعہ ضرور ہو رہا ہے کہ وہاں کے مسائل حل کرنے کیلئے سنجیدہ کوششیں کی جارہی ہیں۔
وفاقی ادارے بذات خود کراچی میں سیوریج کے نظام کی بہترین کیلئے کوششیں کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  قوم کو وسائل نہیں اس کا اعتماد آگے لے کر جاتا ہے: وزیراعظم عمران خان

اگر کراچی کے مسائل حل کر دیا جائے تو یہ شہر اس وقت سے دو گنا زیادہ تیزرفتاری سے آگے بڑھے گا ۔
وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا ہے کہ شہر قائد میں بے انتہا مسائل ہیں جن کے حل کیلئے سنجیدہ اقدامات کر رہے ہیں اور وفاقی منصوبوں پر تیز کام کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ٹرانسپورٹ، واٹر، سیوریج، سالڈ ویسٹ، اسٹرام ڈرین اورسڑکوں کی تعمیر پر ترجیحی بنیادوںپر کام ہوگا۔
اب سب سے اہم مسئلہ جو اٹھے گا وہ ہوگا ناجائز تجاوزات کاکہ وہاں پر نسل در نسل رہائش پذیر لوگوں کو کیسے ہٹایا جائے ۔ اس کے لیے شنید ہے کہ ان کو متبادل جگہ دی جائے گی۔ اگر ان کو متبادل جگہ دے کر اٹھایا جائے تو یہ ایک احسن اقدام ہوگا۔

سندھ کے وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ کا کہنا ہے ایسی جگہیں جو تجاوزات میں آتی ہیں اور وہاں پر رہائش پذیر لوگ ہیں انہیں متبادل جگہ دی جائے گی۔
وفاقی وزیر علی زیدی کا کہنا تھا کہ شہر قائد کے ساتھ ہمیشہ سیاست کی گئی ہےے۔ جبکہ مسائل کے حل کیلئے وزیراعظم عمران خان سنجیدہ کوششیں کر رہے ہیں۔جبکہ ان کی ہدایات کے مطابق وہ مسائل حل کرن ے کیلئے کوشاں ہیں۔
تینوں جماعتوں کے مشترکہ اجلاس کے بعد امید کی کرن اجاگر ہو رہی ہے کہ کراچی کے مسائل حل ہونے کی جانب بڑھیں گے۔ اورہم امید کرتے ہیں یہ مسائل حل ہوں کیونکہ کراچی کے مسائل حل ہونا ہی پورے پاکستان کیلئے فائدہ مند ثابت ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان اور ایران کے درمیان بارڈر مارکیٹ کے قیام کا آغاز

اپنا تبصرہ بھیجیں