24 news

24نیوز کا معاملہ آخر ہے کیا؟

EjazNews

3 جولائی کو پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی نے قانون کی مبینہ خلاف ورزی پر چینل 24نیوز کا لائسنس معطل کردیا تھا۔پیمرا سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ سینٹرل میڈیا نیٹ ورک پرائیوٹ لمیٹڈ کمپنی جاری شدہ لائسنس کے تحت ویلیو ٹی وی چینل پر انٹرٹینمنٹ سے متعلق مواد چلانے کی مجاز تھی، تاہم وہ تمام قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر 24نیوز کے نام سے نیوز اور حالات حاضرہ پر مبنی مواد نشر کر رہی تھی۔ کمپنی کو بارہا منع کرنے اور متعدد نوٹسز کے باوجود غیر قانونی طور پر نیوز اور حالات حاضرہ سے متعلق پروگرامز کی نشریات جاری رکھی۔
پیمرا نے کہا تھا کہ اس کی جانب سے سینٹرل میڈیا نیٹ ورک پرائیوٹ لمیٹڈ کمپنی کو 7 مئی 2020 کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا گیا تھا جس کے تحت کمپنی کو نیوز و کرنٹ افیئرز مواد کو فوری بند کرنے اور منظور شدہ انٹرٹینمنٹ مواد نشر کرنے کے احکامات جاری کیے گئے تھے۔تاہم کئی مواقع فراہم کرنے کے باوجود چینل انتظامیہ پیمرا کے احکامات پر عملدرآمد میں ناکام رہی۔ کمپنی کو جاری لائسنس اس وقت تک معطل کیا جارہا ہے جب تک وہ اپنی نشریات منظور شدہ پروگرامنگ مکس کے مطابق چلانے کی یقین دہانی نہیں کراتی۔
چینل 24 نیوز نے لائسنس معطلی کو آزادی صحافت پر وار قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ لائسنس کی کیٹگری پر اعتراض کے حوالے سے چینل کے موقف کو نظر انداز کر کے یکطرفہ کارروائی کی گئی۔چینل انتظامیہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ چیئرمین پیمرا نے لائسنس معطلی کا اختیار نہ ہونے کے باوجود معطلی کا حکم جاری کیا۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے سٹی نیوز نیٹ ورک کی جانب سے پیمرا کے اقدامات کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی۔درخواست میں سٹی نیوز نیٹ ورک نے وفاقی حکومت اور پیمرا کو فریق بنایا تھا، ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ پیمرا نے مو¿قف سنے بغیر لائسنس معطل کیا جو غیرقانونی اقدام ہے۔ساتھ ہی یہ بھی استدعا کی گئی کہ لاہو ہائی کورٹ چینل 24 کا لائسنس بحال کرنے کا حکم دے۔
پیمرا کے وکیل کی جانب سے مذکورہ اپیل کی بھرپور مخالفت کی گئی اور کہا گیا کہ سٹی نیوز نیٹ ورک کی درخواست لاہور ہائیکورٹ میں ناقابل سماعت ہے۔ چینل 24 نیوز کے خلاف ساری کارروائی اسلام آباد میں ہوئی ہے، سٹی نیوز نیٹ کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرنا چاہیے تھا۔
جس پر جسٹس ساجد محمود نے 24 نیوز کا لائسنس بحال کرنے کا حکم دیتے ہوئے پیمرا کی حکم امتناع کی استدعا بھی مسترد کردی۔ساتھ ہی عدالت نے پیمرا کا حکم نامہ معطل کرتے ہوئے وفاقی حکومت اور پیمرا کو نوٹس جاری کردئیے، ساتھ ہی ان فریقین سے کل جواب طلب کرتے ہوئے روزانہ کی بنیاد پر سماعت کا فیصلہ کرلیا۔

یہ بھی پڑھیں:  عمر اکمل پر تین سال کیلئے کسی بھی قسم کی کرکٹ کھیلنے پر پابندی عائد

اپنا تبصرہ بھیجیں