spy

کھانے کے شوقین جاسوسی کردار

EjazNews

امریکی اور مغربی جاسوس نگاروں کے کردار کھانا کھانے کے شوقین تو تھے ہی انہیں بے شمار ریسی پیز از بر یاد تھیں۔ ایک ناول نگار نے اپنی متعدد کتابوں میں کھانا پکانے کی ترکیبوں کی اہمیت کو پروان چڑھایا۔ آگاسٹا کرسٹی کے نام سے کون واقف نہیں اس کا ایک معروف کردار ہر کول پولو (Hercule Poirot) ہے۔ یہ کردار اس کے 30ناولوں اور جاسوسی کہانیوں کا مرکزی کر دار ہے۔ 1920سے 1975ءکے عرصے میں لکھے جانے والے ہر جاسوسی ناول میں یہی کر دار چھایا ہوا نظر آتا ہے۔ آگاسٹا کرسٹی کا یہ کردار کھانے پینے کا شوقین ہے اور کھانے بھی ایسے بناتا ہے جیسے جرائم کی دنیا کی کوئی گھتی سلجھا رہا ہو۔ دروتھوسیز(Dorothy Sayers)ایک اہم جاسوسی ناول نگا رہے۔ اس کا جاسوسی کردار لارڈ پیٹے برسٹے ہے۔ یہ شخص منہ میں سونے کا چمچ لے کر پیدا ہوا ۔دولت کا خزانہ اس کی ملکیت میں تھا ۔بقول پروفیسر مشی گن یونیورسٹی مولی فرئیر (Mollie Freier) ایک مرتبہ دروتھی سیز نے کہا تھا وہ رئیس گھرانے سے تعلق نہیں رکھتی، ایک عام سے گھرانے کی چشم و چراغ ہے۔اس لیے اس نے اپنی تمام تر خواہشات کو کروڑ پتی کرد ار ویمسی کی شکل میں تخلیق کیا ہے۔ جو اخراجات ہوئے وہ خود نہیں کر سکتی وہ اس کر دار کے ذریعے سے ناول میں کرواتی ہے۔ اس کے جاسوسی کے کردار بالخصوص ویمسے(Wimsey) ہر وقت مشروبات اور خوراک کی خریداری میں لگا رہتا ہے۔ کبھی ناشتے کی میز پر تو کبھی کسی مہنگے کلب میں لنچ کرتا دکھائی دیتا ہے۔ ہائی ٹی کا رسیا ہے اور ڈنر وہ تو کسی عالی شان ہوٹل کی مہنگی سی میز پر کرتا ہے۔ اس نے اپنے یہ دونوں کردار پورے اور ویمسی 1920کی دہائی میں تخلیق کیے اور 1930ءمیں بھی ان ہی کرداروں سے اپنی محرومیوں کا احساس مٹایا۔ان 20-30سالوں میں اسے دولت تو مل گئی مگر کرداروں کے کھانے پینے کی عادت پر کوئی فرق نہ پڑا۔ 1930ءمیں امریکہ میں بدترین معاشی بحران آیا۔ ان میں اس کے دونوں کردار پورے اور ویمسی اس معاشی بحران سے محفوظ رہے۔ وہ جرائم کی دنیا کی گھتیا سلجھاتے کبھی ایک ہوٹل میں دکھائی دیتے تو کبھی دوسرے میں کھانے پینے کا ایک اور کر دار اس کی ایک اور سیریز نیرو ولفے (NeroWolfe)سیریز میں بھی دکھائی دیا۔ حتیٰ کہ بدترین مہنگائی کے دور میں اسٹاﺅٹ نامی مصنف نے اپنی پہلی کتاب میں 1934ءمیں بھی جاسوسی کے کر داروں کو ہوٹلنگ کا شوقین بنایا۔
آپ کو یہ پڑھ کر چندہ حیرت نہیں ہونا چاہیے کہ مغربی اور امریکی جاسوسی ناولوں کے کردار جاسوسی کے ساتھ ساتھ مختلف ریسیپیا بھی پروان چڑھانے کے شوقین تھے۔ بعض کر داروں کی ریسپیامہنگے ترین ہوٹلوں کی ریسپیوں سے ملتی جلتی تھیں۔ ہم کسی ہوٹل کا نام نہیں لکھنا چاہتے۔ لیکن ہوٹلنگ کے شوقین اس بات سے باخوبی واقف ہوں گے کہ جاسوسی ناولوں کے کردار جو کھاتے ہیں یا پیتے ہیں وہ عام زندگی میں بھی ہوٹلوں میں دستیاب ہے۔ ایک جاسوسی ناول کا کر دار ہمارے شیش کباب بہت شوق سے بناتا ہی نہیں بلکہ وہ کھانے پینے کا بھی شوقین ہے۔ جیسی کے بعض ناول نگار ریسپیاں ایسے بتاتے ہیں جیسے وہ بھی جاسوسی کا کوئی کر دار ہوں انتہائی ادیبیانہ اور لٹریری انداز میں۔ان کی تحریر کا مزہ ان کی کتابوں سے ہی لیا جاسکتا ہے۔ وولفے کے کھانے پینے کا اپنا ہی انداز ہے۔ وہ کہتا ہے کسی بھی ثقافت کو سمجھنے کے لیے بس یہ جان لیجئے کہ وہاں کے لوگ کیا کھاتے اور پیتے ہیں۔ اس کی کتاب ان دی فائنل ڈیڈیکشن میں وہ یہ حتمی اعلان کرتا ہے کہ سکاﺅٹ ہمیں بتاتا ہے کہ وولفے کھانے پینے کی ٹو میں کیوں لگا رہتا ہے وہ جانتا ہے کہ کسی بھی تہذیب اور ثقافت کی باریکیوں کو سمجھنے کے لیے ان کی خوراک کا پتہ چلانا ضروری ہے۔ جس کی مدد سے وہاں کی ثقافت اور سیاست کو بھی جانچا جا سکتا ہے ۔سیاسی ڈھانچے کا سراغ لگانا مشکل نہیں۔ وولفے مغربی کوزین پکانے کا بھی شوقین ہے۔ مجرم کی تلاش میں وولفے نگری نگری مارا مارا پھرتا ہے۔ برازیلین لاسٹر سلاب سے لے کر امریکی شاد فش بھی اس کے کرداروں میں ملے گی۔ حتیٰ کہ ہمارے شیش کباب کی ریسی پی اس نے اپنی کتاب دی فادر ہنٹ میں بڑی تفصیل سے لکھی ہے۔ انہی شیش کبابوں کے ذریعے سے وہ بھارت میں پائے جانے والے شیش ناگ کلچر کی تہہ تک پہنچنے میں کامیاب ہوگیا۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ شیش کباب ہی کی بدولت اس نے امریکیوں کو غیر ملکی ثقافت سے آشنا کیا۔ امریکہ کے جنوب سے لے کر شمالی حصے کی کوزین بھی اس نے امریکہ بھر میں عام کی۔ کنٹیکی ، برگو(Berugo) سے لے کر کریکو(Creolecrods) اور کریم تک کے قصے اس کی کتاب ڈیتھ آف دی ڈاکسی میں ملتے ہیں۔ حتیٰ کہ اس نے (Sanremp)سان ریمو سے تعلق رکھنے والے ایک شیف کا ذکر بھی اپنی کتاب میں کیا ہے۔ بقول مبصرین خوراک کا مطلب محض خوراک نہیں یہ کسی بھی علاقے سے تعلق رکھنے والے گروپوں کو کھا جاتا ہے۔ اگرچہ جاسوسی ناولوں کے یہ کردار مختلف قسم کی ریسپیاں بیان کرتے ہیں لیکن وہ خود خوش خوراک ہونے کے باوجود ہر کسی ڈش کو ہاتھ نہیں لگاتے کھانے پینے میں نہایت چوزی ہیں۔ پوائیرو (Pioro) لذیذ یورپی ڈشوں کا دلدادہ ہے۔ گرم چیز خاص طریقے سے بنائے گئے آملیٹ اس کے ہر ناشتے میں لازمی ہوتے ہیں۔ اسے دیگر انگریزی کھانے ایک آنکھ نہیں بھاتے اور چینیوں کا تو سنتے ہی خوف سے اس کی بھنویں تن جاتی ہیں اور آنکھوں کے ڈیلے باہر نکل آتے ہیں یہ میں کھاﺅں گا کیسے اسی طرح کے اثرات اس کے چہروں کی شکنوں میں صاف پڑھے جاسکتے ہیں۔ اسی طرح ایک اور کردار ویمسی بھی کھانے پینے میں قدامت پرست برطانوی طبیعت کا حامل ہے۔ایک مرتبہ اسے ایک روسی کلب میں جانے کا اتفاق ہوا۔ اس کے ارد گرد بالشویک پھیلے ہوئے تھے۔ اس سراغ رسانی کا تذکرہ اس کی کتاب کلاﺅڈز آف وٹنس ،چشم دید گواہوں کے بادل میں کیا ہے۔ لکھتا ہے بالشویکوں کے بال بڑھے ہوئے تھے۔ شیو کسی نے نہ کی تھی۔ اس نے دیکھا کہ اس کے چاروں طرف بالشویک باشندے تہر رہے ہیں سب کے بال اور دھاڑیاں بڑھی ہوئی ہیں اس نے سوچا یہ لوگ تو انقلاب لا ہی نہیں سکتے جو خود پر توجہ نہیں دے سکتے۔وہ دوسروں پر کیا دیں گے۔ وینسے آکسفورڈ میں زیر تعلیم رہا اسے اپنے سماجی مرتبے کا بہت خیال تھا اسی لیے غیر فطری موت یعنی ان نیچرل ڈیتھ نامی ناول میں بھی وہ کھانے پکانے کی حقیقی ترکیبیں بتاتا دکھائی دیتا ہے۔ ایک جگہ اس نے کلب کا قصہ لکھا ہے۔ یہ قصہ بیان کرتے وقت اس نے ایک انتہائی اعلیٰ قسم کا ادب تخلیق کیا۔ ایک اور جاسوسی ناول مسز میک بنٹیزڈیڈ(Mrs Mcginty’s Dead) نے بھی اس نے کھانوں کی ریسپیاں بتانے میں کافی وقت صرف کیا ہے۔ بلکہ کئی ناول نگار کی تو ریسپیاں کتابوں کی شکل میں بھی سامنے آئی ہیں۔ جرائم کی دنیا کے بہترین سراغ رساں ہرکولے سے لے کر نیرووولفے ہر کوئی خوش خوراک تھے۔ کسی بھی جاسوسی کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے وہ اپنی تحقیق کا آغاز اپنے پیٹ سے کرتے تھے۔ ان خیالات کا اظہار ایک غیر ملکی جریدے میں میکن سی گریفن نے اپنی 31اگست 2017ءکی اشاعت میں کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ تھا کیا؟

اپنا تبصرہ بھیجیں