mugal_empire

سلطنت مغلیہ

EjazNews

مورلینڈ نے اپنی کتاب ’’ہند کے معاشی حالات‘‘ جلد دوم میں خاصے تفصیلی اعداد و شمار لکھ کربتایا ہے کہ شاہ جہاں کے زمانے میں سلطنت کی مال گزاری عہد اکبری کی نسبت دگنی سے زیادہ ہو گئی تھی۔ منصب اور مشاہرے جو پہلے ہی کچھ کم نہ تھے اور بڑھا دئیے گئے۔ حالانہ اجناس کے نرخ ویسے ہی ارزاں ہے جیسے پچاس ساٹھ برس پیش تر تھے۔ یورپ کے بحری تاجروں کی روز افزوں آمد سے تجارت برآمد میں معقول اضافہ ہوا اور ہندوستان کاسوتی کپڑا، ریشم ، شکر ، مرچ ، مصالحے نیل وغیرہ اشیا دور دور کے ملکوں میں دساور جانے لگیں۔ یہ سب لکھ کر یکایک مصنف نتیجہ نکالتا ہے کہ اس تمام دولت کو ارباب حکومت ہضم کر جاتے تھے، دولت پیدا کرنے والے کسان و کاری گر ننگے بھوکے رہ جاتے تھے اور ان بد نصیبوں میں فاقہ کشی بلکہ خودکشی کی نوبت پہنچ گئی تھی! تعصب اوربے جا پاس داری سے آدمی کی عقل بگڑ جاتی ہے، مورلینڈ کا قول اس کی ایک مثال ہے۔ در حقیقت ہندوستان جو دنیا کاسب سے دولت مند ملک مانا جاتا تھا، انگریزوں کے دور حکومت میں دنیا کا سب سے مفلس ملک ہو گیا۔ اس عظیم اور مہیب تغیر کی ذمہ داری ہلکی کرنے کے لئے اکثر انگریز مصنف زمانہ ماضی پر الزم دھرتے اور افلاس ہند کی بہت سی خیالی وجوہ تصنیف کرتے رہے ہیں۔ ان پر مطلق اعتنا نہ کرنی چاہئے۔ شاہ جہاں کے عہد کی مفصل تاریخیں اور معتبر کتابیں موجود ہیں خود یورپ کے بعض سیاح و تاجر بے لاگ شہادتیں دے گئے ہیں جن سے یہ قول بالکل صحیح ثابت ہوتا ہے کہ گیارھویں صدی ہجری (سترھویں صدی عیسوی) میں ممالک ہندو پاکستان جس قدر آسودہ اور خوش حال تھے، اتنے نہ کبھی پہلے تھے نہ آئندہ کبھی مال دار ہوئے ۔
آسودہ حالی کے سلسلے میں ، اُمرا کی شان و شوکت اوربادشاہی جشن و جلوس کی عینی روایتیں پڑھ کر آدمی دنگ رہ جاتا ہے کہ ان دنوں ان دولت کی کیا لہر بہر تھی۔ معلوم ہوتاتھا سونے چاندی کی گنگا بہ رہی ہے ۔ مغلیہ دربار کے تزک و احتشام نے معاصرین اور قدیم بادشاہو ں کے عیش و تجمل کے قصے پھیکے کر دئیے تھے۔ سالگرہ ، یوم جلوس، نو روز، عیدین وغیرہ پر جو مقررہ جشن منائے جاتے تھے، ان میں بلا مبالغہ کروڑوں خرچ ہو جاتا تھا۔ ایک مثال نقل کرنے، یاد رکھنے کے لائق یہ ہے کہ بادشاہ کی سب سے عزیز و با تمیز بیٹی جہاں آرا ایک خادمہ کے کپڑوں میں آگ بجھانے دوڑی تھی کہ خود اس کے کپڑوں میں آگ لگ گئی اور وہ کئی مہینے تک بیمار رہی۔ آخر خدا نے صحت دی۔ شاہ جہاں نے شفا یابی کا خاص جشن ترتیب دیا۔ شہزادی باپ کے سلام کو اپنے پاوں چل کر آئی تو سچے موتیوں کے دو طبق بھر کر صدقہ اتارا گیا۔ سرکاری تاریخ میں ان کی قیمت تیس لاکھ روپے تحریر ہے۔ جو غربا اور مساکین میں تقسیم ہوئے۔ پھر وہ حکیم جس کے مرہم سے خدا نے شفا دی تھی، سونے میں تولا گیا اور یہ سارا سونا اسے انعام ملا۔ ایک فقیر کے لیپ سے فائدہ ہواتھا۔ اسے ہم وزن چاندی ملی کہ عمر بھر کے لئے غنی ہوگیا۔ شاہی خاندان کے افراد اور عمائد و امرا نے لاکھوں روپے کے صدقا ت کے علاوہ شہزادی کو جو تحائف پیش کئے ان کی قیمت چار کروڑ روپے سے زیادہ تھی ۔ بادشاہ نے اسی نسبت سے انہیں بیش بہا خلعت اور انعام و اکرام سے نوازا ۔ کئی دن تک پائے تخت اور بڑے شہروں میں بادشاہ کی جانب سے عام ضیافت کا انتظام کیا گیا جن میں ہر فقیر و مزدور نے وہ وہ عمدہ کھانے کھائے کہ دولت مندوں کو بھی میسر نہ آتے تھے۔
یہ سب واقعات، بادشاہ نامہ ، عمل صالح، شاہ جہاں نامہ وغیرہ، نیز کچھ بعد کی تاریخوں میں مفصل مذکور ہیں۔ مگر ان کتابی شہادتوں سے قطع نظر، بادشاہ نے جو نئے شہر، قلعے اور عالی شان عمارتیں تعمیر کیں ، وہ سب اس کی عظمت و شان اور بے مثال حسن مذاق کے مرقع ہیں کہ سنگ سرخ و رخام اور مرمر و موسیٰ کے خطوط سے بنائے گئے اور دیکھنے والوں کے دل میں آج بھی حیرت و عقیدت کا جوش پیدا کر دیتے ہیں۔ اس تمام داد و دہش اور بے انداز خرچ کے باوصف دور بادشاہی ختم ہوا۔تو بیش بہا زیورات و ملبوسات اورتخت طاوس جیسے گراں بہا سامان زینت کے علاوہ خزانہ شاہ جہانی سے 24کروڑ روپے نقد ا ور تقریباً 16کروڑ روپے کا غیر مسکوک سوناچاندی اور جواہرات برآمد ہوئے جن کی قیمت اربوں کھربوں روپے تک پہنچ جاتی ہے۔
بیرونی مہمات:
پائے تخت اور ممالک سلطنت کی تزئین و آرائش کے دوران ہی میں بادشاہ کو تین بڑی مہمات پیش آئیں۔ ان میں دکن کے معرکوں کا سلسلہ ، دوسری بلخ و بدخشاں اور قندہار کی کشاکشیں تھیں جو اٹک اٹک کے 6-7سال تک جاری رہیں جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے۔ جہانگیر کے زمانے میں قندہار مغلوں کے ہاتھ سے نکل گیا۔ ان دنوں یہ شہر فقط سیب و انار اور ’’گندم سفید‘‘ ہی کے باعث مشہور نہ تھا۔ بلکہ وسط ایشیا کے تجارتی راستے یہاں سے گرتے تھے اور یہ تجارت کی بہت بڑی منڈی بن گیا تھا۔1048ھ بمطابق 1638ء میں یہاں کے ایرانی حاکم علی مرواں خاں کی اپنی مرکزی حکومت سے ان بن ہو گئی اور وہ خود بھی شاہ جہا کے دربار میں آیا اور قندہار کو بھی سلطنت مغلیہ میں گھسیٹ لایا تھا۔ آگرے میں اس کی بڑی آئو بھگت ہوئی۔ نئی دہلی (شاہ جہاں آباد) کی خوش نمائی میں اس کے حسن ذوق کا حصہ تھا اور شہر کے بڑے بازار میں وہ نہر اسی نے نکالی تھی جو موجودہ صدی کے آغاز تک چاندی چوک کا مایہ شہرت و امتیاز رہی۔ پھر بخارا کے بادشاہ نذر محمد نے مقامی رقیبوں سے تنگ آکر مغل بادشاہ سے مدد مانگی تو علی مردان خاں شہزادہ مراد کے ہمراہ نائب سپہ سالار بنا کر بلخ و بدخشاں بھیجاگیا۔ مراد لڑ جھگڑ کر واپس چلا گیا۔ شہزادہ شجاع سپہ سالار نامزد ہوا۔ وہ چھوٹے بھائی سے زیادہ عیش دوست اور کاہل تھا۔ جانے میں سال بھر تک لیت و لعل کرتارہا۔ آخر مہم کا انتظام وزیر سعد اللہ خاں اور اورنگ زیب کے تفویض کیا گیا اور یہ شہزادہ کابل سے ہندی فوج کو لے کر بدخشاں میں داخل ہوگیا۔ کئی میدان سر کئے۔ بڑے بڑے قلعوں میں ہندی فوج تعینات کر دی۔ اس شمالی ولایت کے کڑ کڑاتے جاڑے اور خون خوار ازبکوں کی آتشیں حمیت، سب گرم و سرد جھیل گیا اور آگے بڑھنے کے لئے مزید فوج ہندوستان سے طلب کی۔ واضح رہے کہ مغل بادشاہوں کو ابھی تک بلخ و بدخشاں کی تیموری میراث کا دعویٰ تھا۔ حالانکہ وہاں ایک صدی سے ازبک قوم قابض و آباد تھی ۔ تیمور کا نام بھی لوگ بھول چکے تھے۔ شاہ جہاں مدد کے حیلے سے آبائی ملک دوبارہ چھین لینے کی فکر میں تھا۔ غالباً قلعوں میں ہندی فوجو ں کے قیام سے یہ منصوبہ آشکارا ہو گیا۔ اور اسی پر نذر محمد خاں مغلوں کی مدد منگانے سے پچھتایا بلکہ ان کا ساتھ چھوڑکر نکل گیا۔ اس کی علیحدگی نے لڑائی کی نوعیت ہی بدل دی۔ ہندوکش سے بحر خزر تک ازبک قوم کے لا تعداد جنگ آزما کمانیں سنبھال سنبھال کر مغل حملہ آوروں پر امنڈ آئے۔ ان خوں ریز معرکوں میں شہزادہ اورنگ زیب نے ذاتی بہادری کے و ہ کرشمے دکھائے کہ دشمن و دوست سب کے منہ سے صدائے آفریں بلند ہوئی۔ مگر نذر محمد خاں کے غائب ہو جانے سے شاہ جہاں کو اپنی غلطی نظر آگئی۔ ثابت ہوا کہ دہلی اورآگرے سے بلخ و بخارا پر چڑھائی کرنا دریا کے بہائو کے خلاف موجو ںسے لڑنا ہے۔ لہٰذا صلح کرنے کا حکم دیا اور بلخ کو وہیں کے ایک دعوے دار کے حوالے کر کے مغل فوجیں واپس کابل چلی آئیں۔ آبائی میراث کو لینے کی اس بازی میں شاہ جہاں کا تین کروڑ سے زیادہ روپیہ خرچ ہوا۔
اس نقصان و ناکامی کاملال ابھی باقی ہوگا کہ یکایک ایرانیوں کے قندھار پر فوج کشی کی خبر آئی۔ وہ سخت جاڑے میں لمبی مار کی قلعہ شکن توپیںلے کر آئے تھے۔ اور ان کا اندازہ صحیح نکلا کہ ہندوستان سے بروقت امداد نہ پہنچ سکی۔ قلعہ دار کی نا اہلی سے دو مہینے میں یہ مستحکم قلعہ فتح ہوگیا ۔ ایرانیوں نے بہت جلد ایسی مورچہ بندی کی اور دفاعی جنگ کا اتنا بڑا ذخیرہ یہاں جمع کیا کہ پھر مغلوں کے حملے ان کا کچھ نہ بگاڑ سکے ۔ دو مرتبہ شہزادہ اورنگ زیب نے فوج کشی کی اور ناکام رہا ۔ تیسری دفعہ بڑے بھائی نے بڑے سازو سامان اور دعوئوں کے ساتھ محاصرہ کیا مگر زیادہ نقصان اٹھا کر واپس ہوا۔ قندھار مستقل طور پر مغلو ں کی دست رس سے نکل گیا۔

یہ بھی پڑھیں:  دہلی کو آباد کرنے والے لوگ کیسے تھے؟

اپنا تبصرہ بھیجیں